![]() |
| Discrimination rejected by high court in writ |
مندرجہ بالا فیصلہ 2024 C L C 1531 بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس شوکت علی رخشانی نے سنایا۔ اس مقدمے میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 اور 199 کے تحت آئینی درخواست کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور حکومتی پالیسی کے غیر منصفانہ ہونے کے معاملات پر بحث کی گئی۔
---
خلاصہ:
پس منظر:
درخواست گزاروں نے بلوچستان حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا جس کے تحت گندم کی بڑی مقدار صرف ایک مخصوص علاقے سے خریدی جانی تھی، حالانکہ وہاں اسٹوریج کی سہولیات موجود نہیں تھیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پالیسی دیگر علاقوں کے کسانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔
---
اہم نکات:
1. امتیازی سلوک:
حکومت کی پالیسی نے ایک مخصوص علاقے کے کسانوں کو فائدہ پہنچایا جبکہ دیگر علاقوں کے کسانوں کو نظرانداز کیا گیا۔ یہ آئین کے تحت مساوات کے اصولوں کے خلاف ہے۔
2. قانونی حیثیت:
عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کی یہ پالیسی غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے کیونکہ یہ تمام کسانوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کے اصول پر پورا نہیں اترتی۔
3. فیصلہ:
عدالت نے:
حکومت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔
ہدایت دی کہ مختص شدہ رقم (500 ملین روپے) قرضوں کی ادائیگی، تکنیکی مراکز کے قیام، شہری منصوبہ بندی، اور پینے کے پانی کی فراہمی پر خرچ کی جائے۔
---
قانونی حوالہ جات:
Government of Balochistan v. Azizullah Memon PLD 1993 SC 341
I.A. Sherwani v. Government of Pakistan and others 1991 SCMR 1041
---
نتیجہ:
یہ فیصلہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کو تمام شہریوں کے لیے مساوی اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ کسی خاص علاقے یا طبقے کو غیر ضروری فائدہ پہنچانا آئین کے مساوات کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ایک جامع اور منصفانہ حکومتی رویے کی ضرورت پر زور دیا۔

No comments:
Post a Comment