![]() |
| 2026 scmr 1572 |
⚖️ پہلے معاہدے کے بعد جائیداد دوبارہ فروخت ہو تو بعد والے خریدار کا کیا حق ہے؟
جائیداد کی خرید و فروخت میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مالک پہلے کسی شخص کے ساتھ معاہدۂ فروخت کر لیتا ہے، لیکن بعد میں وہی جائیداد کسی دوسرے شخص کو فروخت یا منتقل کر دیتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے خریدار کے حق پر بعد میں جائیداد خریدنے والے شخص کا کیا اثر ہوگا؟
سپریم کورٹ نے
2026 SCMR 1572
اور
PLJ 2026 SC 400
میں اس معاملے کے اہم قانونی اصول واضح کیے۔
🔹 پہلے خریدار کا معاہدہ
اگر مالک نے پہلے ہی کسی شخص کے ساتھ جائیداد فروخت کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہو اور اس کے بعد اسی جائیداد کو کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کر دیا جائے تو بعد والے خریدار کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہوگا کہ وہ قانون کے مطابق بونا فائیڈ خریدار ہے۔
یعنی وہ شخص جس نے جائیداد قیمت ادا کرکے، نیک نیتی سے اور پہلے معاہدے سے لاعلمی میں خریدی ہو۔
⚖️ صرف لاعلمی کا دعویٰ کافی نہیں
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بعد والا خریدار صرف یہ بیان دے کر بونا فائیڈ خریدار نہیں بن سکتا کہ اسے پہلے معاہدے کا علم نہیں تھا۔
اسے قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے جائیداد خریدنے سے پہلے مناسب تحقیق کی تھی اور فروخت کنندہ کے حقِ ملکیت کے بارے میں ضروری احتیاط برتی تھی۔
🔍 خریدار کو کیا تحقیق کرنی چاہیے؟
ایک محتاط خریدار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جائیداد کے متعلق ضروری معلومات حاصل کرے، فروخت کنندہ کے حقِ ملکیت کی جانچ کرے اور ایسے حالات کو نظر انداز نہ کرے جو کسی دوسرے شخص کے پہلے سے موجود حق کی طرف اشارہ کرتے ہوں۔
اگر حالات ایسے ہوں کہ ایک سمجھدار خریدار کو پہلے معاہدے یا پہلے خریدار کے حق کا علم ہونے کا امکان تھا تو بعد میں صرف لاعلمی کا دعویٰ کرنا کافی نہیں ہوگا۔
⚠️ جلد بازی اور تحقیق کا فقدان
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر جائیداد کی خریداری میں غیر معمولی جلد بازی ہو، مناسب تحقیق نہ کی گئی ہو یا ایسے حالات موجود ہوں جو پہلے خریدار کے حق کے بارے میں شک پیدا کرتے ہوں، تو بعد والا خریدار بونا فائیڈ خریدار ہونے کا تحفظ حاصل نہیں کر سکتا۔
اس لیے قانون بعد والے خریدار سے محض ایک بیان نہیں بلکہ نیک نیتی اور مناسب احتیاط کا ثبوت چاہتا ہے۔
📜 مخصوص ریلیف ایکٹ کی دفعہ 27(b)
مخصوص ریلیف ایکٹ 1877 کی دفعہ 27
(b)
کے تحت معاہدے پر عمل درآمد بعض حالات میں ایسے شخص کے خلاف بھی کیا جا سکتا ہے جو اصل فریق کے ذریعے حق حاصل کرتا ہے، تاہم ایسا منتقل الیہ جو قیمت ادا کرکے نیک نیتی سے اور اصل معاہدے سے لاعلمی میں جائیداد حاصل کرے، اسے قانونی تحفظ حاصل ہو سکتا ہے۔
لہٰذا اصل معاملہ یہ ہوتا ہے کہ بعد والا خریدار واقعی اس قانونی تحفظ کی شرائط پوری کرتا ہے یا نہیں۔
✅ فیصلے کا خلاصہ
اس مقدمے سے بنیادی اصول یہ سامنے آتا ہے کہ جائیداد کا بعد والا خریدار اگر بونا فائیڈ خریدار ہونے کا فائدہ لینا چاہتا ہے تو اسے اپنی نیک نیتی، مناسب تحقیق اور پہلے معاہدے سے لاعلمی ثابت کرنا ہوگی۔
محض یہ کہنا کہ ’’مجھے پہلے معاہدے کا علم نہیں تھا‘‘ کافی نہیں۔ عدالت معاملے کے تمام حالات، خریداری کے طریقے، تحقیق اور دستیاب شواہد کو دیکھے گی۔
⚖️ اہم قانونی اصول
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بونا فائیڈ خریدار کا دعویٰ محض دعوے سے تسلیم نہیں کیا جا سکتا؛ اسے مضبوط شواہد اور معاملے کے حالات سے ثابت کرنا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر بعد والے خریدار نے ضروری احتیاط اور تحقیق نہیں کی تو وہ مخصوص ریلیف ایکٹ 1877 کی دفعہ 27
(b)
کے تحفظ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پہلے معاہدے کے موجود ہونے کے باوجود بعد میں جائیداد خریدنے والے شخص کو اپنے حق کے تحفظ کے لیے اپنی نیک نیتی اور پہلے معاہدے سے لاعلمی ثابت کرنا ہوگی۔
📌 کیس: Mian Mohammad Mehmood Ahmed (deceased) v. Safdar Hussain
📚 حوالہ: 2026 SCMR 1572 / PLJ 2026 SC 400
⚖️ عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان
Must read judgment.
2026 scmr 1572
PLJ 2026 sc 400
The subsequent transferees are required to discharge a heavy burden to establish that they are bona fide purchasers for value without notice of the prior agreement, litigation and the rights of the earlier vendee, in terms of section 27(b) of the Specific Relief Act, 1877. The provision provides that specific performance of a contract may be enforced against any person claiming under a party thereto, except a transferee for value who has paid his money in good faith and without notice of the original contract.
It is by now well-settled that the plea of a bona fide purchaser under section 27(b) of the Specific Relief Act, 1877, cannot be accepted on mere assertion, but must be established through cogent evidence and the attending circumstances of the transaction. The subsequent vendee is required to demonstrate that he acted in good faith and with due care, having undertaken such inquiry into the title of the vendor as would be expected of a prudent purchaser. Where the surrounding circumstances disclose elements of haste, lack of inquiry or such facts as would reasonably put a purchaser on notice of a prior claim, the protection of the said provision is not attracted. In such a situation, the subsequent transferee cannot claim the status of a bona fide purchaser, and the prior agreement remains enforceable against him.
Civil Appeal No. 168-L/14 etc.
Mian Mohammad Mehmood Ahmed(deceased)Versus Safdar Hussain
