Fraudulently Obtained Decree and Jurisdiction under Section 12(2) CPC – Key Ruling by Lahore High Court
سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت فراڈ سے حاصل شدہ ڈگری کو درخواست کے ذریعے چیلنج کرنا – 2023 CLC 782، لاہور ہائیکورٹ
تعارف:
پاکستانی عدالتی نظام میں اگر کوئی فریق عدالت سے دھوکہ دہی، جعلسازی یا غلط بیانی سے ڈگری حاصل کرے، تو دوسرے فریق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس ڈگری کو سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت چیلنج کرے۔ لاہور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے 2023 CLC 782 میں ایسے ہی ایک معاملے پر تفصیلی قانونی رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
پس منظرِ مقدمہ:
درخواست گزار (مرحوم محمد شریف) نے دعویٰ کیا کہ مخالف فریق (مرحوم محمد رمضان) نے عدالت سے جو ڈگری حاصل کی ہے وہ فراڈ اور جعلسازی کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔ ٹرائل کورٹ نے یہ دعویٰ وقت کی حد (Limitation) کے باعث خارج کر دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی، جس پر اپیلیٹ کورٹ نے کیس واپس ٹرائل کورٹ بھیجتے ہوئے ہدایت دی کہ مسائل فریم کیے جائیں اور شواہد ریکارڈ کر کے کیس کا میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔
ہائی کورٹ کا مشاہدہ اور قانونی اصول:
1. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دعویٰ کے مندرجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل تنازعہ فراڈ اور غلط بیانی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے دعویٰ کو درخواست کے طور پر سنے، بشرطیکہ عدالت کے پاس اس حوالے سے دائرہ اختیار موجود ہو۔
2. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سیکشن 12(2) کے تحت دائر کردہ درخواست کو سننے کے لیے ہر صورت میں "دعویٰ" ہونا ضروری نہیں۔ اگر معاملہ بادی النظر میں جعلسازی پر مبنی ہو تو عدالت درخواست کے طور پر سن سکتی ہے۔
3. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ہر مقدمے میں لازمی نہیں کہ فریم آف ایشوز کیے جائیں اور مکمل شواہد ریکارڈ ہوں۔ عدالت اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا براہِ راست فیصلہ دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
4. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سیکشن 12(3) سی پی سی عدالت کو طریقہ کار مہیا کرتا ہے کہ درخواست کو کیسے سنا جائے، اور اپیلیٹ کورٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بغیر وجہ کے ٹرائل کورٹ کو مسائل فریم کرنے اور شواہد لینے کی ہدایت دے۔
5. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اپیلیٹ کورٹ کی مداخلت قانون کے مطابق مناسب نہ تھی، اور ٹرائل کورٹ کو چاہیے کہ وہ خود سیکشن 12(3) کے تحت معاملے کی کارروائی کرے۔
فیصلہ:
عدالتِ عالیہ نے نظرثانی کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے کیس کو ٹرائل کورٹ بھیج دیا اور ہدایت دی کہ وہ سیکشن 12(3) سی پی سی کے تحت کارروائی کرے اور معاملے کو قانون کے مطابق نمٹائے۔
نتیجہ اور قانونی رہنمائی:
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ:
اگر کوئی عدالت سے ڈگری دھوکہ دہی سے حاصل کرے تو اس کو سیکشن 12(2) کے تحت چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
ہر صورت میں تفصیلی ٹرائل، مسائل کا تعین اور شواہد کی ریکارڈنگ ضروری نہیں۔
اپیلیٹ کورٹ کو محتاط رہنا چاہیے اور بغیر قانونی بنیاد کے ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں مداخلت سے اجتناب کرنا چاہیے۔
Must read Judgement
******** Citation Name : 2023 CLC 782 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
****** Side Appellant :** MUHAMMAD SHAREEF (DECEASED)
****** Side Opponent :** MUHAMMAD RAMZAN (DECEASED)
S.12(2) , (3)---Decree challenged on ground of fraud and misrepresentation---Conversion of suit into application under S.12(2) , C.P.C.---Trial Court dismissed the suit of the petitioners being time barred while Appellate court allowed the appeal and remanded the case with direction to frame issues, record evidence and decide the case on merits---Validity---Cursory reading of the plaint showed that the decree impugned was obtained by fraud and the same could not deprive the Court of its jurisdiction to decide it as an application under S.12(2) of the C.P.C. if otherwise such jurisdiction was available to the court under the law---It was not mandatory in every case to frame issue and record evidence for disposal of such an application---Subsection (3) of S.12 of the C.P.C. governs the procedure to be adopted by the Court while disposing of the application under S.12(2) of C.P.C. and without first allowing an opportunity to the civil court in that regard, the direction issued by the Appellate Court was unwarranted by law---Revision was partly allowed with the direction to Trial Court to proceed with the application of the respondents in accordance with subsection (3) of S.12 of C.P.C.---Revision was allowed, in circumstances
