Deference to Appellate Court in Case of Conflicting Judgments – Peshawar High Court Ruling 2024.
ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے سے متضاد ہوں تو ریویژنل کورٹ کس فیصلے پر انحصار کرے؟ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے 2024 CLC 1922 میں اس اہم قانونی نکتے کی وضاحت کی ہے۔
Appellate Court’s Judgment Prevails When Trial and Appellate Findings Differ – Peshawar High Court 2024 CLC 1922
تعارف
پاکستانی عدالتی نظام میں یہ سوال اکثر زیرِ بحث آتا ہے کہ اگر ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے سے متضاد ہوں تو ریویژنل کورٹ کس فیصلے پر انحصار کرے؟ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے 2024 CLC 1922 میں اس اہم قانونی نکتے کی وضاحت کی ہے۔
پس منظرِ مقدمہ
اس مقدمے میں فریقین سرفراز خان اور قریش خان کے درمیان ایک سول تنازع زیرِ سماعت تھا۔ ابتدائی سماعت ٹرائل کورٹ نے کی، جس کے بعد فریقِ مخالف نے اپیل دائر کی۔ اپیلٹ کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے کالعدم کر دیا۔ جب معاملہ ریویژنل کورٹ میں پہنچا تو سوال یہ اٹھا کہ دونوں عدالتوں میں سے کس کا فیصلہ معتبر ہے؟
ہائی کورٹ کا فیصلہ
پشاور ہائی کورٹ نے واضح طور پر درج ذیل اصول قائم کیے:
1. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جب دو ماتحت عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے سے متضاد ہوں، تو اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔
2. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ چونکہ شواہد کا دوبارہ جائزہ لیتی ہے، اس لیے اس کے فیصلے کو قانونی طور پر برتری حاصل ہوتی ہے۔
3. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ریویژنل کورٹ کو عمومی طور پر اپیلٹ کورٹ کے فیصلے پر انحصار کرنا چاہیے، جب تک کہ اس میں شواہد کے عدم مطالعہ (Non-reading) یا غلط مطالعہ (Misreading) کا کوئی واضح مسئلہ نہ ہو۔
4. ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جب ٹرائل اور اپیلٹ کورٹ کے درمیان تضاد ہو تو یہ ریویژنل کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھے کہ کس عدالت نے شواہد کو درست طور پر سمجھا اور لاگو کیا۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ ان تمام مقدمات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے جہاں اپیلٹ کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے مختلف ہوں۔ خاص طور پر جب ریویژنل دائرہ اختیار میں عدالت کو مداخلت کی درخواست کی جائے تو یہ فیصلہ ایک مضبوط نظیر (precedent) کے طور پر کام آ سکتا ہے۔
نتیجہ
فیصلہ 2024 CLC 1922 پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ایک اہم رہنمائی ہے جو عدالتی نظام میں شفافیت اور منطقی ترتیب کو بہتر بناتی ہے۔ اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں شواہد کی درست تشریح اور جائزہ لینے والی عدالت کو قانونی فوقیت دیتی ہیں۔
Must read Judgement
Citation Name : 2024 CLC 1922 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : SARFARAZ KHAN
Side Opponent : QURESH KHAN
Inconsistency between findings of Trial Court and Appellate Court---Judgments and decree s of two courts below at variance---In such situation, judgment of Appellate Court requires more deference---Normally Revisional Court is supposed to rely on the judgment of the Appellate Court if a case of non-reading and misreading of evidence is not found therein.
