Oral Sale Agreement: Lahore High Court Explains Proof Requirements and Adverse Presumption | 2026 CLC 972


Oral agreement. 2026 clc 972

⚖️ زبانی معاہدۂ بیع ثابت کرنے کے لیے ضروری تفصیلات اور مدعیہ کی عدم پیشی — لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

2026 CLC 972 — لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ

لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے قرار دیا کہ زبانی معاہدۂ بیع کی بنیاد پر Specific Performance کا دعویٰ کرنے والے فریق پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے بنیادی حقائق اور ضروری تفصیلات قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرے۔ اگر مدعی خود عدالت میں بطور گواہ پیش نہ ہو اور اپنے دعوے کے اہم حقائق کو ثابت نہ کرے تو مناسب حالات میں اس کے خلاف Article 129(g)، Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے تحت منفی قرینہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

🔹 مقدمے کا پس منظر

مدعیہ نے 12 کنال 10 مرلہ زمین کے متعلق مبینہ زبانی معاہدۂ بیع کی بنیاد پر دعویٰ دائر کیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ معاہدے کے تحت کچھ رقم بطور زرِ ثمن ادا کی گئی تھی اور اسے زمین کی خریداری کا حق حاصل تھا۔

بعد ازاں مذکورہ زمین کے ایک حصے، یعنی 2 کنال 2 مرلہ، کا انتقال مدعا علیہ نمبر 4 کے حق میں کر دیا گیا۔ مدعیہ نے اپنے دعوے میں اس انتقال کی منسوخی بھی طلب کی۔

🔹 ٹرائل کورٹ کا فیصلہ

ٹرائل کورٹ نے فریقین کے شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد مدعیہ کے دعوے کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم 10 کنال 8 مرلہ زمین کی حد تک Specific Performance کا حکم دیا۔

دوسری جانب 2 کنال 2 مرلہ زمین کے متعلق مدعا علیہ نمبر 4 کے حق میں ہونے والے انتقال کی منسوخی کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا۔

مدعیہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، تاہم اپیلیٹ عدالت نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

🔹 مدعیہ کا خود عدالت میں پیش نہ ہونا

ہائی کورٹ کے سامنے ایک اہم سوال یہ تھا کہ مدعیہ اپنے دعوے کی حمایت میں خود عدالت میں گواہی دینے کے لیے پیش نہیں ہوئی۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ مدعیہ نے اپنی صحت کے بارے میں کوئی ایسی میڈیکل رپورٹ یا دستاویزی ثبوت بھی پیش نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ وہ عدالت میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرانے سے قاصر تھی۔

⚖️ عدالت نے اس صورتِ حال کو مدعیہ کے خلاف اہم سمجھا۔

🔹 Article 129(g) کے تحت منفی قرینہ

عدالت نے قرار دیا کہ جب کوئی فریق کسی اہم معاملے پر خود گواہی دینے کی پوزیشن میں ہو لیکن عدالت میں پیش نہ ہو تو مناسب حالات میں اس کے خلاف Article 129(g) Qanun-e-Shahadat Order, 1984 کے تحت adverse presumption لیا جا سکتا ہے۔

یعنی عدالت یہ فرض کر سکتی ہے کہ اگر وہ فریق عدالت میں پیش ہو کر گواہی دیتا تو اس کی گواہی اس کے دعوے کے حق میں نہ ہوتی۔

🔹 زبانی معاہدۂ بیع کی بنیادی تفصیلات

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ فریقین کے درمیان زمین کی خرید و فروخت کا زبانی معاہدہ ہوا تھا۔

مدعی کو معاہدے کے بنیادی اجزاء قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرنا ہوتے ہیں، جن میں بالخصوص:

🔸 معاہدہ کب طے ہوا؟
🔸 کون سا دن تھا؟
🔸 تاریخ کیا تھی؟
🔸 ماہ اور سال کون سا تھا؟
🔸 معاہدے کے وقت کون کون سے گواہ موجود تھے؟
🔸 گواہوں کے نام کیا تھے؟
🔸 معاہدہ کس جگہ طے ہوا؟
🔸 معاہدے کی شرائط کیا تھیں؟
🔸 زرِ ثمن کی ادائیگی کس طرح ہوئی؟

یہ تفصیلات اس لیے اہم ہیں کیونکہ زبانی معاہدے کا وجود تحریری دستاویز سے ثابت نہیں ہوتا، اس لیے اس کے ثبوت کے لیے مضبوط اور قابلِ اعتماد زبانی و دستاویزی شہادت درکار ہوتی ہے۔

🔹 مدعا علیہ نمبر 4 کے حق میں انتقال

مدعا علیہ نمبر 4 کا مؤقف یہ تھا کہ اسے زمین انتقال کے ذریعے فروخت کی گئی تھی۔

عدالت نے دیکھا کہ اس انتقال کو تسلیم کیا گیا تھا اور اسے مؤثر طور پر چیلنج کرنے کے لیے مدعیہ کو اپنا متضاد دعویٰ یعنی زبانی معاہدۂ بیع مضبوط شہادت سے ثابت کرنا ضروری تھا۔

لہٰذا صرف ایک دعویٰ کر دینا کافی نہیں تھا بلکہ مدعیہ پر اس دعوے کو قانونی شہادت سے ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔

🔹 عدالت میں گواہی کی اہمیت

یہ فیصلہ اس اصول کو واضح کرتا ہے کہ جس فریق نے کسی اہم حقیقت کو اپنے دعوے کی بنیاد بنایا ہو، اسے اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے عدالت کے سامنے قابلِ اعتماد شہادت پیش کرنی چاہیے۔

خصوصاً زبانی معاہدۂ بیع کے معاملات میں مدعی کی اپنی گواہی اہم ہو سکتی ہے، کیونکہ معاہدے کی شرائط، فریقین کی رضامندی اور دیگر بنیادی حقائق اکثر اسی کے ذاتی علم میں ہوتے ہیں۔

🔹 Specific Performance کا دعویٰ

Specific Performance سے مراد ایسا عدالتی ریلیف ہے جس کے ذریعے عدالت فریق کو معاہدے میں کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کا حکم دیتی ہے۔

لیکن اس قسم کا ریلیف حاصل کرنے کے لیے محض معاہدے کا دعویٰ کافی نہیں ہوتا۔ مدعی کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ واقعی ایسا معاہدہ موجود تھا اور اس کی قانونی شرائط پوری ہوتی ہیں۔

🔹 دفعہ 115 CPC اور سول ریویژن

مدعیہ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف Section 115 CPC کے تحت سول ریویژن دائر کی۔

ہائی کورٹ نے جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں نہ تو evidence کی کوئی ایسی misreading یا non-reading ثابت ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسی قانونی یا factual خرابی سامنے آئی جس کی بنیاد پر ریویژن میں مداخلت کی ضرورت ہو۔

چنانچہ عدالت نے سول ریویژن کو in limine dismiss کر دیا۔

⚖️ اہم قانونی اصول

🔹 زبانی معاہدۂ بیع کا دعویٰ صرف زبانی بیان کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہو سکتا؛ اسے قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرنا ضروری ہے۔

🔹 مدعی کو معاہدے کی بنیادی تفصیلات، بشمول وقت، تاریخ، گواہان اور مقام ثابت کرنا چاہیے۔

🔹 مدعی کا بلاجواز عدالت میں بطور گواہ پیش نہ ہونا Article 129(g) کے تحت اس کے خلاف adverse presumption کا باعث بن سکتا ہے۔

🔹 بیماری کی بنیاد پر عدالت میں پیش نہ ہونے کا مؤقف ہو تو مناسب حالات میں متعلقہ میڈیکل یا دیگر قابلِ اعتماد ثبوت اہم ہو سکتے ہیں۔

🔹 جب ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں misreading، non-reading یا کوئی قانونی خرابی ثابت نہ ہو تو Section 115 CPC کے تحت ہائی کورٹ مداخلت نہیں کرتی۔

📌 نتیجہ

اس فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ زبانی معاہدۂ بیع کے دعوے میں مدعی پر ثبوت کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مدعیہ نے خود عدالت میں پیش ہو کر گواہی نہیں دی اور معاہدے کی ضروری تفصیلات بھی ناقابلِ تردید اور قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت نہ کر سکی۔ نتیجتاً اس کی عدم پیشی کے خلاف منفی قرینہ لیا گیا اور ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی خرابی نہ ملنے پر سول ریویژن خارج کر دی گئی۔

🔖 متعلقہ قوانین

Specific Relief Act, 1877 — Sections 12 & 39
Qanun-e-Shahadat Order, 1984 — Article 129(g)
Civil Procedure Code, 1908 — Section 115

Must Read judgment.

2026 CLC 972

[Lahore (Multan Bench)]

Before Masud Abid Naqvi, J

Mst. NASREEN FATIMA-Petitioner

Versus

MUHAMMAD ABBAS KHAN and others ---Respondents

Civil Revision No. 280 of 2025, heard on 10th March, 2025.

Specific Relief Act (I of 1877)---

-Ss.12 & 39---Qanun-e-Shahadat (10 of 1984), Art.129(g)---Civil Procedure Code (V of 1908), S.115---Suit for specific performance of an oral agreement to sell and cancellation of mutation---Vend Vendor transferring portion of a suit land through mutation prior to institution of suit---Effect-Protection of transferee-Scope-Pleading time, day, date, month, year, names of witnesses and place, requirement of Failure of plaintiff to appear in witness box-Consequences-The petitioner instituted a suit for specific performance of an alleged oral agreement to sell land measuring 12 Kanals 10 Marlas and for cancellation of mutation, asserting that part consideration had been paid and that during the pendency of matter, a portion of the suit land measuring 2 Kanals 2 Marlas was transferred through mutation in favour of respondent No.4---Trial Court, after recording evidence, partly decreed the suit for specific performance to the extent of 10 Kanals 8 Marlas against respondents Nos. 1 to 3 but dismissed the claim for cancellation of mutation in favour of respondent No.4; the Appellate Court upheld this decision and the petitioner thereafter filed the present civil revision---Held: Plaintiff opted not to appear before the Trial Court and to make her statement on oath as required by law for appearance of a witness to take oath before the Court for a correct statement---Plaintiff had not exhibited any medical report/documentary evidence to prove her health conditions, restricting her not to appear in the witness box-Plaintiff did not appear before the Court to depose in person just to avoid the test of cross-examination or with the intention to suppress some material facts from the Court and it could safely be presumed adversely against the plaintiff petitioner as provided in Art.129(g) of Qanun-e-Shahadat, 1984---The defendant No.4/respondent No.4 was contesting the claim of plaintiff on the basis of sale of land to him through mutation duly admitted and never denied by rest of defendants including the defendant No. 2 who sold the land to him and was also disputing the facts pleaded by the plaintiff, then the plaintiff petitioner had to prove her rival claim of oral agreement to sell which was even denied by defendants Nos. 1 to 3/alleged sellers in written statement with its ingredients i.e. time, day, date, month, year, names of witnesses and venue where the terms of agreement were verbally settled by adducing cogent, legal, relevant and unimpeachable evidence---Neither any any misreading misre or non-reading of evidence on record nor any infirmity, legal or factual, had been pointed out in the impugned judgments and decrees passed by the courts below-Civil revision petition was dismissed in limine, in circumstances.

Administrator, Thal Development through EACO Bhakkar and others v. Ali Muhammad 2012 SCMR 730 rel.

Syed Tajamul Hussain Bukhari for Petitioner.

#2026CLC972 #SpecificPerformance #OralAgreement #SaleAgreement #Article129g #QanunEShahadat #CivilRevision 



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Post a Comment

Previous Post Next Post