G-KZ4T1KYLW3 Res Judicata and Recurring Bills: Lahore High Court Ruling on Amaan Knitwear vs. Sui Northern Gas

Res Judicata and Recurring Bills: Lahore High Court Ruling on Amaan Knitwear vs. Sui Northern Gas

Res Judicata and Recurring Bills: Lahore High Court Ruling on Amaan Knitwear vs. Sui Northern Gas.

ممنوعہ از دوبارہ دعویٰ اور مسلسل بلز: امان نٹ ویئرز بمقابلہ سوئی نادرن گیس پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ


لاہور ہائی کورٹ کے ایک اہم فیصلے میں ممنوعہ از دوبارہ دعویٰ (Res Judicata) کے اصول اور مسلسل بلز کی بنیاد پر دائر کیے جانے والے مقدمات پر غور کیا گیا۔ یہ کیس امان نٹ ویئرز، ایک ٹیکسٹائل یونٹ، اور سوئی نادرن گیس پائپ لائن کے درمیان تھا، جس میں اپیل کنندہ نے 18 لاکھ 88 ہزار 620 روپے کے گیس بل کو چیلنج کیا تھا۔

کیس کا جائزہ:


مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب امان نٹ ویئرز نے ایک مہینے کے گیس بل کو عدالت میں چیلنج کیا۔ تاہم، اس سے قبل اسی بل اور اسی مسئلے پر ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا جسے گیس یوٹیلیٹی کورٹ نے دیوانی ضابطہ کے آرڈر XVII رول 3 کے تحت خارج کر دیا تھا کیونکہ اپیل کنندہ شہادت پیش کرنے میں ناکام رہا تھا، باوجود اس کے کہ اسے بار بار مواقع دیے گئے تھے۔

پہلے مقدمے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بجائے، امان نٹ ویئرز نے پانچ ماہ بعد نیا مقدمہ دائر کیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ پچھلے مقدمے میں وکیل کی غفلت کی وجہ سے شہادت پیش نہیں ہو سکی تھی، اس لیے نیا مقدمہ دائر کرنا جائز ہے۔ مزید برآں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ ہر نیا بل پچھلے بل کی بقایا جات کو شامل کرتا ہے، اس لیے ہر نیا بل ایک نیا سببِ دعویٰ پیدا کرتا ہے۔

قانونی نقطہ نظر:


مقدمے کا اصل قانونی مسئلہ یہ تھا کہ کیا ممنوعہ از دوبارہ دعویٰ (Res Judicata) کا اصول لاگو ہوتا ہے، جو اس بات کو روکتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ مسائل کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالت کا فیصلہ:


لاہور ہائی کورٹ نے اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ذیل میں ذکر کردہ نکات پر فیصلہ دیا:


1. ممنوعہ از دوبارہ دعویٰ کا اطلاق: عدالت نے کہا کہ پہلے مقدمے کا فیصلہ آرڈر XVII رول 3، سی پی سی کے تحت خارج ہونے کے باوجود "فیصلہ بر میرٹ" (Decision on Merits) سمجھا جائے گا۔ اس لیے ممنوعہ از دوبارہ دعویٰ کا اصول دوسرے مقدمے پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ نئے بلز کے حوالے سے ہو۔


2. کوئی نیا سببِ دعویٰ نہیں: عدالت نے کہا کہ جب پہلے بل کا فیصلہ ہو چکا تھا، تو اس کے بعد کے بلوں میں پچھلے بل کی رقم کی صرف بقایا جات کا ذکر ہوتا تھا، جو نیا سببِ دعویٰ پیدا نہیں کرتا۔ اس لیے اپیل کنندہ کو نئے بل کو دوبارہ چیلنج کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔


3. پہلے فیصلے کو چیلنج نہ کرنا: اپیل کنندہ نے پہلے مقدمے کے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا، جس کے باعث وہ فیصلہ حتمی ہو چکا تھا، اور اس کی بنیاد پر نیا مقدمہ دائر کرنا قانوناً درست نہیں تھا۔


4. گیس یوٹیلیٹی کورٹ کا فیصلہ درست: عدالت نے کہا کہ گیس یوٹیلیٹی کورٹ کا فیصلہ بالکل درست تھا، کیونکہ اس نے ممنوعہ از دوبارہ دعویٰ کے اصول کے تحت مقدمے کو خارج کیا تھا۔

قانونی اثرات:


اس فیصلے نے ممنوعہ از دوبارہ دعویٰ (Res Judicata) کے اصول کی اہمیت کو مزید واضح کیا ہے، جو پہلے ہی طے شدہ مسائل کو دوبارہ پیش کرنے سے روکتا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ جب ایک بل عدالت میں چیلنج ہو اور فیصلہ ہو جائے، تو اس کے بعد کے بلوں میں صرف بقایاجات کا ذکر کرنے سے نیا قانونی جواز نہیں پیدا ہوتا۔

کاروباری اداروں کے لیے یہ ایک اہم سبق ہے کہ اگر وہ کسی بل کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو انہیں جلدی فیصلہ کرنا چاہیے اور تمام ضروری شہادتیں فراہم کرنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ، یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر ایک فیصلہ ہو جائے، تو اس کے بعد اسی مسئلے کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

نتیجہ:

خلاصہ یہ کہ لاہور ہائی کورٹ نے ممنوعہ از دوبارہ دعویٰ کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے اپیل کو مسترد کر دیا اور گیس یوٹیلیٹی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ یہ فیصلہ اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ جب کسی مقدمے کا فیصلہ ہو چکا ہو، تو اسی موضوع پر دوبارہ مقدمہ دائر کرنا قانونی طور پر درست نہیں ہوتا

Must read judgement 


Citation Name : 2025 YLR 405 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : Amaan Knitwear's
Side Opponent : Sui Northern Gas Pipe Line
S. 11 & O.XVII, R.3---Gas (Theft Control and Recovery) Act (XI of 2016), Ss. 4 & 13---Res judicata, principle of---Scope---Gas Utility Court dismissed the suit for declaration etc, filed by the appellant (Knitwear Unit) was hit by principle of res judicata---Objection raised by the respondents (Gas Company) was that previously on the same subject matter an identical suit instituted by the appellant against the respondents, was dismissed---Validity---Record revealed that the bill amounting to Rs. 18,888,620/- of one month issued by the respondents was challenged by the appellant through the present lis---Admittedly, on the same subject an identical suit was instituted by the appellant, butthe same (suit) was dismissed under O. XVII, R. 3, C.P.C since appellant failed to produce its evidence despite repeated opportunities---Instead of challenging the said judgment, appellant, after about five months of said dismissal, opted to file a fresh suit (present lis)---Appellant admitted the dismissal of the previous suit yet asserted the maintainability of the fresh/second suit, attributing the dismissal to the counsel, who was representing the appellant in the previous suit, confending that he (counsel) did not inform regarding production of evidence---Thus, on the same subject matter, previously filed identical suit stood dismissed for want of evidence and the said judgment and decree was never assailed by the appellant before any court or fora, hence, the same had attained finality---Sufficient opportunities were afforded to the appellant for producing his evidence and defending his case in the previous round of litigation but the appellant had failed to do so, hence, the appellant could not be allowed to re-open a past and closed chapter in a fresh/new suit---Hence, the subsequent suit filed by the appellant was squarely hit by principle of res judicata as envisaged in S.11, C.P.C.---Utility Court had rightly passed the impugned order and decree ---No substantial error or defect of law had been noticed in the impugned order and decree passed by the Gas Utility Court---Appeal,being merit-less, was dismissed.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































1 Comments

  1. Appeal should be filed against 17/3. Along with confirmation of delay

    ReplyDelete
Previous Post Next Post