G-KZ4T1KYLW3 Oral Sale Agreement Rejected for Lack of Proof – Key Ruling in 2025 CLC 885

Oral Sale Agreement Rejected for Lack of Proof – Key Ruling in 2025 CLC 885

Oral Sale Agreement Rejected for Lack of Proof – Key Ruling in 2025 CLC 885.


زبانی معاہدے کی بنیاد پر مخصوص کارکردگی کی ڈگری سے انکار — 2025 CLC 885

مقدمے کا پس منظر:


مقدمہ ناصر علی بنام مسز راحیلا مہدی (Civil Revision No. 241/2022) کے عنوان سے ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا۔ مدعی ناصر علی نے دعویٰ دائر کیا کہ مدعا علیہہ نے اس کے ساتھ ایک زبانی معاہدے کے تحت جائیداد فروخت کرنے کا وعدہ کیا، لیکن بعد ازاں اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ مدعی نے عدالت سے استدعا کی کہ مدعا علیہہ کو مخصوص کارکردگی (Specific Performance) کا حکم دیا جائے۔

عدالتی مشاہدات اور قانونی نکات:


ہائی کورٹ نے مقدمے کے شواہد اور قانونی نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور درج ذیل اہم اصول واضح کیے:

1. زبانی معاہدہ سخت شہادت کا متقاضی ہوتا ہے:


عدالت نے قرار دیا کہ زبانی معاہدے کو تسلیم کروانے کے لیے صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ مدعی کو ٹھوس، معتبر اور غیر جانبدار شہادت فراہم کرنا لازم ہے۔

2. آزاد گواہ کی عدم موجودگی، معاہدے کو مشکوک بنا دیتی ہے:


مدعی کی طرف سے پیش کیے گئے تمام گواہان قریبی یا ذاتی تعلق رکھنے والے تھے۔ کسی آزاد گواہ کی موجودگی نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے معاہدے کو ناقابل اعتبار قرار دیا۔

3. گواہوں کے بیانات میں تضادات:


مدعی کے گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات پائے گئے، مثلاً معاہدے کی تاریخ، مقام، اور قیمت کے تعین کے حوالے سے مختلف باتیں کی گئیں، جو معاہدے کی سچائی پر سوالیہ نشان تھے۔

4. کمیشن کی رپورٹ ناقابل اعتبار:


مقدمے میں مقرر کیے گئے لوکل کمیشن کی رپورٹ میں بھی بے ضابطگیاں تھیں، جسے عدالت نے ناقابل اعتبار اور ناقابل اعتماد قرار دیا۔

5. مدعا علیہہ کے مؤقف کی کمزوری، مدعی کے حق میں فیصلہ دینے کی بنیاد نہیں بن سکتی:


عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ مدعا علیہہ کی طرف سے دفاع کمزور یا مبہم ہو، پھر بھی مدعی کو اپنے دعویٰ کے ہر پہلو کو قانونی تقاضوں کے مطابق ثابت کرنا ضروری ہے۔

فیصلہ:


ہائی کورٹ نے ان تمام خامیوں کی بنیاد پر مدعی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ:

> "ایسا کوئی زبانی معاہدہ، جو آزاد گواہ سے ثابت نہ ہو، جس میں گواہوں کے بیانات متضاد ہوں، اور جس کی تائید کسی قابل اعتماد رپورٹ سے نہ ہو، اس کی بنیاد پر عدالت مخصوص کارکردگی کی ڈگری جاری نہیں کر سکتی۔"

قانونی و تربیتی رہنمائی:


یہ فیصلہ ان تمام وکلاء، پراسیکیوٹرز، اور تحقیقاتی افسران کے لیے ایک رہنمائی ہے جو زبانی معاہدوں پر مبنی سول مقدمات میں کام کر رہے ہوں۔ اس سے درج ذیل نکات واضح ہوتے ہیں:

زبانی معاہدے ہمیشہ قابل اعتبار شہادت سے ثابت کیے جائیں۔

غیر جانبدار گواہوں کی موجودگی انتہائی ضروری ہے۔

عدالت گواہوں کے بیانات میں معمولی تضاد بھی سنجیدگی سے لیتی ہے۔

لوکل کمیشن کی رپورٹ مکمل، واضح اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔

نتیجہ:


فیصلہ 2025 CLC 885 اس بات کی واضح مثال ہے کہ صرف زبانی دعویٰ یا مدعا علیہہ کی خامیاں عدالت سے ریلیف دلانے کے لیے کافی نہیں ہوتیں۔ ہر مدعی پر لازم ہے کہ وہ اپنا دعویٰ مکمل، جامع اور ناقابل تردید شہادت سے ثابت کرے۔

Must read judgement 

2025 CLC 885
Neither report of the local commission, which is full of irregularities, nor weaknesses of the defendant's case can be made basis of passing a decree in suit for specific performance of contract instituted on the basis of an oral agreement to sell, which agreement was not concluded in presence of any independent witness and the record clearly depicts glaring contradiction in statement of PWs qua the execution of said oral agreement.
Civil Revision-241-22
NASIR ALI VS MST. RAHEELA MAHDI



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post