G-KZ4T1KYLW3 Supreme Court Rules: Admitted Sale Agreement Needs No Further Proof – 2020 SCMR 496"

Supreme Court Rules: Admitted Sale Agreement Needs No Further Proof – 2020 SCMR 496"


Supreme Court Rules: Admitted Sale Agreement Needs No Further Proof – 2020 SCMR 496


📌 معاہدہ بیع میں اقرار شدہ حقائق کو ثبوت کی ضرورت نہیں – سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ


(2020 SCMR 496)
✍️ LegalHelp1 – قانونی رہنمائی اردو میں

🔷 پس منظر:


معاہدہ بیع (Agreement to Sell) جائیداد کی خرید و فروخت کا ایک اہم قانونی مرحلہ ہوتا ہے۔ اکثر عدالتوں میں ایسے مقدمات آتے ہیں جہاں فریقین کسی تحریری معاہدے پر اختلاف کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مدعا علیہ خود معاہدے کے وجود یا دستخط سے انکار نہ کرے، تو کیا مدعی کو اس کے باوجود ثبوت پیش کرنا ہوگا؟ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے 2020 SCMR 496 میں ایک اصولی فیصلہ دیا ہے۔

⚖️ مقدمہ کا خلاصہ:


مدعی نے دعویٰ دائر کیا کہ مدعا علیہ نے اس کے ساتھ غیر منقولہ جائیداد کا معاہدہ بیع کیا مگر بعد میں انکاری ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ مدعا علیہ نے اپنے تحریری بیان (Written Statement) میں نہ تو معاہدے کے وجود سے انکار کیا، نہ ہی اس پر دستخط کی تردید کی۔

ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے مدعی کے حق میں فیصلہ دیا۔ مدعا علیہ نے سپریم کورٹ میں درخواست برائے اجازتِ اپیل (Leave to Appeal) دائر کی، جو خارج کر دی گئی۔

📌 سپریم کورٹ کے اہم نکات (ہر نکتہ عدالت کے الفاظ میں):


1. سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کسی فریق نے تحریری جواب میں معاہدے کے وجود یا دستخط سے انکار نہ کیا ہو تو یہ معاہدہ "اقرار شدہ" (Admitted) تصور ہوگا۔


2. سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Order VIII Rule 5 CPC کے تحت اقرار شدہ حقائق کو عدالت میں ثبوت کی ضرورت نہیں۔


3. سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مدعا علیہ کا معاہدے کی تردید نہ کرنا، قانونی طور پر اقرار کے مترادف ہے۔


4. سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں کا فیصلہ شواہد اور قانون کے مطابق درست ہے، اس لیے سپریم کورٹ اپیل سننے کی اجازت نہیں دیتی۔


5. سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Muhammad Iqbal v. Mehboob Alam (2015 SCMR 21) میں بھی یہی اصول واضح کیا جا چکا ہے۔

📘 قانونی اصول کی وضاحت:


اس فیصلے کی روشنی میں یہ بات طے پاتی ہے کہ اگر مدعا علیہ تحریری بیان میں معاہدے کا واضح انکار نہیں کرتا، تو مدعی کو وہ معاہدہ ثابت کرنے کے لیے اضافی شہادت یا گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس اصول سے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر اور جھوٹے انکار کا خاتمہ ممکن ہے۔

✨ نتیجہ:


یہ فیصلہ ان تمام مقدمات کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے جن میں معاہدہ بیع کو متنازع بنایا جاتا ہے مگر فریقِ مخالف اس سے انکار نہیں کرتا۔ عدالتیں ایسے مقدمات میں بلاوجہ ثبوت طلب نہیں کر سکتیں۔

Must read part of Judgement


2020 S C M R 496

-S. 54---Civil Procedure Code (V of 1908), O. VIII, R. 5---Agreement to sell immoveable property---Proof---Admission by vendor in his written statement---In the present case, the vendor did not deny execution of the agreement to sell---Fact admitted need not be formally proved---Petition for leave to appeal dismissed.

   Muhammad Iqbal v. Mehboob Alam 2015 SCMR 21 ref.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 





































Post a Comment

Previous Post Next Post