 |
| 2nd list of witnesses |
گواہوں کی دوسری فہرست جمع کرانے کی درخواست کیوں ناقابلِ سماعت قرار دی گئی؟
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ —
PLD 2026 Lahore 488
✦ تعارف
سول مقدمات میں گواہوں کی فہرست بروقت جمع کرانا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانون کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر کوئی فریق مقررہ وقت میں گواہوں کی فہرست جمع نہ کرائے یا اس کی درخواست مسترد ہو جائے تو بعد میں مختلف گواہوں کے نام شامل کرکے نئی درخواست دائر کرنا قانون کی نظر میں قابلِ قبول نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے
PLD 2026 Lahore 488
میں اسی اصول کو واضح کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ صادر کیا۔
⚖️ مقدمہ کا پس منظر
مدعی نے آرڈر
XVI
رول 1 ضابطۂ دیوانی
(CPC)
کے تحت گواہوں کی فہرست جمع کرانے کی درخواست دی، مگر وہ مسترد ہو گئی۔ مدعی نے اس حکم کو چیلنج نہیں کیا۔
بعد ازاں اس نے نئی درخواست دائر کی جس میں مختلف افراد کو بطور گواہ طلب کرنے کی استدعا کی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ درخواست
آرڈر XVI
رول 14
CPC
کے تحت ہے۔
عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا فریق رول 14 کا سہارا لے کر اپنی سابقہ کوتاہی کا ازالہ کر سکتا ہے؟
---
📜 عدالت کا فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پہلی درخواست کی مستردی کے بعد دوسری درخواست قابلِ سماعت نہیں۔ مزید یہ کہ آرڈر XVI رول 14 CPC کا مقصد فریقین کو اپنی غلطیاں درست کرنے یا ثبوت میں موجود خامیوں کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرنا نہیں۔
---
🔹 آرڈر
XVI
رول 1
CPC کی اہمیت
عدالت نے واضح کیا کہ گواہوں کی فہرست بروقت جمع کرانا قانونی تقاضا ہے۔ اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ مقدمہ غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو اور مخالف فریق کو بھی مناسب تیاری کا موقع مل سکے۔
---
🔹 آرڈر
XVI
رول14
CPC
کا اصل مقصد
عدالت نے قرار دیا کہ رول 14 ایک خصوصی اختیار ہے جو صرف عدالت کو حاصل ہے۔ اگر عدالت یہ سمجھے کہ کسی شخص کی گواہی انصاف کے تقاضوں کے لیے ضروری ہے تو وہ خود اسے طلب کر سکتی ہے، خواہ وہ مقدمے کا فریق نہ بھی ہو۔
---
🔹 رول 14 کو کوتاہی چھپانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا
عدالت کے مطابق کوئی فریق رول 14 کو اپنی غفلت، تاخیر یا ثبوت میں موجود خلا کو پورا کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا قانون کے مقرر کردہ طریقہ کار کو بے اثر بنا دے گا۔
---
⚖️ اہم قانونی اصول
✦ گواہوں کی فہرست مقررہ وقت میں جمع کرانا ضروری ہے۔
✦ مسترد شدہ درخواست کے بعد نئی درخواست دائر کرنا قابلِ قبول نہیں۔
✦ آرڈر XVI رول 14 CPC فریقین کا حق نہیں بلکہ عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔
✦ رول 14 کا مقصد انصاف میں مدد دینا ہے، فریقین کی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا نہیں۔
✦ عدالتی کارروائی میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔
---
📌 نتیجہ
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ سول مقدمات میں مقررہ قانونی طریقہ کار کی پابندی ناگزیر ہے۔ اگر فریق وقت پر گواہوں کی فہرست جمع نہیں کراتا یا اس کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو وہ بعد میں آرڈر XVI رول 14 CPC کا سہارا لے کر اپنی کوتاہی کو دور نہیں کر سکتا۔ رول 14 صرف عدالت کے استعمال کے لیے ہے اور اسے فریقین کے حق کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ
PLD 2026 Lahore 488
Malik Muhammad Irshad Faiz v. Khadim Hussain
Civil Revision No. 507 of 2022🔖 ہیش ٹیگز
Must read judgment.
PLD 2026 Lahore 488
Second application for submission of list of witnesses under Order XVI, Code of Civil Procedure, 1908 ("CPC") is not maintainable when first application of the plaintiff was dismissed and the order of dismissal was not challenged, more so when second application was filed naming different individuals required to be summoned as witnesses. Labelling the second (naeem)application as one under Order XVI Rule 14, CPC and not under Rule 1 thereof is also misconceived argument. It is imperative to observe that Order XVI Rule 14 CPC is not a device for parties to fill gaps in their evidence. It vests a discretionary, suo motu power in the Court, which may be exercised if the Court itself finds a person necessary for effective adjudication even though such person is stranger. It is not intended to compensate for negligence or allow a litigant to expand the record after procedural time limits have expired. In these circumstances, allowing such applications would defeat the statutory discipline of Order XVI, Rule 1; undermine the requirement of timely disclosure, and open the door for parties to repeatedly repair their omissions. The discretion under Order XVI Rule 14 squarely belongs to the Court, which may call any stranger on its own assessment; it cannot be demanded as a matter of right by a party that has failed to comply with Rule 1 of Order XVI, CPC.
ivil Revision-507-22
MALIK MUHAMMAD IRSHADFAIZ VS KHADIM HUSSAIN
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.