پردہ نشین عورت نے ھبہ کیا۔

Parda Nashin Women and Fraudulent Gift: Lahore High Court Judgment 2026 CLC 1454 پردہ نشین خواتین کی موروثی جائیداد کا مبینہ ہبہ، فراڈ اور بعد کے خریدار — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ 2026 CLC 1454 لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمے میں پردہ نشین خواتین کی موروثی جائیداد سے متعلق مبینہ ہبہ، فراڈ، رضامندی اور بعد میں جائیداد خریدنے والے افراد کے حقوق کا جائزہ لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہبہ کا دعویٰ کرنے والے فریق پر لازم ہے کہ وہ ہبہ کے بنیادی ارکان کو قانون کے مطابق ثابت کرے۔ محض کسی دستاویز پر انگوٹھے کا نشان موجود ہونا ہر صورت میں درست اور رضاکارانہ ہبہ کا ثبوت نہیں بنتا۔ مقدمے کا پس منظر مقدمے میں مدعی خواتین کا تعلق درخواست گزاروں کے پیش رو سے بطور حقیقی بہنوں کا تھا۔ خواتین نے اپنی موروثی جائیداد کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ان کے نام سے ہبہ اور اس کے بعد جائیداد کی منتقلی کے دستاویزات فراڈ کے ذریعے حاصل کیے گئے۔ خواتین کا مؤقف تھا کہ وہ پردہ نشین خواتین تھیں اور ان سے خالی کاغذات پر انگوٹھے لگوا لیے گئے، جبکہ انہیں ان کاغذات کے اصل مقصد اور ان کے ذریعے ہونے والے لین دین سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے خواتین کے حق میں فیصلہ دیا، جسے اپیلٹ کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ اس کے بعد ہبہ لینے والے اور بعد کے خریداروں کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں سول ریویژنز دائر کی گئیں۔ ہبہ کی صحت ثابت کرنے کی ذمہ داری کس پر تھی؟ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ impugned gift transactions یعنی متنازعہ ہبہ کو درست ثابت کرنے کی ابتدائی ذمہ داری درخواست گزاروں اور متعلقہ فریقوں پر تھی۔ عدالت نے ہبہ کے بنیادی ارکان کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ ایجاب، قبول اور قبضہ ہبہ کے اہم اجزاء ہیں۔ لیکن درخواست گزاروں نے اپنے تحریری جواب میں ان معاملات کو ضروری تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیا تھا۔ خاص طور پر ہبہ کے لین دین کی تاریخ، وقت اور جگہ کے حوالے سے مطلوبہ تفصیلات موجود نہیں تھیں۔ عدالت نے اس صورتحال میں قرار دیا کہ جب کسی اہم لین دین کے بنیادی حقائق ہی تحریری طور پر مناسب انداز میں بیان نہ کیے گئے ہوں تو بعد میں انہیں محض ثبوت کے ذریعے قائم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ پردہ نشین خواتین کی رضامندی کیوں اہم تھی؟ اس مقدمے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ متعلقہ خواتین پردہ نشین تھیں اور ان کے انگوٹھے ایسے کاغذات پر لیے گئے جن کے اصل مقصد کے بارے میں ان کا مؤقف تھا کہ انہیں علم نہیں تھا۔ عدالت نے اس پہلو کو اہم قرار دیا کہ کسی خاتون کا انگوٹھا کسی دستاویز پر موجود ہونا بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس نے لین دین کی مکمل حقیقت جانتے ہوئے آزادانہ رضامندی ظاہر کی تھی۔ اگر لین دین کا اصل مقصد ہی خاتون سے چھپایا گیا ہو تو اس کی آزاد مرضی اور رضامندی پر سوال پیدا ہوتا ہے۔ بعد کے خریداروں کا دفاع مقدمے میں بعض فریق ایسے بھی تھے جنہوں نے بعد میں متنازعہ جائیداد خریدی تھی۔ ان کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ bona fide purchasers for value without notice یعنی قیمت ادا کرکے نیک نیتی سے اور سابقہ تنازع یا خرابی سے لاعلمی میں جائیداد خریدنے والے خریدار تھے۔ تاہم عدالت نے بنیادی ہبہ ہی کی صحت کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ جب اصل ہبہ کو قانون کے مطابق ثابت نہیں کیا جا سکا تو بعد کے لین دین کے دفاع کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔ کورٹ فیس کی کمی پر بھی اہم اصول اس فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ نے کورٹ فیس کے حوالے سے بھی ایک اہم قانونی اصول بیان کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کورٹ فیس کی ادائیگی کا معاملہ بنیادی طور پر مدعی اور عدالت کے درمیان ہوتا ہے اور اس کا مقصد سرکاری ریونیو حاصل کرنا ہے۔ کورٹ فیس کی کمی کا مقدمے کے اصل میرٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا کسی فریق کو محض کورٹ فیس میں کمی کی وجہ سے اس کے مقدمے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ قانونی اور factual aspects کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار متنازعہ ہبہ کی صحت کو مطلوبہ قانونی معیار کے مطابق ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے یہ بھی دیکھا کہ لین دین کا مقصد خواتین سے پوشیدہ رکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی آزاد مرضی اور حقیقی رضامندی ثابت نہیں ہوئی۔ چنانچہ لاہور ہائی کورٹ نے دائر کی گئی سول ریویژنز خارج کر دیں اور ماتحت عدالتوں کی جانب سے خواتین کے حق میں دیے گئے فیصلوں کو برقرار رکھا۔ اہم قانونی نکات لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ہبہ کا دعویٰ کرنے والے فریق پر ہبہ کی صحت ثابت کرنے کی ابتدائی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ایجاب، قبول اور قبضہ ہبہ کے بنیادی ارکان ہیں اور انہیں مناسب طور پر ثابت کرنا ضروری ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ہبہ کے بنیادی حقائق تحریری جواب میں ضروری تفصیل کے ساتھ بیان نہ کیے جائیں تو بعد میں انہیں ثبوت کے ذریعے ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پردہ نشین خاتون کی رضامندی کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسے لین دین کی حقیقت اور مقصد کا علم تھا یا نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض انگوٹھے کا نشان موجود ہونا ہر صورت میں آزادانہ اور حقیقی رضامندی کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بعد میں جائیداد خریدنے والے شخص کے bona fide purchaser ہونے کے دعوے کا جائزہ بھی اصل لین دین کی قانونی حیثیت کے تناظر میں لیا جائے گا۔ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ کورٹ فیس میں کمی کی بنیاد پر کسی فریق کو محض اسی وجہ سے مقدمے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ منفرد نکتہ پردہ نشین خاتون کے انگوٹھے کا نشان کافی نہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اسے دستاویز اور لین دین کی حقیقت کا علم تھا اور اس نے آزاد مرضی سے رضامندی دی تھی یا نہیں۔ حوالہ Amanat Ali (deceased) through Legal Heirs and others v. Mst. Khurshid Bibi (deceased) through Legal Heirs and others, 2026 CLC 1454, Lahore High Court. Hashtags #2026CLC1454 #LahoreHighCourt #PardaNashinWomen #GiftDeed #FraudInGift #InheritanceRights #PropertyLaw #BonaFidePurchaser #PakistaniLaw #LegalHelp1

پردہ نشین خواتین سے مبینہ فراڈ کے ذریعے ہبہ، لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ 2026 CLC 1454 — لاہور…

Load More
That is All