![]() |
سول مقدمے میں فہرستِ گواہان میں نام شامل نہ ہونے کے باوجود گواہ کی شہادت ریکارڈ ہو سکتی ہے؟ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
سول مقدمات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ فریقین مقدمے کے دوران ایسے گواہ پیش کرنا چاہتے ہیں جن کے نام مقررہ مدت میں عدالت میں جمع کرائی گئی فہرستِ گواہان میں شامل نہیں ہوتے۔ بعض اوقات ماتحت عدالتیں محض فہرست میں نام موجود نہ ہونے کی بنیاد پر ایسے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے سے انکار کر دیتی ہیں۔
تاہم ہائی کورٹ نے اپنے اہم فیصلے
2026 YLR 2511
میں اس قانونی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہر غیر فہرست شدہ گواہ کی شہادت پر پابندی نہیں ہے۔
آرڈر XVI رول 1 ضابطہ دیوانی کیا کہتا ہے؟
آرڈر XVI رول 1(1)
CPC
کے تحت فریقین کو مسائل طے ہونے کے بعد سات دن کے اندر ان گواہوں کی فہرست جمع کرانی ہوتی ہے جنہیں وہ اپنی شہادت کے لیے پیش کرنا چاہتے ہیں۔
اسی آرڈر کے رول 1(2) کے مطابق فہرست میں شامل نہ ہونے والے گواہ کو عدالت کی اجازت اور عدم شمولیت کی معقول وجہ بتائے بغیر طلب نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن قانون کی ایک دوسری اہم شق آرڈر
XVI رول 7 CPC
بھی موجود ہے، جس کے تحت عدالت میں موجود کسی بھی شخص کو شہادت دینے یا اپنے قبضے میں موجود دستاویز پیش کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔
ہائی کورٹ نے کیا قانونی فرق واضح کیا؟
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ آرڈر
XVI
رول 1(2) کی پابندی ان گواہوں کے متعلق ہے جنہیں عدالت کے ذریعے سمن جاری کروا کر بلایا جانا ہو۔
اس پابندی کا اطلاق ایسے گواہوں پر نہیں ہوتا جنہیں فریق خود اپنی ذمہ داری پر عدالت میں پیش کرے، یعنی جنہیں بلانے کے لیے عدالت کے سمن جاری کرنے کے اختیار سے رجوع نہ کیا گیا ہو۔
لہٰذا اگر کوئی گواہ خود عدالت میں موجود ہے اور فریق اسے شہادت کے لیے پیش کرتا ہے تو صرف اس وجہ سے اس کا بیان ریکارڈ کرنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا نام پہلے سے جمع کرائی گئی فہرست میں شامل نہیں تھا۔
ماتحت عدالتوں کا حکم کالعدم
مذکورہ مقدمے میں مدعی نے اپنے گواہ خود عدالت میں پیش کیے تھے، لیکن ماتحت عدالتوں نے آرڈر
XVI رول 1(2) CPC
کا اطلاق کرتے ہوئے ان کے بیانات ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی۔
ہائی کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے دونوں احکامات کالعدم کر دیے اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ اگر مدعی مذکورہ گواہوں کو پیش کرے تو ان کی شہادت ریکارڈ کی جائے اور پرانے مقدمے کا فیصلہ دو ہفتوں میں مکمل کیا جائے۔
وکلاء اور مقدمہ بازوں کے لیے اہم قانونی اصول
اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ فہرستِ گواہان میں نام شامل نہ ہونے اور گواہ کو عدالت کے ذریعے طلب کرنے میں قانونی فرق موجود ہے۔
اگر فریق خود گواہ کو عدالت میں پیش کر رہا ہو تو محض فہرست میں نام نہ ہونے کی بنیاد پر اس کی شہادت روکنا درست نہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر غیر فہرست شدہ گواہ کو بلاشرط پیش کرنے کا حق حاصل ہے؛ عدالت کے قانونی اختیارات اور متعلقہ حالات بدستور اہم رہیں گے۔
حوالہ قانون: Order XVI Rules 1(1), 1(2) & 7 CPC
حوالہ فیصلہ:
2026 YLR 2511
Must read judgment.
Whether a witness, present in Court but not named in the list of witnesses, required to be submitted within prescribed time, can lawfully be examined or not.......?
- Relevant Order XVI Rules 1 (1)
(2) and 7 C.P.C. are hereby reproduced as under:
"ORDER XVI: SUMMONING AND ATTENDANCE OF WITNESSES
- Summons to attend to give evidence or produce document.
(1) Not later than seven days after the settlement of issues, the parties shall present in Court a [certificate of readiness to produce evidence, along with al list of witnesses whom they propose to call either to give produce evidence documents. or to
10 (2) A party shall not be permitted call witnesses other than those contained in the said list, except with the permission of the Court and after showing good cause for the omission of the said witnesses from the list; and if the Court grants such permission, it shall reasons for so doing. record
-
Power to require persons present in Court to give evidence or produce document. Any person present in Court may be required by the Court to give evidence or to produce any document then and there in his possession or power."
-
In view of above, it is crystal clear that embargo under Sub-Rule (2) of Rule 1 of Order XVI C.P.C. (reproduced above) is limited only to the witnesses who are to be summoned the through the Court and does not extend to the witnesses who are to be produced voluntarily without involving summoning powers of the Court, rather parties to the suit can produce their witnesses on their own before learned trial Court to record their statements alien to the list of witnesses required to be submitted within stipulated period under Sub-Rule (1) of Rule 1 of Order XVI C.P.C. (reproduced above).
A 6. In present case, plaintiff(s) without invoking the provisions of Order XVI Rules 1 (1) and (2) C.P.C. to call witnesses through the Court himself produced them before learned trial Court but both learned Courts below while invoking the provisiona of Sub-Rule (2) of Rule 1 of Order XV1 CPC which is not applicable in present case did not allow the witnesses of the plaintiff(s) present in Court to record their statements vide impugned orders by committing illegality which are not sustainable. 2020 SCMR 2155 "Amjad Khan v. Muhammad Irshad (deceased) through LRs and 1981 SCMR 150 "The Australasia Bank Lil v Messrs Mangora Textile Industries Swat and others"
- For the foregoing reasons, this writ petition is allowed. Impugned orders of both learned Courts below are hereby set-aaide and learned trial Court is directed to record the evidence of the witnesses who were present before it on the above sald dates if they are produced by the plaintiff(s) and conclude the trial within a period of two weeks from the date of receipt of this order being an old matter lingering on since 12.07.2014.
A UN/N-18/L
Petition allowed
2026 YLR 2511
