Compromise in Public Trust Cases Invalid Without Court Approval: Sindh High Court Ruling on Mosque Dispute (2024 CLC 151).
مسجد و مدرسہ پر قبضے کی صلح کالعدم، ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
2024 CLC 151 – سندھ ہائیکورٹ
🔹 پس منظر:
یہ مقدمہ کراچی کی ایک مسجد و مدرسہ کی زمین اور انتظامی کنٹرول پر جھگڑے سے متعلق تھا۔ دونوں فریقین کا دعویٰ تھا کہ وہ اس جگہ کے اصل منتظم ہیں۔ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت آیا، مگر دورانِ سماعت فریقین نے آپس میں مفاہمت کر کے صلح کی بنیاد پر کیس ختم کروا لیا۔
🔹 اعتراض:
کچھ عرصہ بعد محلے کے رہائشیوں نے عدالت میں درخواست دی کہ یہ مسجد و مدرسہ ایک عوامی خیراتی ادارہ (Public Trust) ہے، جسے دبئی کے ایک شہری کی مالی امداد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ لہٰذا فریقین کی باہمی صلح قانوناً غلط اور عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا:
مسجد و مدرسہ ایک عوامی ٹرسٹ ہے، اس کا انتظام نجی صلح سے طے نہیں ہو سکتا۔
سیکشن 92 CPC کے تحت عوامی خیراتی اداروں سے متعلق مقدمات میں عدالت کی اجازت کے بغیر صلح غیر مؤثر ہوتی ہے۔
فریقین کی مفاہمت دھوکہ دہی اور غلط بیانی پر مبنی تھی تاکہ عوامی مفاد کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
سیکشن 12(2) CPC کے تحت عدالت کو اختیار ہے کہ وہ دھوکہ دہی کی بنیاد پر دی گئی مفاہمتی ڈگری کالعدم قرار دے۔
عدالت نے مفاہمت کی بنیاد پر کیا گیا پرانا فیصلہ منسوخ کر دیا۔
🌟 منفرد نکتہ:
اگر کوئی مسجد یا مدرسہ عوامی چندے یا غیر ملکی عطیہ دہندہ کی مالی معاونت سے بنایا گیا ہو تو وہ "Public Trust" کہلاتا ہے۔ اس کے بارے میں کسی بھی قسم کا قانونی فیصلہ صرف عدالت کی منظوری سے ہو سکتا ہے، صرف فریقین کی صلح کافی نہیں۔
📌 نتیجہ:
یہ فیصلہ عوامی اداروں جیسے کہ مساجد، مدارس اور خیراتی ٹرسٹ کے تحفظ میں ایک اہم قانونی نظیر ہے۔ عدالت نے واضح کر دیا کہ عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے قانون کے ضوابط کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، چاہے فریقین کی باہمی رضا مندی ہی کیوں نہ ہو۔
عوامی خیراتی اداروں کے تحفظ سے متعلق اہم عدالتی نظیر
(مساجد، مدارس اور پبلک ٹرسٹس کے معاملات)
حوالہ:
2024 CLC 151
کراچی ہائی کورٹ، سندھ
فریقین:
درخواست گزار: مولانا عبادالرّحمن عباسی
مدعا علیہ: جہانگیر آدم
پس منظرِ مقدمہ
اس مقدمے میں ایک ایسا تنازع سامنے آیا جس میں ایک عوامی خیراتی ٹرسٹ (مسجد / مدرسہ) سے متعلق جائیداد کے بارے میں فریقین کے مابین سمجھوتے (Compromise) کی بنیاد پر فیصلہ کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں علاقہ مکینوں نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ:
مسجد/مدرسہ کی تعمیر عوامی و خیراتی مقاصد کے لیے کی گئی تھی؛
فنڈنگ ایک غیر ملکی (UAE) شہری کی جانب سے فراہم کی گئی؛
پبلک ٹرسٹ سے متعلق مقدمہ سیکشن 92، ضابطہ دیوانی کے تحت تھا، جس میں فریقین کو آزادانہ سمجھوتے کی اجازت نہیں۔
عدالت کے اہم قانونی نکات
1۔ پبلک ٹرسٹ میں سمجھوتے کی ممانعت
عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ:
سیکشن 92، C.P.C. کے تحت دائر مقدمات، جو عوامی خیراتی اداروں سے متعلق ہوں،
محض فریقین کی رضا مندی سے سمجھوتے کے ذریعے ختم نہیں کیے جا سکتے۔
ایسا سمجھوتہ قانوناً ناقابلِ قبول اور عوامی مفاد کے منافی ہے۔
2۔ فراڈ اور غلط بیانی (Misrepresentation)
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ:
سمجھوتے کا مقصد عوامی مفاد کو نقصان پہنچانا تھا؛
درخواست گزار اور دیگر متاثرہ افراد کو اندھیرے میں رکھا گیا؛
یہ عمل فراڈ اور غلط بیانی کے زمرے میں آتا ہے۔
لہٰذا ایسا فیصلہ سیکشن 12(2)، C.P.C. کے تحت کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
3۔ عدالت کا اختیار (Inherent Jurisdiction)
کراچی ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے:
سمجھوتے کی بنیاد پر دیا گیا سابقہ فیصلہ کالعدم (Set Aside) کر دیا؛
اس اصول کو دوبارہ مستحکم کیا کہ عوامی ادارے نجی مفادات کی نذر نہیں کیے جا سکتے۔
عدالتی نتیجہ
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ:
پبلک ٹرسٹ سے متعلق مقدمات میں
قانونی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا؛
چاہے فریقین آپس میں متفق ہی کیوں نہ ہوں،
عوامی مفاد کو ترجیح حاصل رہے گی۔
قانونی اہمیت (Legal Significance)
یہ فیصلہ درج ذیل اداروں کے تحفظ کے لیے اہم عدالتی نظیر ہے:
مساجد
مدارس
خیراتی و عوامی ٹرسٹس
وقف املاک
اور واضح پیغام دیتا ہے کہ:
عوامی مفاد کے معاملات میں نجی سمجھوتے، قانون کے بغیر، ناقابلِ قبول ہیں۔
Must read judgement
Citation Name : 2024 CLC 151 KARACHI-HIGH-COURT-SINDH
Side Appellant : Maulana IBADUR REHMAN ABBASI
Side Opponent : JEHANGIR ADAM
Ss. 42 & 54---Civil Procedure Code (V of 1908),Ss. 12(2), 92 & O.XXIII, R.3---Suit for declaration and injunction---Public charities---Judgment, setting aside of---Plea of fraud and misrepresentation---Compromise of suit---One of the parties to suit was a charitable trust---Suit was disposed of on the basis of compromise between the parties---In another suit judgment and decree passed on same subject was challenged by residents of the locality admitting that Mosque/Madrassa was built by the finances provided by a foreign (UAE) national through one of the defendants---Judgment and decree passed in other suit was dismissed by Division Bench of High Court on the ground that the other suit was not-maintainable as suit filed under S.92, C.P.C. relating to Public Trust could not have been allowed to be compromised---Compromise was in violation of the requirement of S.92, C.P.C.---Parties aimed to prejudice the interests of the applicant and their act was not devoid of any misrepresentation---High Court in exercise of jurisdiction under S. 12(2), C.P.C. set aside judgment and decree passed on the basis of compromise---Application was allowed, in circumstances
