Courier Company Held Liable for Fraud Due to Failure in Identity Verification – 2025 LHC Judgment.
کورئیر کمپنی کی غفلت پر معاوضہ دینا لازم –
2025 LHC کا اہم فیصلہ
مختصر کہانی:
محمد صدیق گھمن نے ایک قیمتی موبائل فون بذریعہ TCS کورئیر کسی شخص کو بھیجا جسے خود آ کر self-collection کے ذریعے وصول کرنا تھا۔ مگر کورئیر کمپنی نے بغیر درست شناختی تصدیق کے وہ موبائل کسی غیر متعلقہ فرد کے حوالے کر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شخص فرضی شناخت رکھتا تھا اور اس نے شکایت کنندہ کے ساتھ فراڈ کیا۔
شکایت کنندہ نے صارف عدالت میں مقدمہ دائر کیا جس کا فیصلہ اس کے حق میں ہوا، تاہم TCS نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی۔
عدالتی مشاہدات:
عدالت نے درج ذیل نکات پر تفصیلی غور کیا:
1. Self-collection کی نوعیت:
عدالت نے قرار دیا کہ جب کورئیر کمپنی کوئی قیمتی اور بیمہ شدہ چیز self-collection کے تحت پہنچاتی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ وصول کنندہ کی شناخت کی سختی سے تصدیق کرے۔
2. شناختی تصدیق کی ناکامی:
TCS نے بغیر کسی دستاویزی یا اصل شناخت کے پارسل حوالہ کر دیا، جو کہ ایک سنگین غفلت (Negligence) اور معاہدے کی خلاف ورزی (Breach of Contract) ہے۔
3. صارف کی جزوی غفلت:
عدالت نے تسلیم کیا کہ چونکہ پارسل کا وصول کنندہ ایک فرضی شخص نکلا، تو شکایت کنندہ کی بھی کسی حد تک کوتاہی تھی۔ تاہم، فراڈ کی تکمیل TCS کی سروس میں سستی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
عدالتی فیصلہ:
عدالت نے یہ قرار دیا کہ:
> "کورئیر کمپنی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ self-collection پارسل صرف مکمل شناختی تصدیق کے بعد ہی حوالہ کرے، خصوصاً جب چیز قیمتی اور بیمہ شدہ ہو۔ اس اصول کی خلاف ورزی کمپنی کو مکمل طور پر ذمہ دار بناتی ہے۔"
قانونی اہمیت:
یہ فیصلہ پاکستان میں کورئیر کمپنیوں کی ذمہ داریوں اور صارفین کے حقوق کے حوالے سے راہنما اصول فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ان حالات میں جب:
ڈیلیوری self-collection کے ذریعے ہو،
پارسل قیمتی یا بیمہ شدہ ہو،
شناختی تصدیق میں سستی یا غفلت کی گئی ہو۔
نتیجہ:
کورئیر کمپنیاں کسی پارسل کی حوالگی میں شناخت کی مکمل تصدیق کی پابند ہیں۔ صرف پارسل بھیجنے والے کی غلطی پر اکتفا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتیں۔ اس فیصلے سے صارفین کو تحفظ ملا ہے اور سروس فراہم کرنے والوں پر بھی واضح ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔
Must read judgement
The nub of the matter is to determine whether a service provider is liable to pay compensation on account of faulty service when the consumer is also responsible to a certain extent inasmuch as the consumer shipped the goods to a consignee who was not a real person and committed fraud with the complainant-respondent. Held: The very concept of "self-collection" implies that the parcel should only be handed over upon strict verification of the identity of the recipient, especially when the item is valuable and insured. The failure to verify identity and the handing over of the parcel to an unauthorized person constitutes a breach of contractual duty as well as negligence. In fact, the fraud, which the intended consignee committed with the respondent, was materialized because of the inefficiency and breach of duty on the part of the appellant-company by handing over the mobile phone to the irrelevant person.
First Appeal Against Order(F.A.O.)
36959/22
TCS In-Charge Regional Office Gujranwala etc Vs Muhammad Siddique Ghumman etc
Mr. Justice Anwaar Hussain
03-06-2025
2025 LHC 3888
