Existence of Will—Letters of Administration to Universal Legatee—Jurisdiction of Court, Not NADRA.
A Letter of Administration is a legal document issued by a court authorizing a person to manage and distribute the estate of a deceased person when there is no will, or when a will exists but no executor is appointed. It gives lawful authority to collect assets, pay liabilities, and transfer property according to law or the will.
کیس کا عنوان
وصیت کی موجودگی میں لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کا اجرا — نادرا کا اختیار نہیں، صرف عدالتِ قانون مجاز
(2025 C 1. C 2060، سندھ ہائی کورٹ)
مقدمے کا پس منظر
اس مقدمہ میں مرحومہ نے اپنی جائیداد اپنی بہن کے حق میں وصیت کے ذریعے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن اس نے کسی ایگزیکیوٹر کا تعین نہیں کیا۔ وصیت کی بنیاد پر بہن نے بطور یونیورسل لیگیٹی عدالت میں لیٹر آف ایڈمنسٹریشن حاصل کرنے کی درخواست دی۔ تاہم، ٹرائل کورٹ نے درخواست خارج کر دی اور ہدایت کی کہ درخواست گزار نادرا کے پاس جائے تاکہ وہاں سے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن حاصل کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ درخواست گزار کے لیے غیر مناسب اور قانون کے منافی تھا، کیونکہ وصیت موجود ہونے کی صورت میں نادرا کو اس کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
عدالتِ عالیہ کا موقف
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ وصیت کی موجودگی میں نادرا کا اختیار نہیں ہوتا۔ وصیت کا ثبوت صرف عدالت میں دیا جا سکتا ہے۔ سندھ لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفیکیٹس ایکٹ 2021 صرف ایسے معاملات پر لاگو ہوتا ہے جہاں وصیت موجود نہ ہو۔ اگر متوفی نے وصیت کی ہو لیکن ایگزیکیوٹر مقرر نہ کیا ہو، تو دفعہ 232 سکسیشن ایکٹ 1925 کے تحت یونیورسل یا ریزیڈوری لیگیٹی لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کے لیے اہل ہوتا ہے۔ ٹرائل کورٹ کا حکم جس میں درخواست گزار کو نادرا سے رجوع کرنے کی ہدایت دی گئی، غیر قانونی اور کالعدم ہے۔ ہائی کورٹ نے معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھیج دیا تاکہ پہلے وصیت کا درست اجرا ثابت کیا جائے، اور اگر وصیت ثابت ہو گئی تو لیٹر آف ایڈمنسٹریشن سکسیشن ایکٹ 1925 کے تحت جاری کیا جائے۔
قانونی سبق اور اہم نکات
یہ کیس بتاتا ہے کہ وصیت موجود ہو تو صرف عدالت میں پروسیس ہوگا اور نادرا یا کسی انتظامی فورم کو اختیار حاصل نہیں۔ سندھ لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2021 غیر وصیتی معاملات کے لیے ہے۔ یونیورسل لیگیٹی وہ شخص ہے جو وصیت میں شامل تمام اثاثوں کا حقدار ہو اور اگر ایگزیکیوٹر مقرر نہ ہو تو وہ لیٹر آف ایڈمنسٹریشن حاصل کر سکتا ہے۔ قانونی طور پر لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کے لیے وصیت کا ثبوت عدالت میں دینا لازمی ہے۔
نتیجہ
یہ کیس وصیت کی قانونی حیثیت اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کے اجرا کے دائرہ اختیار کو واضح کرتا ہے۔ عدالت نے اس بات کی تصدیق کی کہ صرف عدالت ہی وصیت کا ثبوت دیکھ سکتی ہے اور قانونی طور پر اثاثوں کی منتقلی ممکن ہے۔ یہ فیصلہ قانونی وراثت کے معاملات میں اہم حوالہ ہے، خصوصاً ان کیسز کے لیے جہاں وصیت موجود ہو مگر ایگزیکیوٹر مقرر نہ کیا گیا ہو۔
حوالہ
2025 C L C 2060، سندھ ہائی کورٹ
Re: Mrs. Homai Minwalla 1989 CLC 1953
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.
