G-KZ4T1KYLW3 Impact of Lis Pendens on Property Buyers During Litigation | 2022 CLC 349 Lahore High Court

Impact of Lis Pendens on Property Buyers During Litigation | 2022 CLC 349 Lahore High Court

Impact of Lis Pendens on Property Buyers During Litigation | 2022 CLC 349 Lahore High Court.


🏛️ جائیداد کے مقدمہ کے دوران خرید و فروخت کی حیثیت اور سیکشن 12(2) سی پی سی کا دائرہ کار
(2022 CLC 349 - لاہور ہائیکورٹ)

🔍 اہم نکات:


1. اگر کوئی شخص جائیداد اس وقت خریدے جب اس پر عدالتی مقدمہ زیر التواء ہو، تو وہ سیکشن 52 ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کے تحت Lis Pendens کے اصول سے متاثر ہوتا ہے۔


2. ایسی خریداری خریدار کو قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی، جب تک مقدمہ مکمل ہو کر حق میں فیصلہ نہ ہو جائے۔


3. اگر بعد میں عدالت فیصلہ خلاف دے، تو خریدار سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق نہیں رکھتا، جب تک وہ دھوکہ دہی یا دائرہ اختیار کی کمی کو ثابت نہ کرے۔


4. عدالت نے واضح طور پر کہا کہ صرف "ایگریمنٹ ٹو سیل" یا نامکمل سیل ڈیڈ کی بنیاد پر خریدار کسی تیسرے فریق (مثلاً مدعیہ یا اُس کے ورثاء) کے خلاف کوئی قانونی حق حاصل نہیں کر سکتا۔

⚖️ فیصلے کا پس منظر:


میاں عمران سعید نے ایک جائیداد اس شخص سے خریدی جس کے حق میں ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ دیا۔ بعد ازاں، لاہور ہائیکورٹ نے ریویژن میں وہ فیصلہ کالعدم کر دیا اور اصل مدعیہ مس سلمیٰ بی بی کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔

خریدار (میاں عمران سعید) نے سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت درخواست دائر کی کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ دھوکہ دہی پر مبنی ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

📜 عدالت کا تجزیہ اور فیصلہ:


عدالت نے قرار دیا کہ خریدار نے مقدمہ زیر التواء ہونے کے باوجود جائیداد خریدی، جو کہ سیکشن 52 TPA کے تحت غیر مؤثر ہے۔

درخواست گزار نہ تو فراڈ ثابت کر سکا، نہ ہی دائرہ اختیار کی کوئی کمی۔

عدالت نے کہا کہ جب تک عدالت سے سیل ایگریمنٹ منسوخ نہ ہو یا نافذ نہ کیا جائے، اس کی بنیاد پر خریدار کو کوئی حق حاصل نہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ یہ ایگریمنٹ کسی قسم کی "حق سے دستبرداری" (Surrender) کی دستاویز کے زمرے میں نہیں آتا۔

لہٰذا، درخواست 12(2) سی پی سی کے تحت ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی گئی۔

💡 منفرد قانونی نکتہ:


اگر کوئی فرد ایسی جائیداد خریدے جو عدالتی مقدمے کا حصہ ہو، تو وہ خریدار اس مقدمے کے نتیجے میں سامنے آنے والے فیصلے کا پابند ہوتا ہے۔ وہ بعد میں عدالتی فیصلے کو دھوکہ دہی یا جعلسازی کے دعوے سے چیلنج نہیں کر سکتا، جب تک مضبوط شواہد نہ ہوں۔

📌 نتیجہ:


اس فیصلے نے یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ:

> "خریدار اگر مقدمہ زیر التواء ہونے کے باوجود جائیداد خریدے، تو وہ عدالتی کارروائی سے پیدا ہونے والے نتائج کا خود ذمہ دار ہے۔ وہ 12(2) سی پی سی کے تحت دائرہ اختیار یا فراڈ ثابت کیے بغیر عدالتی فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا۔"

🔗 متعلقہ دفعات:


سیکشن 12(2)، سول پروسیجر کوڈ 1908:
عدالتی فیصلے کو دھوکہ، جعلسازی یا دائرہ اختیار کی کمی کی بنیاد پر چیلنج کرنے کا طریقہ۔

سیکشن 52، ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882:
Lis Pendens کا اصول: جب کوئی مقدمہ عدالت میں زیر التواء ہو، تو اس جائیداد کی خرید و فروخت کا خریدار مقدمے کے نتائج سے متاثر ہوتا ہے۔

Must read Judgement



Citation Name  : 2022  CLC  349     LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
  ******  Side Appellant :** Mian IMRAN SAEED
  ******  Side Opponent :** Mst. SALIMA BIBI
S.12(2) ---Transfer of Property Act (IV of 1882), S.52---Suit for specific performance of agreement to sell--- Transfer of property during pendency of suit---Suit property was decreed by Trial Court in favour of the person from whom applicants purchased the property---Subsequently High Court in exercise of revisional jurisdiction reversed the findings and suit filed by respondent was decreed in his favour---Plea raised by applicants was that judgment in favour of respondent was result of fraud and misrepresentation---Validity---Applicants could not seek perfection of alleged right through attacking decree on the basis of executory or inchoate document, when sale deed was not executed by respondent---As long as agreement to sell was not cancelled upon judicial determination by way of decree of Court, alleged sale deed and agreement could extend no legal right to applicants against respondent or his legal heirs---Applicants were hit by provisions of S.52 of Transfer of Property Act, 1882, to the extent of alleged sale deed and agreement in their favour---No enforceable right in property was available against respondent, as applicants failed to seek enforcement of alleged representation against respondent or cancellation of agreement---High Court declined to determine legitimacy and effect of agreement while determining validity of decree in terms of S.12(2) C.P.C.--- Agreement in question could not be construed as surrender document, regarding rights of respondent--- Applicants lacked eligibility to challenge decree in terms of S.12(2) , C.P.C., as no fraud, misrepresentation of jurisdictional defect was found to upset decree in question---Application was dismissed, in circumstances



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Popular articles 


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post