⚖️ ڈگری پر عمل درآمد کے لیے درخواستِ اجرا کی مقررہ مدت
🔹 پہلی درخواستِ اجرا کی اہمیت
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت سے ڈگری حاصل ہونے کے بعد ڈگری دار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ڈگری پر عمل درآمد کے لیے مقررہ مدت کے اندر پہلی درخواستِ اجرا دائر کرے۔
قانون کے مطابق پہلی درخواستِ اجرا دائر کرنے کے لیے تین سال کی مدت مقرر ہے۔ اس مدت کے اندر عدالت سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
⚖️ تین سال کے اندر درخواستِ اجرا ضروری
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ڈگری دار نے پہلی درخواستِ اجرا تین سال کے اندر دائر نہ کی تو وہ ڈگری پر عمل درآمد کا اپنا قانونی حق کھو دیتا ہے۔
صرف اس وجہ سے کہ اس کے حق میں ڈگری موجود ہے، وہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد پہلی مرتبہ درخواستِ اجرا دائر نہیں کرسکتا۔
🔹 بعد میں دوسری درخواستِ اجرا کا سوال
اگر ڈگری دار نے پہلی درخواستِ اجرا ہی مقررہ مدت کے اندر دائر نہیں کی تو بعد میں دوسری درخواستِ اجرا دائر کرکے اس قانونی کمی کو دور نہیں کیا جاسکتا۔
یعنی جو حق مقررہ مدت میں استعمال نہیں کیا گیا، اسے بعد کی درخواست کے ذریعے دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔
⚖️ بروقت پہلی درخواست کے بعد صورتِ حال
اگر پہلی درخواستِ اجرا تین سال کے اندر دائر کردی گئی ہو تو بعد میں دوسری درخواستِ اجرا دائر کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ قانون میں مقررہ آخری مدت کے اندر کارروائی کی جائے اور ڈگری ابھی پوری طرح پوری نہ ہوئی ہو۔
اس صورت میں پہلی درخواست کی بروقت دائرگی ڈگری دار کے حق میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
🔹 فنی وجہ سے درخواست خارج ہوجائے
اگر پہلی درخواستِ اجرا مقررہ مدت کے اندر دائر کی گئی تھی لیکن کسی فنی وجہ سے خارج ہوگئی تو صرف اس اخراج سے ڈگری دار کا حق لازماً ختم نہیں ہوجاتا۔
اہم بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ عدالت سے رجوع مقررہ مدت کے اندر کیا گیا تھا۔
⚖️ دیر سے دائر ہونے والی پہلی درخواست
اگر پہلی درخواستِ اجرا ہی تین سال کی مدت گزرنے کے بعد دائر کی گئی ہو تو یہ بنیادی قانونی نقص ہے۔
بعد میں دوسری درخواست دائر کرکے اس نقص کو دور نہیں کیا جاسکتا۔
🔹 مقررہ آخری مدت کا مقصد
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ متعلقہ قانونی شق پہلی درخواستِ اجرا دائر کرنے کی تین سالہ مدت میں اضافہ نہیں کرتی۔
یہ شق ان کارروائیوں کے لیے آخری حد مقرر کرتی ہے جو پہلے ہی قانون کے مطابق مقررہ مدت میں شروع کی جاچکی ہوں۔
✅ اہم قانونی اصول
🔹 پہلی درخواستِ اجرا تین سال کے اندر دائر کرنا ضروری ہے۔
🔹 پہلی درخواست مقررہ مدت میں دائر نہ ہو تو بعد کی درخواست سے کمی پوری نہیں ہوسکتی۔
🔹 بروقت دائر کی گئی پہلی درخواست فنی وجہ سے خارج ہو تو معاملہ مختلف ہوسکتا ہے۔
🔹 بعد کی درخواست بھی مقررہ آخری مدت کے اندر ہونی چاہیے۔
🔹 ڈگری کا موجود ہونا مقررہ مدت کی پابندی ختم نہیں کرتا۔
⚖️ خلاصہ
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ڈگری دار کو اپنی پہلی درخواستِ اجرا مقررہ تین سال کے اندر دائر کرنا لازم ہے۔ اگر وہ مقررہ مدت میں عدالت سے رجوع کرلے تو بعد کی درخواست کے لیے قانونی راستہ برقرار رہ سکتا ہے، لیکن اگر پہلی درخواست ہی تاخیر سے دائر کی جائے تو بعد میں دوسری درخواست کے ذریعے اس قانونی رکاوٹ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
Must read judgement.
2026 SCMR 1785
Whether a decree holder who fails to file the first execution petition within the statutory period of three years as required by Article 181 of the Limitation Act, 1908, loses the statutory right to seek execution and consequently cannot file any subsequent petition by invoking the provisions of Section 48 ofthe CPC.
It is by now settled that the right to execute a decree iscircumscribed by statutory limitation and must be exercisedstrictly within the framework provided by the Limitation Act, 1908(“the AcVf The decree-holder is required to file the first petitionfor execution of a decree within a period of three years from thedate when the right to apply accrues. This is the mandatoryrequirement. The law is equally settled that Section 48 CPC doesnot enlarge or override the period provided for the first executionpetition, rather it provides an outer limit for execution proceedingsonce properly initiated in accordance with law.
i. If the first execution petition was not instituted within three years as stipulated under Article 181 of the Act,the decree-holder loses the statutory right to seek execution, and no subsequent petition can be sustained by invoking the provisions of Section 48 CPC.
ii. If the first execution petition was filed within the stipulated period of three years, the subsequent execution petition may be maintained, provided it falls within the outer limit contemplated under Section 48CPC and the decree remained unsatisfied.
iii. Dismissal of the first execution petition on technical grounds does not ipso facto extinguish the decreeholder’s right, provided the initial invocation of jurisdiction was within the stipulated period. If the first execution petition itself was time-barred, the defect is fatal and cannot be cured by filing a second petition by invoking the provisions of Section 48 CPC.
Civil Petition No. 4530 of 2024
Rasheed (deceased) through LRs and others VersusMuhammad Azam Khan and others
