Police Character Certificate Cannot Include Acquitted Cases – Lahore High Court Judgment 2026

PLD 2026 Lahore 84


پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت شدہ مقدمات ظاہر نہ کرنے کا اصول

(PLD 2026 Lahore 84 | WP No. 40844/2025 | Abdul Rehman Faryad Vs Govt. of Punjab)
لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم اور بنیادی حقوق سے متعلق فیصلہ صادر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی شخص کو کسی فوجداری مقدمہ میں باقاعدہ طور پر بری کر دیا جائے اور یہ فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر لے، تو اس کے خلاف درج ایف آئی آر یا مقدمہ کو پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں شامل کرنا غیر قانونی، غیر منصفانہ اور آئین کے منافی ہے۔ یہ فیصلہ شہریوں کی عزت، ساکھ اور قانونی حیثیت کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
عدالت کے روبرو درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اس کے خلاف ماضی کے وہ مقدمات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں جن میں وہ عدالت سے بری ہو چکا ہے۔ اس امر سے نہ صرف اس کی پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہو رہی تھی بلکہ معاشرتی سطح پر بھی اس کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا تھا۔

عدالت کا مؤقف اور قانونی اصول

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جب کسی ملزم کو مجاز عدالت بری کر دیتی ہے تو قانون کی نظر میں وہ مکمل طور پر بے گناہ تصور کیا جاتا ہے اور اس پر لگائے گئے الزامات کا کوئی قانونی وجود باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا ایسے مقدمات کو سرکاری ریکارڈ، خصوصاً پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں ظاہر کرنا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ ایک شہری کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بریت کے باوجود کسی شہری کو مسلسل کسی ایف آئی آر یا مقدمہ سے منسلک رکھنا اس کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے اور اس پر ایک ایسا داغ چھوڑ دیتا ہے جو قانوناً ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس قسم کی پریکٹس انصاف کے تقاضوں اور ریاستی ذمہ داریوں کے خلاف ہے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر شہری کو انسانی وقار کا بنیادی حق حاصل ہے، اور کسی بری شدہ شخص کو دوبارہ کسی فوجداری الزام سے جوڑنا اس حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جب بریت کا فیصلہ حتمی ہو جائے تو ریاستی اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس شخص کے خلاف کسی بھی قسم کا منفی تاثر پیدا نہ کریں، بلکہ اس کی قانونی حیثیت کو مکمل طور پر بحال کریں۔

عدالت کا فیصلہ

عدالت نے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکم دیا کہ اسے ایسا پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے جس میں اس کی بریت کو مدنظر رکھا جائے اور اس کے خلاف کسی بھی سابقہ مقدمہ کا ذکر نہ کیا جائے، کیونکہ وہ اب کسی بھی فوجداری ذمہ داری کے تحت نہیں آتا۔

قانونی اہمیت اور اثرات

یہ فیصلہ نہ صرف درخواست گزار کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک اہم نظیر ہے۔ اس سے یہ اصول مستحکم ہوتا ہے کہ بریت کے بعد کسی شخص کو دوبارہ مجرم کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، اور ریاستی ادارے اس کے خلاف پرانے الزامات کو بنیاد بنا کر اس کی ساکھ کو متاثر نہیں کر سکتے۔
یہ فیصلہ بنیادی حقوق، خصوصاً انسانی وقار، منصفانہ سلوک اور بے گناہی کے اصول کو عملی طور پر نافذ کرنے کی ایک واضح مثال ہے، جو مستقبل میں اسی نوعیت کے مقدمات میں رہنمائی فراہم کرے گا۔

Must read judgement.


P L D 2026 Lahore 84
  
Once an accused has been acquitted by a competent court of law, he is to be considered, in the eye of law, entirely absolved of the allegations levelled against him. In such eventuality, any continuous reference or inclusion of the relevant FIR in official documents such as a character certificate, despite a conclusive acquittal of an accused is unwarranted. Such a practice not only violates the individual’s constitutionally protected right to human dignity under Article 14 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973 but also imposes a lasting and unjust stigma upon a citizen who has been exonerated through due judicial process.
once a person has been acquitted and the order has attained finality, any act by public authorities that continues to associate that individual with a criminal allegation undermines not only the acquittal itself but also the foundational principles of fairness, dignity, and presumption of innocence. Therefore, the petitioner is entitled to a Police Character Certificate that reflects his acquittal and the absence of any subsisting criminal liability.
WP 40844/25
Abdul Rehman Faryad Vs Govt. of the Punjab etc.



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Post a Comment

Previous Post Next Post