Writ Petition Maintainable Against Appellate Court's Decision in Family Matters: Lahore High Court Judgment 2025.
فیملی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کا دائرہ اختیار: لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ (PLD 2025 Lahore 249)
تعارف
فیملی مقدمات میں عدالتوں کے دائرہ اختیار اور قانونی راستوں کی وضاحت کے لیے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ "مس مِسباح افتخار بنام مس علیسہ" (PLD 2025 Lahore 249) ایک نہایت اہم قانونی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فیصلے نے واضح کیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کب بطور فیملی کورٹ اور کب بطور اپیلیٹ کورٹ کام کرتا ہے، اور ایسے حالات میں آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن کی قابلِ سماعت ہونے کا معیار کیا ہوگا۔
کیس کی مختصر کہانی
مس مِسباح افتخار نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے خارج کر دی۔ انہوں نے اس اپیلیٹ فیصلے کے خلاف ضابطہ دیوانی کی دفعہ 12(2) کے تحت درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ فیصلہ دھوکہ دہی یا غلط بیانی پر مبنی ہے۔ تاہم عدالت نے وہ درخواست مسترد کر دی۔
اس کے بعد مس مِسباح نے لاہور ہائی کورٹ میں آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن دائر کی، جس پر قانونی سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا ایسا اپیلیٹ فیصلہ رٹ پٹیشن کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟
اہم قانونی نکتہ
اس کیس کا سب سے منفرد نکتہ یہ تھا کہ:
> کیا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، جو فیملی اپیل سن رہا ہو، وہ بطور فیملی کورٹ کام کرتا ہے یا اپیلیٹ کورٹ؟
ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے وضاحت کی:
1. فیملی کورٹس رولز 1965 کے قاعدہ 3 کے تحت حکومت سول جج، سینئر سول جج، ڈسٹرکٹ جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو بطور فیملی کورٹ مقرر کر سکتی ہے۔
2. عام طور پر فیملی کورٹ کے مقدمات سول جج سنتے ہیں، جب کہ ڈسٹرکٹ جج اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج بطور اپیلیٹ کورٹ کام کرتے ہیں، جیسا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے سیکشن 14 میں بیان کیا گیا ہے۔
3. لہٰذا جب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج فیملی کورٹ کے فیصلے پر اپیل سن رہا ہو تو وہ بطور اپیلیٹ کورٹ کام کر رہا ہوتا ہے، نہ کہ بطور فیملی کورٹ۔
نتیجتاً: اس اپیلیٹ فیصلے کے خلاف آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن قابلِ سماعت ہے۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ:
اس نے فیملی عدالت اور اپیلیٹ عدالت کے دائرہ اختیار میں فرق واضح کیا۔
ایسے فریقین جو اپیلیٹ فیصلے کے خلاف انصاف کے متلاشی ہوں، وہ رٹ پٹیشن دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
خلاصہ
PLD 2025 Lahore 249 کا فیصلہ فیملی اور سول قوانین کے دائرہ اختیار میں ایک اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے مطابق:
> اگر اپیل کسی فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے سنی ہو، تو وہ بطور اپیلیٹ کورٹ کام کرتا ہے، اور اس کا فیصلہ آرٹیکل 199 کے تحت رٹ پٹیشن سے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
Must read judgement
Citation Name : 2025 PLD 249 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : Mst. MISBAH IFTIKHAR
Side Opponent : Mst. ALEESA
Art. 199---Civil Procedure Code (V of 1908), S.12(2) ---Family Courts Act (XXXV of 1964), S. 14---Family Courts Rules, 1965, R.3---Constitutional petition---Maintainability---Filing of application under S.12(2) , C.P.C., against the decree passed by the Appellate Court---Under R. 3 of the Family Courts Rules, 1965, the courts of the District Judge, the Additional District Judge are also designated as Family Courts along with the Civil Judge but ordinarily functions of Family Courts are assigned to the Civil Judge and the District Judge and the Additional District Judge acts as appellate court as is evident from the bare reading of S.14 of the Family Courts Act, 1964 (Act)---Additional District Judge, who decided the application of petitioners under S.12(2) , C.P.C., was officiating as Appellate Court, thus, writ petition was maintainable
Writ Petition Maintainable Against Appellate Court's Decision in Family Matters: Lahore High Court Judgment 2025
