![]() |
عدالتی فیس کی کمی پر اپیل خارج نہیں ہو سکتی، لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
عدالتی مقدمات میں بعض اوقات مطلوبہ عدالتی فیس مکمل جمع نہ ہونے کی وجہ سے قانونی پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی فریق مقررہ مدت کے اندر اپیل دائر کر دے لیکن عدالتی فیس میں کمی رہ جائے تو کیا عدالت اس کی اپیل خارج کر سکتی ہے؟
لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے اس اہم قانونی سوال کا جواب دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالتی فیس کی کمی ایک قابلِ اصلاح نقص ہے اور عدالت کو اپیل خارج کرنے سے پہلے متعلقہ فریق کو کمی پوری کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
مقدمے کے حقائق
شمیم بی بی نے نیاز احمد کے خلاف معاہدے کی تکمیل کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہو کر انہوں نے اس کے خلاف مقررہ قانونی مدت کے اندر اپیل دائر کر دی، تاہم اپیل کے ساتھ مطلوبہ عدالتی فیس مکمل طور پر جمع نہیں کروائی گئی۔
اپیلیٹ کورٹ نے عدالتی فیس کی کمی کو بنیاد بناتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔ اس فیصلے کے خلاف شمیم بی بی نے لاہور ہائی کورٹ میں دوسری اپیل دائر کی۔
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
جسٹس سید احسن رضا کاظمی نے مقدمے کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 149 عدالت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ عدالتی فیس کی کمی پوری کرنے کے لیے متعلقہ فریق کو مہلت دے سکتی ہے۔
اسی طرح آرڈر 7 رول 11 شق (ج) کے تحت بھی عدالتی فیس کی کمی دور کرنے کے لیے موقع فراہم کرنے کا طریقہ کار موجود ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ان دونوں قانونی دفعات کا مقصد یہ ہے کہ طریقہ کار کی پابندی بھی برقرار رہے اور کسی قابلِ اصلاح غلطی کی وجہ سے فریق کو انصاف کے حصول سے محروم بھی نہ کیا جائے۔
عدالتی فیس کی کمی پر اپیل خارج کرنے کا اختیار کب استعمال ہوگا؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ کسی مقدمے یا اپیل کو عدالتی فیس کی کمی کی بنیاد پر مسترد کرنے سے پہلے فریق کو مطلوبہ فیس جمع کروانے کا مناسب موقع دینا ضروری ہے۔
اگر فریق کو موقع دینے کے باوجود وہ مقررہ مدت میں عدالتی فیس کی کمی پوری نہیں کرتا تو قانون کے مطابق دستاویز مسترد کی جا سکتی ہے۔
موجودہ مقدمے میں اپیل مقررہ قانونی مدت کے اندر دائر کی گئی تھی اور عدالتی فیس کی کمی کے پیچھے بدنیتی یا دانستہ تاخیر کا کوئی عنصر ثابت نہیں ہوا تھا۔
لہٰذا اپیلیٹ کورٹ کا اپیل کو براہِ راست خارج کرنا درست قانونی طریقہ کار نہیں تھا۔
بعد میں جمع ہونے والی عدالتی فیس کا اثر
عدالت نے وضاحت کی کہ دفعہ 149 ضابطہ دیوانی کے تحت جب عدالتی فیس کی کمی پوری کرنے کی اجازت دی جائے اور مطلوبہ فیس جمع کرا دی جائے تو ایسی ادائیگی عدالت کے حکم کے مطابق اصل تاریخِ دائرگی سے مؤثر ہو سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ محض ابتدائی طور پر عدالتی فیس کم جمع ہونے کی وجہ سے کسی بروقت دائر کردہ اپیل کو لازماً مدت سے باہر تصور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے اپیل منظور کر لی
لاہور ہائی کورٹ نے اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیصلے کے لیے واپس بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ اپیل کنندہ کو مطلوبہ عدالتی فیس جمع کروانے کا موقع فراہم کیا جائے، جس کے بعد اپیل کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے۔
اہم قانونی اصول
اس فیصلے سے یہ قانونی اصول سامنے آتا ہے کہ عدالتوں کو محض طریقہ کار کی ایسی غلطیوں کی بنیاد پر انصاف کے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں جنہیں قانون کے تحت درست کیا جا سکتا ہو۔
اگر کوئی اپیل مقررہ مدت میں دائر کی گئی ہے اور اس میں صرف عدالتی فیس کی کمی رہ گئی ہے تو عدالت کو پہلے اس کمی کو پورا کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
قانون کا مقصد انصاف فراہم کرنا ہے، نہ کہ قابلِ اصلاح طریقہ کار کی غلطیوں کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنانا۔
حوالہ مقدمہ: 2026 CLC 1645
مقدمہ: شمیم بی بی بنام نیاز احمد
عدالت: لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ
فیصلہ کی تاریخ: 24 ستمبر 2025
متعلقہ قانونی دفعات: دفعہ 149 اور آرڈر 7 رول 11 شق (ج)، ضابطہ دیوانی 1908۔
Must read the judgment.
2026 CLC 1645
[Lahore (Multan Bench)]
Before Syed Ahsan Raza Kazmi, J
SHAMIM BIBI-Appellant
Versus
NIAZ AHMAD -Respondent
R.S.A. No. 188 of 2016, heard on 24th September, 2025.
(a) Civil Procedure Code (V of 1908)...
omply 5. 149 & O. VII. R. 11(c)--Deficiency in Court t fee-Pro fee-Procedure---Procedural mechanism is provided under O. VII, R. 11(c). C.P.C. for affording opportunity, while $149. CPC provides substantive authority to regularize the document once dominais achieved Rejection contemplated by O. VII. R. 11(c), C.P.C. operates only ly when the litigant, despite opportunity under $.149, fails to comply within the time prescribed---B provisions are be construed as mutually reinforcing, ensuring procedural discipline as well as remedial flexibility
(b) Civil Procedure Code (V of 1908).
12-5 -5s. 96, 100, 148 & 149 & O. VII, R. 11--Specific Re Relief Act (I of 1877), S. 12 12-Second appeal-Suit for specific performance of warsangrieved of judgment and det passet by the Trial Court and the appeal but the Lower Appellate Court dismissed thefendant due to deficient court fee-Validity-Appeal was filed within limitation--Deficiency of court-fee was procedural and not accompanied by any elem ed within limitation-Deficiency of court-fee was procedural and not accompanied ith or deliberate delay-Low by aty element of bad faith ement of bad faith or deliberate delay Lower Appellate Court dismissed the appeal outright as time-barred solely on the ground that requisite court-fee had not been affixed at the time of hling Such approach reflected misunderstanding of statutory framework and conveyed an impression that discretion under de was optional and could be bypassed This view is inconsistent with Court-fee could be cured under $149. CPC and payment when made, would relate back to the date of filing order rt-fee could be cured under 5.149, C.P.C. and payment, when made, woul ould relate back to the date of filing-Order of the Lower Appellate Court suffered from jurisdictional error by treating a curable irregularity as a fata refusal to exercise jurisdiction veste ested by law Office of the Lower Appellate Court, while entertaining the appeal, did not raise any attributable for the figh Court aside of the Lower Appella Court pd remanded the matter for decision fresh on merits after granting opportunity to deposit requisite court fee-Second appeal was allowed, in circumst metter for decision ining the appeal did not
Syed Zahid Hussain Shah v. Mumtaz Ali and others PLD 2023 SC 470; Siddique Khan and 2 others v. Abdul Shakur Khan and another PLD 1984 SC 289: Muhammad Tariq and others v. Amjad Ali and others PLD 2018 Lah. 502; Muhammad Hanif and others v. Muhammad and others PLD 1990 SC 859; Assistant Commissioner and and L.A.C., Badin v. Haji Abdul Shakoor 1997 SCMR 919; Habib Akbar v. Pir Azam Syed 2017 YLR 26; Kh. Muhammad Fazil v. Mumtaz Munnawar Khan Niazi 2024 SCMR 1059; Sardar Muhammad Kazim Ziauddin Durrani v. Sardar Muhammad Asim Durrani 2001 SCMR 148 and Provincial Government of Balochistan v. Abdullah Jan 2009 SCMR 1378 ref.
Tajammal Hussain Awan for Appellant.
Muhammad Arif Khan for Respondent.
