Judicial Discretion in Granting Time Extension Under Section 148 CPC: Analysis of 2024 SCMR 1059.
عنوان: دفعہ 148 ضابطہ دیوانی کے تحت وقت میں توسیع پر عدالتی صوابدید: 2024 SCMR 1059 کا تجزیہ
تعارف:
عدالتی نظام کی مؤثر کارکردگی کے لیے مقدمات کا بروقت فیصلہ ناگزیر ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات فریقین کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت درکار ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں ضابطہ دیوانی کی دفعہ 148 عدالت کو اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی عمل کی تکمیل کے لیے دی گئی مدت میں توسیع کر سکے، چاہے وہ مدت ختم ہو چکی ہو۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے "خاں محمد فاضل بنام ممتاز منور خان نیازی (2024 SCMR 1059)" میں اس اختیار کی حدود اور تقاضوں کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
قانونی پس منظر:
دفعہ 148 ضابطہ دیوانی کے مطابق:
"اگر عدالت کسی کام کے لیے کوئی مدت مقرر کرے تو وہ عدالت اپنی صوابدید پر، وقتاً فوقتاً، اس مدت میں اضافہ کر سکتی ہے، خواہ مقررہ مدت ختم ہی کیوں نہ ہو چکی ہو۔"
یہ قانون عدالت کو لچک فراہم کرتا ہے کہ وہ حقیقی اور معقول وجوہات کی بنیاد پر کسی فریق کو اضافی مہلت دے، تاہم اس اختیار کا استعمال بے قاعدہ یا غیر سنجیدہ انداز میں نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے کا خلاصہ:
اس مقدمے میں درخواست گزار نے کسی عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت کی درخواست کی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ عدالت کو وقت میں توسیع کا اختیار حاصل ہے، لیکن یہ اختیار من مانی، خودسرانہ یا غیر معقول انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس اختیار کو استعمال کرنے کے لیے عدالت کو معقول، منصفانہ اور قانونی اصولوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
اہم نکات:
1. عدالتی صوابدید محدود ہے:
عدالت کا اختیار مکمل طور پر اصول و ضوابط کا پابند ہے۔
2. مدت ختم ہونے کے بعد بھی توسیع ممکن ہے:
عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد بھی توسیع دے سکتی ہے، بشرطیکہ وجوہات معقول ہوں۔
3. انصاف کی بروقت فراہمی ضروری:
غیر ضروری توسیع مقدمات کو تاخیر کا شکار بناتی ہے، جو انصاف کے منافی ہے۔
4. ہر درخواست کا انفرادی جائزہ:
عدالت کو ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لینا ہو گا کہ آیا توسیع کی درخواست جائز ہے یا نہیں۔
نتیجہ:
فیصلہ 2024 SCMR 1059 اس اصول کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت کو دیا گیا صوابدیدی اختیار انصاف، توازن اور شفافیت کے دائرے میں رہ کر استعمال ہونا چاہیے۔ دفعہ 148 کا مقصد فریقین کی مدد کرنا ہے، لیکن یہ سہولت تبھی دی جانی چاہیے جب اس کی معقول بنیاد ہو۔ اس فیصلے نے عدالتوں کو یہ یاد دہانی کروائی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کے استعمال میں مکمل سنجیدگی، دانشمندی اور عدالتی وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں۔
Must read judgement
Enlargement of time---Court , discretion of---Scope---No doubt the time allowed for doing a thing can be enlarged by the Court under Section 148, C.P.C., in its discretion from time to time, even though the period originally fixed or granted may have expired, but this discretion cannot be exercised arbitrarily, capriciously or whimsically, rather such discretion must be exercised and structured in a reasonable and judicious manner.
Kh. MUHAMMAD FAZIL VS MUMTAZ MUNNAWAR KHAN NIAZI
2024 SCMR 1059
Judicial Discretion in Granting Time Extension Under Section 148 CPC: Analysis of 2024 SCMR 1059
