Fraudulent Transactions & Limitation – Fraud Unravels Everything 2025 SCMR 955
![]() |
2025 SCMR 955 – دھوکہ دہی اور مدتِ معیاد (Limitation)
مختصر کہانی
مدعی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس کے خلاف ہونے والی لین دین دھوکہ دہی (Fraud) پر مبنی ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ مدعا علیہ نے جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ مدعی کا دعویٰ مدتِ معیاد (Limitation) سے باہر ہے اس لیے ناقابلِ سماعت ہے۔ معاملہ بالآخر سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔
سپریم کورٹ نے یہ اصول طے کیا کہ Fraud سب کچھ ختم کر دیتا ہے (Fraud unravels everything) اور اس بنیاد پر ہونے والا کوئی بھی ٹرانزیکشن یا معاہدہ قانونی تحفظ حاصل نہیں کر سکتا، چاہے وہ کتنا ہی عرصہ پرانا کیوں نہ ہو۔
اہم نکات
1️⃣ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Fraud کسی بھی ٹرانزیکشن یا معاہدے کو بنیاد سے کالعدم (Void) کر دیتا ہے۔
2️⃣ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Fraud "سب کچھ برباد کر دیتا ہے" اور اس سے حاصل ہونے والا کوئی حق یا مفاد قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
3️⃣ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Fraud کی صورت میں مدتِ معیاد (Limitation) کا اعتراض مؤثر نہیں رہتا۔
4️⃣ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالتوں پر لازم ہے کہ Fraud سے پیدا ہونے والی ٹرانزیکشن کو کالعدم قرار دیں، چاہے وہ کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہو۔
5️⃣ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر Fraud کے معاملات میں Limitation کو آڑ بنایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دھوکہ دہی کو قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
قانونی تجزیہ
یہ فیصلہ پاکستانی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس میں سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قانون کسی بھی صورت میں دھوکہ دہی کو قبول نہیں کرتا۔ اگرچہ Limitation Act عام طور پر دعوؤں کو وقت کی قید میں لاتا ہے، لیکن Fraud ایک ایسا عنصر ہے جو اس قاعدے کو توڑ دیتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی شخص دھوکہ دہی کے ذریعے قانونی فائدہ حاصل نہ کر سکے اور عدالت ہمیشہ میرٹ پر اصل حقائق کا جائزہ لے۔
یہ فیصلہ اس اصول کو مزید مستحکم کرتا ہے کہ "Fraud unravels everything" اور ایسے تمام لین دین ازخود کالعدم تصور ہوں گے
Judgement's wording
transactions, challenging of---Limitation---Fraud, by its very nature, unravels all aspects of any transaction, regardless of how solemnly it may have been conducted under the law---Any transaction born of deceit must be declared void, allowing the matter to be judged based on its substantive merits---This is important to prevent entrenchment of fraudulent actions, regardless of any time limitation issues.
2025 SCMR 955
