High Court's Suo Motu Power to Add Omitted Party in Appeal After Limitation Expiry | 2025 PLD 21 Peshawar High Court.
پشاور ہائی کورٹ کا suo motu اختیار: مدت کی ختم ہونے کے بعد اپیل میں فریق کو شامل کرنا
(2025 PLD 21)
پشاور ہائی کورٹ کا 2025 کا فیصلہ قانونی تاریخ میں ایک اہم نقطہ نظر کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں عدالت نے اپنے suo motu (خود بخود) اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ایک فریق کو اپیل میں شامل کیا، حالانکہ اس کی شمولیت کی مدت ختم ہو چکی تھی۔ یہ فیصلہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ عدالت کو کیسے اور کب اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کر سکتی ہے۔
کیس کی تفصیل:
کیس میں درخواست گزار نیاز محمد نے محمد نوید خان کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ تاہم، اپیل میں ایک مدعا علیہ کی شمولیت نہیں کی گئی تھی اور اس کی مدت بھی گزر چکی تھی۔ درخواست گزار نے اس بنیاد پر اعتراض کیا کہ مدعا علیہ کو اپیل میں شامل نہ کرنے کی وجہ سے اس کا حق متاثر ہو رہا تھا۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ:
پشاور ہائی کورٹ نے اس کیس میں اہم قانونی نکات پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ اگر کسی فریق کو غلطی سے اپیل میں شامل نہ کیا جائے، تو عدالت کو suo motu اختیار حاصل ہے کہ وہ اس فریق کو اپیل میں شامل کرے، چاہے مدت کی مدت گزر چکی ہو۔ عدالت نے دفعہ 153 سی پی سی (سول پروسیجر کوڈ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کو محض پروسیجر کی تکنیکی خرابی کی بنا پر انصاف سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
قانونی اصول:
ہائی کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مقدمے میں ضروری ترامیم کر سکتی ہے تاکہ اصل مسئلہ یا سوال کا فیصلہ کیا جا سکے۔ اس فیصلے کے ذریعے عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ قانون کی تکنیکی خامیوں کو انصاف کی فراہمی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
نتیجہ:
پشاور ہائی کورٹ نے اپنے suo motu اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اس فریق کو اپیل میں شامل کیا اور اپیل کو منظور کر لیا۔ اس فیصلے نے اس بات کو واضح کیا کہ عدالت کو ان معاملات میں فعال کردار ادا کرنے کا اختیار حاصل ہے جہاں فنی وجوہات کی بنا پر کسی فریق کو غیر قانونی طور پر محروم نہیں کیا جا سکتا۔
خلاصہ:
یہ فیصلہ ایک اہم قانونی پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ عدالتوں کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ کیسز میں تکنیکی خرابیوں کو دور کر کے فریقین کو انصاف فراہم کریں، چاہے وہ کیس اپیل کی سطح پر ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح کے فیصلے انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بناتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ عدالتیں فنی خامیوں کے باوجود حقیقی مسائل کے حل میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔
Must read judgement
High Court's Suo Motu Power to Add Omitted Party in Appeal After Limitation Expiry | 2025 PLD 21 Peshawar High Court
Citation Name : 2025 PLD 21 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : NIAZ MUHAMMAD
Side Opponent : MUHAMMAD NAVEED KHAN
O. XLI, Rr.1 & 20 & S.153---Limitation Act (IX of 1908), S.22---Suo motu power of High Court to implead a party---Scope---Plea of non-impleadment of one of defendants as a respondent in the appeal after the expiry of period of limitation---Validity---Appeal, which is the continuation of suit, is a document of accusation for judicial examination by higher forum---Where a party is not impleaded inadvertently, the High Court is empowered to act suo motu or on the behalf of party irrespective of the provisions of S.22 of the Limitation Act, 1908---Section 153, C.P.C., preserves the power of the Court to amend, inter alia, any proceedings in a suit or all necessary amendments at any time for the purpose of determining the real question or issue and a party should not be denied relief on account of mere technicalities in the procedural law, which is intended and designed to foster the cause of justice and not to defeat it---This power can be exercised at any time during pendency of the lis and even after the passage of the decree at the appellate stage---High Court while exercising suo motu power impleaded the omitted defendant as respondent and allowed the appeal accordingly.
