Key Principles from 2025 SCMR 819 – Service Tribunal’s Powers to Execute Judgments.
2025 SCMR 819 – سروس ٹربیونل کے فیصلوں پر عملدرآمد کے اختیارات
پس منظر
یہ مقدمہ ایک سرکاری ملازم کی پروفارما پروموشن اور اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار سے متعلق تھا۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ اگر وفاقی حکومت نے سروس ٹربیونل کے فیصلوں کے نفاذ کے لیے قواعد (Rules) نہ بنائے ہوں تو کیا سروس ٹربیونل اپنے فیصلے خود نافذ کروا سکتا ہے؟
اہم نکات
1. سیکشن 9(1)، سول سرونٹس ایکٹ 1973
سروس سے متعلق تنازعات کا فیصلہ سروس ٹربیونل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
2. F.R 17 کا اطلاق – پروفارما پروموشن
اگر ترقی ماضی سے موثر ہو تو مالی فوائد (arrears) صرف اس صورت ملیں گے جب ملازم اس عرصے میں عملی طور پر ڈیوٹی انجام دیتا رہا ہو۔
3. سیکشن 5، سروس ٹربیونلز ایکٹ 1973
سروس ٹربیونل کو سول کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہیں۔
4. سیکشن 8، سول سرونٹس ایکٹ 1973
وفاقی حکومت قواعد بنا سکتی ہے تاکہ ٹربیونل کے فیصلوں پر عملدرآمد ہو سکے۔
5. قواعد نہ ہونے کی صورت میں اختیار
عدالت نے قرار دیا کہ اگر وفاقی حکومت قواعد نہ بنائے تب بھی سروس ٹربیونل اپنے فیصلوں پر سول کورٹ کی طرح عملدرآمد کروا سکتا ہے، کیونکہ یہ اختیار بنیادی قانون سے ملتا ہے۔
عدالتی اصول
سروس ٹربیونل کا نفاذِ فیصلے کا اختیار Rules کی موجودگی پر منحصر نہیں بلکہ سیکشن 5 STA، 1973 سے براہِ راست آتا ہے۔
F.R 17 کے مطابق، پروفارما پروموشن کا مالی فائدہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ملازم اس عرصے میں خدمات انجام دے رہا ہو۔
📌 نتیجہ:
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ سروس ٹربیونل کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کروانے کا مکمل قانونی اختیار موجود ہے، چاہے وفاقی حکومت اس مقصد کے لیے قواعد نہ بھی بنائے۔ یہ اختیار اسے سول کورٹ کی طرح دیا گیا ہے، جس کا مقصد ملازمین کو بروقت انصاف فراہم کرنا ہے۔
Must read Judgement
2025 SCMR 819
(1) Section 9 (1) of the CSA, 1973
(2) Effect of F.R 17 for proforma promotion
(3) Under Section 5 of the STA, 1973, the Tribunal is deemed to be a Civil Court and under Section 8 of the CSA, the Federal Government may frame the rules including execution of decision
(4) If rules are not framed for (naeem)execution, even then, the Tribunal can execute its judgments in terms of Section 5 of the STA as civil court.
C.P.L.A.44/2022
Ahmed Owais Peerzada v. Principal Secretary
