G-KZ4T1KYLW3 PLD 2025 SC 354: Supreme Court Rules Workplace Harassment is About Power, Not Sex – A Landmark on Gender Equality

PLD 2025 SC 354: Supreme Court Rules Workplace Harassment is About Power, Not Sex – A Landmark on Gender Equality

 Workplace Harassment is About Power, Not Sex – A Landmark on Gender Equality.

                          PLD 2025 SC 354: 


PLD 2025 SC 354: 

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

جنسی ہراسانی طاقت کا معاملہ ہے، نہ کہ جننس کا


تحریر: legalhelp1
Category: جنسی ہراسانی / آئینی حقوق / لیبر لاء

پاکستان کی سپریم کورٹ نے فیصلہ PLD 2025 SC 354 میں ایک نہایت اہم اور بنیادی اصول طے دیا ہے جس نے جنسی ہراسانی کے قانونی، اخلاقی اور سماجی تصور کو نئی جہت عطا کی ہے۔ مقدمہ Muhammad Din v. Province of Punjab میں عدالت عظمیٰ نے اس امر کو واضح الفاظ میں بیان کیا کہ جنسی ہراسانی کا تعلق صرف جنسی عمل یا کسی کی جنس سے نہیں بلکہ طاقت کے عدم توازن سے ہے۔

🔎 پس منظر مقدمہ:


درخواست گزار محمد دین نے سرکاری ادارے میں مبینہ جنسی ہراسانی کے الزامات پر برطرفی کے خلاف درخواست دائر کی۔ کیس کے دوران سپریم کورٹ نے ہراسانی، طاقت، جنس، سماجی ساخت اور آئینی حقوق کے مابین تعلق پر گہرائی سے غور کیا۔

🟢 سپریم کورٹ نے قرار دیا:


1. جنسی ہراسانی صرف جنسی رغبت نہیں، بلکہ طاقت کے غلط استعمال کی شکل ہے۔
ہراسانی اکثر اوقات اعلیٰ یا بااختیار افراد کی جانب سے نچلے یا کمزور افراد پر کی جاتی ہے، جس میں طاقت کا غیر منصفانہ استعمال ہوتا ہے۔


2. محفوظ اور ہراسانی سے پاک کام کی جگہ ہر شہری کا آئینی حق ہے، خواہ وہ مرد ہو، عورت یا خواجہ سرا۔

یہ حق آئینِ پاکستان کے درج ذیل آرٹیکلز کے تحت حاصل ہے:

آرٹیکل 9: زندگی اور آزادی کا تحفظ

آرٹیکل 14: وقارِ انسانی

آرٹیکل 25: مساوات کا حق


3. جنسی ہراسانی ایک وسیع تر سماجی مسئلہ ہے

 جو صنفی طاقت کے عدم توازن، طبقاتی فرق، ذات پات، اور دیگر معاشرتی عناصر سے جُڑا ہوا ہے۔
عدالت نے intersectionality (بین الابعادی امتیاز) جیسے جدید تصورات کو تسلیم کیا۔


4. عدالت نے اس امر کو تسلیم کیا

 کہ متاثرین اکثر سماجی دباؤ، خوف، یا بدنامی کے باعث بروقت شکایت درج نہیں کرا پاتے۔
اس لیے تاخیر کو ان کے خلاف استعمال کرنا ناانصافی ہو گی۔


5. عدالت نے اداروں کو پابند کیا 

کہ وہ ہراسانی سے متعلق واضح پالیسی، شکایات کے ازالے کا مؤثر طریقہ کار، اور عملے کو تربیت فراہم کریں۔


⚖️ اس فیصلے کی قانونی اہمیت:


یہ فیصلہ صرف متاثرہ خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں اور خواجہ سرا افراد کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اب ہر ادارہ قانوناً پابند ہے کہ وہ ہراسانی کے ہر پہلو کو سمجھتے ہوئے ایسے ماحول کو یقینی بنائے جہاں ہر فرد محفوظ، باعزت، اور آزاد ہو کر کام کر سکے۔

📌 نتیجہ:


یہ فیصلہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنسی ہراسانی کے خلاف جنگ صرف قوانین بنانے سے نہیں بلکہ ان قوانین کے پیچھے سوچ کی تبدیلی سے جیتی جا سکتی ہے۔
طاقت کے غلط استعمال کو روکنا اور برابر کا احترام ہر ادارے اور فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Must read judgement 

PLD 2025 SC 354
(1) Sexual harassment is not about sex and formal position. It is about power.

(2) Right to a safe, harassment free workplace for all genders, including men, women, and transgender persons is rooted in the constitutional guarantees of life, liberty, dignity, and equality.

(3) Gendered power dynamics, social reinforcement and intersectionality.

C.P.L.A.2541/2023
Muhammad Din v. Province of Punjab through Secretary, Population Welfare, Lahore and others



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post