G-KZ4T1KYLW3 Job Termination of Widow After Remarriage is Unlawful and Un-Islamic: Supreme Court Ruling 2025 PLC (CS) 422

Job Termination of Widow After Remarriage is Unlawful and Un-Islamic: Supreme Court Ruling 2025 PLC (CS) 422

Job Termination of Widow After Remarriage is Unlawful and Un-Islamic: Supreme Court Ruling.2025 PLC (CS) 422


بیوہ کی دوسری شادی پر نوکری سے برطرفی: لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ


عنوان مقدمہ:
زویا اسلام بنام حکومتِ پاکستان و دیگر
Intra Court Appeal No. ICA 77894/22
(2025 PLC (CS) 422 ; PLJ 2024 Lahore 811)

پس منظر:


زویا اسلام کو ان کے شوہر کی دورانِ ملازمت وفات کے بعد 2020 میں بطور نائب قاصد کنٹریکٹ پر سرکاری نوکری دی گئی۔ 2021 میں انہوں نے دوسری شادی کی، جس کے بعد سرکاری حکام نے ایک پرانے میمورنڈم (مورخہ 15 دسمبر 2015) کی بنیاد پر ان کی ملازمت ختم کر دی۔ اس میمورنڈم کے مطابق، اگر کوئی بیوہ دوبارہ شادی کرے تو اس کی نوکری ختم سمجھی جائے گی۔

زویا اسلام نے اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا اور سنگل بینچ سے رجوع کیا۔ بعد ازاں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی جس پر یہ فیصلہ سامنے آیا۔

عدالت کا مشاہدہ:


لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ:

1. بیوہ کی دوسری شادی کرنا نہ صرف اسلامی شریعت کے مطابق جائز ہے بلکہ یہ ایک عورت کا بنیادی، مذہبی اور انسانی حق بھی ہے۔


2. بیوہ کو نوکری صرف اس بنا پر دینا کہ وہ بیوہ ہے اور پھر اسے دوبارہ شادی کرنے پر نوکری سے نکال دینا ایک امتیازی سلوک ہے، جو کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔


3. میمورنڈم 15-12-2015، جس کی بنیاد پر زویا اسلام کو برطرف کیا گیا، سپریم کورٹ کی طرف سے پہلے ہی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، لہٰذا اس کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں۔


4. عدالت نے کہا کہ ایسی کوئی پالیسی جو بیوہ کو ازدواجی فیصلوں پر سزا دے، وہ شرعی اصولوں، آئینی حقوق اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔


5. خواتین، بالخصوص بیواؤں کے ساتھ اس قسم کی تفریق جینڈر ڈسکرمنیشن کے زمرے میں آتی ہے، جسے عدالت نے سختی سے مسترد کر دیا۔

نتیجہ:


عدالت نے:

✅ زویا اسلام کی اپیل منظور کر لی
✅ نوکری سے برطرفی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا
✅ یہ اصول طے کر دیا کہ بیوہ کی دوسری شادی، نوکری ختم کرنے کی جائز بنیاد نہیں ہو سکتی

قانونی اور سماجی اہمیت:


یہ فیصلہ نہ صرف خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ایک اہم نظیر ہے بلکہ یہ تمام سرکاری اداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ خواتین کو ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ نہ بنائیں۔

مزید برآں، یہ فیصلہ اس بات کی بھی یاددہانی ہے کہ شرعی اصولوں کو آئینی دائرہ کار میں مکمل تحفظ حاصل ہے، اور کسی سرکاری پالیسی کو ان اصولوں کے خلاف لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

نتیجہ اخذ:


یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدالتیں خواتین کے حقوق کے تحفظ میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں، اور ایسی پالیسیوں کو مسترد کر رہی ہیں جو مذہب، آئین اور فطری انصاف کے خلاف ہوں۔



2025 PLC (CS) 422

PLJ 2024 Lahore 811

لاہور ہائیکورٹ نے دوسری شادی کے بعد بیوہ کو سرکاری نوکری سے برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیدیا۔
اپیل کنندہ مؤقف کیا تھا کہ سرکاری ملازم شوہرکی وفات کے بعد نائب قاصدکی نوکری 2020 میں ملی، شوہر اسلام کی بیوہ ہونےکی وجہ سے سرکاری نوکری ملی اور 2021 میں دوسری شادی کی جس کی بنیادپرنوکری سے برطرف کیاگیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملازم شوہرکی بیوہ کو ملنے والی نوکری دوسری شادی پرختم نہیں ہوسکتی، شوہرکی وفات کے بعد بیوہ کو دوسری شادی پر سرکاری نوکری سے برطرف نہیں کیاجائےگا کیونکہ بیوہ شادی کرسکتی ہے، ہمارے مذہب میں یہ ایک عورت کا بنیادی حق ہے۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بیوہ کو دوسری شادی کی بنیاد پرنوکری سے نکالنا شرعی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، جس قانون کی بنیاد پربیوہ کو نوکری سے نکالاگیا اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے، عدالت سنگل بینچ کا فیصلہ اوربیوہ کو نوکری سے نکالنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قراردیتی ہے، عدالت بیوہ زویا اسلام کی اپیل کو منظور کرتی ہے۔

Must read judgement 


A widow who was inducted on contract employment due to death of her husband during service, was terminated from service due to contracting second marriage---- held that marriage or re-marriage is a religious and fundamental right of a woman and any step /action taken in contravention of such right would be illegal, unlawful and ultra vires. A civil servant passed away during his service upon which his widow was appointed as Naib Qasid. But on her re-marriage, her services were terminated under Memorandum dated 15.12.2015 issued by the Establishment Division whereby on remarriage of a widow the contract of employment provided to her would be terminated from the date of her remarriage. The said Memorandum dated 15.12.2015 had already been set aside by the Hon'ble Supreme Court of Pakistan. Thus no immunity/ protection is attached to such illegal order of an authority. Intra Court Appeal allowed.
ICA 77894/22
Zoya Islam Vs Government of Pakistan etc


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post