Unfettered Right of a Muslim to Gift Property – PLD 2006 SC 15.
مسلمان کا حقِ ھبہ اور وارثوں کی محرومی — ایک عدالتی جائزہ
(PLD 2006 SC 15: مسز نصرت زہرہ بنام مسز اظہرہ بی بی)
اسلامی قانون میں "ھبہ" یعنی جائیداد کا تحفہ دینا ایک مکمل اختیار ہے جو ہر بالغ مسلمان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس اہم اصول کی تشریح سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم فیصلے PLD 2006 SC 15 میں کی، جس میں "مسز نصرت زہرہ" نے "مسز اظہرہ بی بی" کے خلاف جائیداد کی تقسیم سے متعلق دعویٰ دائر کیا تھا۔
کیس کا پس منظر:
مسز نصرت زہرہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے والد نے اپنی ساری جائیداد ایک بیٹی، یعنی اظہرہ بی بی، کو زندگی میں ھبہ کر دی، اور باقی وارثوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کر دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ھبہ غیر قانونی ہے کیونکہ:
باقی وارثوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا؛
ھبہ کرتے وقت مادی حقائق چھپائے گئے؛
یہ عمل بدنیتی پر مبنی تھا۔
اظہرہ بی بی نے موقف اختیار کیا کہ یہ جائیداد انہیں والد نے اپنی رضا و رغبت سے ھبہ کی تھی اور اس میں کوئی دھوکہ یا غلط بیانی نہیں تھی۔
عدالت کا فیصلہ:
سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں واضح الفاظ میں درج ذیل اصول بیان کیے:
> "یہ امر اب پوری طرح طے شدہ ہے کہ ایک مسلمان کو اپنی جائیداد کو ھبہ کے طور پر دینے کا مکمل اور غیر مشروط اختیار حاصل ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ کچھ وارث محروم ہو جائیں، ھبہ کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، اگر حاصل کنندہ (donee) مادی حقائق کو چھپائے یا دھوکہ دہی سے کام لے، تو ایسا ھبہ غیر مؤثر قرار دیا جا سکتا ہے۔"
قانونی نکتہ:
اس فیصلے نے مسلم قانونِ ھبہ کے درج ذیل اہم اصول کو مزید مضبوط کیا:
مسلمان کو اپنی زندگی میں جائیداد کے کسی بھی حصے کو کسی کو بھی ھبہ کرنے کا مکمل حق حاصل ہے؛
وارثوں کی محرومی بذاتِ خود ھبہ کو غیر قانونی نہیں بناتی؛
لیکن اگر دھوکہ، بدنیتی یا حقائق چھپانے کا عنصر ہو تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔
نتیجہ:
یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے ایک رہنما اصول فراہم کرتا ہے جو اپنی زندگی میں جائیداد کا بندوبست کرنا چاہتے ہیں۔ ھبہ کرتے وقت شفافیت، رضاکارانہ نیت، اور دیگر وارثوں سے متعلق حقائق کی وضاحت ضروری ہے تاکہ بعد میں کوئی قانونی تنازع جنم نہ لے۔
Must read judgement
PLD 2006 SC 15
Mst.Nusrat Zohra vs Mst.Azhra Bibi case,Hon’ble Supreme Court observed that.
“It is well-settled by now that”the power of a Muslim to dispose off the property by way of gift are unfettered.A gift can’t be invalidated only because the heirs are deprived of their shares.But where the material facts are concealed by the donee,such a gift can be declared invalid on such account”
