G-KZ4T1KYLW3 Supreme Court Ruling on CPC Section 12(2): Fraud Claims Can Be Decided Without Recording Evidence – PLD 2024 SC 598"

Supreme Court Ruling on CPC Section 12(2): Fraud Claims Can Be Decided Without Recording Evidence – PLD 2024 SC 598"

Supreme Court Ruling on CPC Section 12(2): Fraud Claims Can Be Decided Without Recording Evidence – PLD 2024 SC 598"


سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم عدالتی فیصلہ سنایا ہے جو دیوانی مقدمات میں دھوکہ دہی (فراڈ) سے متعلق درخواستوں کی کارروائی سے متعلق ہے۔



 مقدمہ چیف سیٹلمنٹ کمشنر بورڈ آف ریونیو بمقابلہ اورنگزیب شافی برکی میں عدالت عظمیٰ نے یہ اصول طے کیا کہ بعض حالات میں عدالت سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت دائر درخواست کو گواہوں کے بیانات قلمبند کیے بغیر بھی نمٹا سکتی ہے۔

پس منظر:

درخواست گزار نے سی پی سی کے سیکشن 12(2) کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے پہلے سے جاری کردہ حکم میں دھوکہ دہی اور حقائق چھپانے کی بنیاد پر فیصلہ دیا گیا، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ ٹرائل کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست مسترد کر دی۔ بعد ازاں ہائی کورٹ سے بھی ریلیف نہ ملا، جس پر معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوا۔

قانونی نکات:


سیکشن 12(2) سی پی سی عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے یا حکم کو اگر فراڈ یا بددیانتی پر مبنی ہو تو منسوخ کر سکتی ہے۔

سیکشن 21 سی پی سی دائرہ اختیار سے متعلق ہے اور عمومی نوعیت کی تکنیکی پابندیاں عائد کرتا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ:

سپریم کورٹ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اگر کسی درخواست میں واضح طور پر دھوکہ دہی کے شواہد موجود ہوں اور ان کی نوعیت ایسی ہو کہ جس سے تحریری ریکارڈ یا دستاویزی ثبوتوں کے ذریعے فیصلہ ممکن ہو، تو عدالت اس درخواست کو گواہوں کے بیانات کے بغیر بھی نمٹا سکتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں اور عدالت کے پاس یہ صوابدید ہے کہ وہ کارروائی کا طریقہ کار خود طے کرے۔

نتیجتاً، سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو ریلیف دیا۔

اصول قانون:


1. عدالت فراڈ سے متعلق سیکشن 12(2) کی درخواست گواہوں کے بغیر بھی نمٹا سکتی ہے۔


2. عدالت ہر کیس میں اپنے طریقہ کار کا تعین خود کر سکتی ہے، جو حقائق کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔


3. دستاویزی اور ظاہر شواہد کی بنیاد پر بھی فیصلہ ممکن ہے۔

نتیجہ:

یہ فیصلہ عدالتوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ ہر 12(2) کی درخواست میں گواہ بلانا ضروری نہیں۔ اگر شواہد واضح ہوں تو عدالت کارروائی کو جلد نمٹا سکتی ہے، جو کہ انصاف کی فراہمی میں سرعت کا سبب بنتا ہے۔

ریفرنس:

PLD 2024 SC 598
Chief Settlement Commissioner Board of Revenue vs Aurangzeb Shafi Burki



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post