Legal Status of Shamlat Land and Revenue Record Entries – 2021 CLC 1661 (Peshawar High Court.
عنوان: شاملات زمین پر قبضہ اور ریونیو ریکارڈ کی قانونی حیثیت – 2021
CLC 1661 (پشاور ہائی کورٹ)
تعارف:
شاملات زمین پاکستان کے دیہی علاقوں میں ایک عام نوعیت کی زمین ہوتی ہے جو گاؤں کے تمام باشندوں کے اجتماعی استعمال کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ اس زمین پر نجی قبضہ ایک سنگین قانونی مسئلہ بن سکتا ہے، خاص طور پر جب ریونیو ریکارڈ میں یہ زمین "شاملات دیہہ" کے طور پر درج ہو۔ زیرِ نظر مقدمہ اسی نوعیت کا ہے جس میں عدالت نے اہم اصول واضح کیے۔
پس منظرِ مقدمہ:
مقبول اسلام محمد کے خلاف الزام تھا کہ اس نے ضلع کرک کی تحصیل باندہ داؤد شاہ میں واقع شاملات زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے اس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے زمین کو عوامی استعمال کے لیے واگزار کروانے کا حکم دیا۔ مقبول اسلام نے اس فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا۔
درخواست گزار کا مؤقف:
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ جس زمین کو شاملات قرار دیا گیا ہے وہ درحقیقت اس کی نجی ملکیت ہے اور عوامی راستہ یا گزرگاہ نہیں ہے، اس لیے حکام کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔
عدالتی مشاہدات اور فیصلہ:
پشاور ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی آئینی درخواست مسترد کر دی اور بعد ازاں دائر کی گئی نظرثانی کی درخواست بھی خارج کر دی۔ عدالت نے درج ذیل اہم نکات بیان کیے:
1. ریونیو ریکارڈ کا اندراج معتبر ہے:
خیبر پختونخوا لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 52 کے مطابق ریونیو ریکارڈ میں موجود اندراجات کو درست مانا جاتا ہے جب تک کہ ان کو کسی قانونی فورم پر چیلنج نہ کیا جائے۔
2. درخواست گزار نے ریکارڈ کو چیلنج نہیں کیا:
درخواست گزار نے ریونیو ریکارڈ میں شاملات کے اندراج کو نہ تو ٹریبیونل میں، نہ سول عدالت میں اور نہ ہی آئینی درخواست کے دوران چیلنج کیا۔
3. زبانی دعویٰ کافی نہیں:
عدالت نے قرار دیا کہ محض یہ کہہ دینا کہ زمین نجی ہے، اُس وقت تک کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا جب تک کہ متعلقہ ریکارڈ میں تبدیلی نہ کروائی جائے۔
Must read judgement
Citation Name : 2021 CLC 1661 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : MAQBOOL ISLAM MUHAMMAD
Side Opponent : ASSISTANT COMMISISNER, BANDA DAUD SHAH, KARAR
Ss.3 & 12---Khyber Pakhtunkhwa Land Revenue Act (XVII of 1967), S.52---Civil Procedure Code (V of 1908), XLVII, R.1---Revenue record---Presumption---Proceedings were initiated against petitioner for encroaching upon Shamlat land (community land) of village---Petitioner sought review of judgment passed by High Court dismissing his Constitutional petition against order passed by authorities--- Plea raised by petitioner was that land in question was private land and could not be termed as thoroughfare---Validity---Presumption of truth was attached to entries of revenue papers in accordance with S.52 of Khyber Pakhtunkhwa Land Revenue Act, 1967, though it was rebuttable---Entries in revenue papers were never challenged before appropriate forum nor were questioned before Tribunal and not even before High Court---High Court declined to interfere in the matter as points raised in Constitutional petition were properly decided in the judgment---Review petition was dismissed, in circumstances.
Legal Status of Shamlat Land and Revenue Record Entries – 2021 CLC 1661 (Peshawar High Court.
