Point-to-Point Pay Fixation, IFRS Rounding, Binding Nature of SC Judgments (Art. 189) & Section 21 General Clauses Act 2025 scmr 532

 Point-to-Point Pay Fixation, IFRS Rounding, Binding Nature of SC Judgments (Art. 189) & Section 21 General Clauses Act

2025 SCMR 532



تنخواہ کا تعین، آرٹیکل 189 اور جنرل کلاز ایکٹ کا اطلاق

تعارف

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مقدمہ 
Federation of Pakistan through Secretary Finance Division v. Abdul Rasheed Memon
 میں ایک اہم فیصلہ صادر کیا جس میں تنخواہوں کے تعین
 (Pay Fixation)،
 اعداد و شمار کے حساب
 (Arithmetic Rounding Off)، 
آئین کے آرٹیکل 189 اور جنرل کلاز ایکٹ 1897 کے سیکشن 21 کی تشریح کی گئی۔ یہ فیصلہ سرکاری ملازمین اور سرکاری پالیسی سازی دونوں کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

کیس کی کہانی


عبدالرشید میمن وفاقی حکومت کے ایک ملازم تھے۔ جب حکومت نے تنخواہوں کے اسکیل اور فکسیشن کے لیے نئے نوٹیفکیشنز جاری کیے تو ان کی تنخواہ کے تعین میں اختلاف پیدا ہوا۔

ملازم کا مؤقف تھا کہ ان کی تنخواہ کا حساب 
Point-to-Point Pay Fixation Formula 
کے مطابق ہونا چاہیے اور اگر حساب میں اعشاریہ 
(Decimal)
 آجائے تو اسے بین الاقوامی مالیاتی معیار 
IFRS 
کے مطابق 
Rounding Off 
کیا جائے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ نوٹیفکیشن یا رولز کے ذریعے پالیسی میں ترمیم یا تبدیلی کر سکتی ہے اور اس حساب سے ملازمین کا تقرر اور تنخواہ طے کرے۔


یہ تنازعہ مختلف عدالتوں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک پہنچا۔

سپریم کورٹ کے اہم نکات


1️⃣ Point-to-Point Pay Fixation Formula

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملازمین کی تنخواہوں کا تعین Point-to-Point Formula 
کے مطابق کیا جائے تاکہ انصاف اور مساوات قائم رہے اور کسی ملازم کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔

2️⃣ Arithmetic Rounding Off (IFRS کے مطابق)

عدالت نے واضح کیا کہ اگر تنخواہ یا کسی مالی حساب میں اعشاریہ آئے تو اسے 
IFRS (International Financial Reporting Standards) کے مطابق گول (round off) 
کیا جائے، کیونکہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے۔

3️⃣ آرٹیکل 189 اور Doctrine of Stare Decisis

سپریم کورٹ نے ایک اہم اصول کی وضاحت کی:

آئین کا آرٹیکل 189 یہ کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہیں۔

تاہم اگر کوئی فیصلہ  (یعنی کسی متعلقہ قانون یا اصول کو نظر انداز کر کے دیا گیا ہو) تو اس پر نظرثانی ہو سکتی ہے۔


4️⃣ General Clauses Act, 1897 کا سیکشن 21

عدالت نے یہ اصول دہرا یا کہ جس اتھارٹی کو نوٹیفکیشن یا رول بنانے کا اختیار ہے، اسی کو اسے منسوخ کرنے یا ترمیم کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔

نتیجہ

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ:

تنخواہوں کا حساب صاف اور شفاف اصولوں کے مطابق کیا جائے،

مالیاتی امور میں بین الاقوامی معیار اپنایا جائے،

سپریم کورٹ کے فیصلے تمام عدالتوں کے لیے لازم ہیں لیکن اگر کوئی فیصلہ قانونی بنیاد کے بغیر ہو تو اس پر نظرثانی کی گنجائش ہے،

اور حکومتی اختیارات نوٹیفکیشن یا رولز کی تنسیخ یا ترمیم تک محدود نہیں بلکہ ان کے اطلاق تک بھی پھیلے ہوئے ہیں۔

Judgement



2025 SCMR 532
(1) Point-to-point pay fixation formula
(2) Method of arithmetic rounding off as per IFRS
(3) Article 189 of the Constitution vis-à-vis the doctrine of Stare Decisis and per incuriam
(4) Section (naeem)21 of the General Clauses Act, 1897.
Federation of Pakistan through Secretary Finance Division and another v. Abdul Rasheed Memon



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 





































Post a Comment

Previous Post Next Post