G-KZ4T1KYLW3 Summoning Witnesses under Section 540 CrPC – Court’s Discretion and Limits Explained

Summoning Witnesses under Section 540 CrPC – Court’s Discretion and Limits Explained

Summoning Witnesses under Section 540 CrPC – Court’s Discretion and Limits Explained.


👨‍⚖️ گواہوں کی طلبی، استغاثہ کی حد اور عدالت کے اختیارات – ایک عدالتی جائزہ

✅ تعارف:


فوجداری مقدمات میں گواہوں کی دستیابی، ان کی طلبی، اور عدالت کے اختیارات اکثر و بیشتر مقدمے کے نتائج پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ حالیہ فیصلہ PLJ 2025 Cr.C. 422 ان ہی اہم اصولوں کی وضاحت کرتا ہے کہ عدالت کب کسی گواہ کو دفعہ 540 ضابطہ فوجداری کے تحت بطور "عدالتی گواہ" طلب کر سکتی ہے اور ملزم یا استغاثہ کو اس حوالے سے کیا حدود درپیش ہوتی ہیں۔

⚖️ پسِ منظر:


استغاثہ نے مقدمہ میں دو چشم دید گواہ پیش کیے اور تیسرے گواہ کو ترک کر دیا۔ ملزم کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ تیسرے گواہ کی گواہی بھی اسی نوعیت کی ہے، لہٰذا عدالت اسے طلب کرے تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔ عدالت نے اس ضمن میں قانونی اصولوں کو واضح کرتے ہوئے درج ذیل رہنما اصول بیان کیے۔

📌 عدالت کے اہم مشاہدات:


🔹 1. عدالت کی صوابدید – دفعہ 540 Cr.P.C.

عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ "انصاف کے تقاضے" پورے کرنے کے لیے کسی بھی شخص کو بطور عدالتی گواہ طلب کرے۔ تاہم، یہ اختیار صرف اسی صورت میں استعمال ہوگا جب گواہی کا مقدمے کے ساتھ براہِ راست اور ضروری تعلق ہو۔

🔹 2. تعداد نہیں، شہادت کا معیار اہم ہے


عدالت نے واضح کیا کہ گواہوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کی شہادت کا معیار مقدمہ کے لیے اہم ہوتا ہے۔ اگر ایک چشم دید گواہ کی شہادت معتبر، قابلِ اعتبار اور دل کو لگنے والی ہو، تو وہ اکیلا بھی ملزم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

🔹 3. زخمی چشم دید گواہ کی اہمیت


اگر استغاثہ کے چشم دید گواہوں میں کوئی زخمی بھی ہو، تو اس کی شہادت عام گواہوں سے زیادہ وزنی مانی جائے گی۔ اگر ایسا گواہ پیش نہیں کیا گیا تو عدالت اسے ازخود طلب کر سکتی ہے کیونکہ اس کی گواہی انصاف کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔

🔹 4. استغاثہ پر جبر ممکن نہیں


ملزم عدالت سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتا کہ وہ استغاثہ کو کسی مخصوص گواہ کو بطور "استغاثہ گواہ" پیش کرنے پر مجبور کرے۔ استغاثہ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کن گواہوں کو پیش کرے۔

🔹 5. دفاعی گواہوں کی اجازت


ملزم اگر چاہے تو چھوڑے گئے گواہوں کو اپنے دفاع میں بطور "دفاعی گواہ" پیش کر سکتا ہے۔ اس کے لیے اسے عدالت سے اجازت لینا ہوگی، اور عدالت اس پر مناسب حکم جاری کرے گی۔

🔹 6. تحقیقاتی افسر، ڈاکٹر یا ماہرین کی گواہی


اگر کوئی گواہ مثلاً تفتیشی افسر، پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر یا ماہر جو کسی اہم نکتے پر رائے دے، مقدمہ کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتا ہو تو عدالت اسے بھی دفعہ 540 Cr.P.C. کے تحت بلا سکتی ہے۔

🧠 قانونی نکتہ:


> "اختیار مانگے جانے سے نہیں، بلکہ انصاف کے مفاد میں خود بخود استعمال ہوتا ہے۔"
– عدالت

📚 نتیجہ:


اس فیصلہ میں عدالت نے واضح کر دیا کہ گواہوں کی طلبی کے معاملات میں استغاثہ اور عدالت کی حدود کیا ہیں، اور ملزم کے کیا اختیارات ہیں۔ ہر مقدمے کے حقائق منفرد ہوتے ہیں، اس لیے عدالت کو چاہیے کہ وہ ہر کیس میں الگ سے غور کرے کہ آیا گواہ کو طلب کرنا انصاف کے مفاد میں ہے یا نہیں۔

📌 تربیتی نکتہ:


یہ فیصلہ نئی نسل کے وکلا، پراسیکیوٹرز اور جج صاحبان کے لیے ایک رہنما اصول فراہم کرتا ہے کہ عدالت کو کب اور کیسے اپنی صوابدید کے تحت گواہوں کو طلب کرنا چاہیے اور کس حد تک فریقین عدالت کو اس حوالے سے رہنمائی دے سکتے ہیں۔


Must read judgement 



PLJ 2025 Cr.C. 422
If prosecution has produced two eyewitnesses and given-up 3rd eyewitness, whose evidence was of same category/nature and not of higher efficacy like injured, then he cannot be summoned as Court Witness; however, accused can(naeem) produce him as his Defence Witness, if he opts so۔

Accused can neither ask nor compel the prosecution through Court to produce any witness as “prosecution witness”, however after recording of evidence of prosecution and examination of the accused, he (accused) can put his any written statement (naeem)before the Court and after entering on his defence, he can apply to the Court for issuance of process for compelling the attendance of any witness for examination or production of any document or other thing.

It goes without saying that number of eyewitnesses does not matter for proving the ocular account rather quality of testimony of the eyewitness is relevant and (naeem)even single eyewitness, whose evidence appears to be confidence inspiring and trustworthy, can be relied for convicting the accused. However, if there are number of prosecution eyewitnesses and one of them is injured also, then though he is in category of eyewitnesses yet being injured in the occurrence, efficacy and gravity of his testimony is much more as compared to unhurt eyewitness. Therefore, if he (injured witness) has not been produced by the prosecution, then Court can summon him for just decision of the case; similarly, Investigating Officer, who has collected relevant pieces of evidence during investigation of the case, the doctor, who has conducted postmortem examination/medical examination in the case or any other expert witness, who has given opinion of some relevant fact and his evidence has direct nexus with fate of the case, can be summoned as “Court Witness” under Section: 540 Cr.P.C. Needless to add that each criminal case has its own peculiar facts & circumstances and same have to be kept in mind at the time of exercising power by the Court under Section: 540 Cr.P.C.

Crl. Revision ۔74970/2
Ghulam Murtaza Vs A.S.J Faisalabad etc


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 





































Post a Comment

Previous Post Next Post