G-KZ4T1KYLW3 Legal Status of a Disinherited Son in Inheritance Cases in Pakistan

Legal Status of a Disinherited Son in Inheritance Cases in Pakistan

Legal Status of a Disinherited Son in Inheritance Cases in Pakistan.


"عاق شدہ بیٹے کا وراثت میں حق: ایک قانونی تجزیہ"

تعارف:

ہمارے معاشرتی نظام میں اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ والد کسی بیٹے سے ناراض ہو کر اُسے "عاق" کر دیتا ہے اور یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اب وہ بیٹا باپ کی جائیداد یا ترکہ میں سے کچھ نہیں پائے گا۔ یہ ایک عام غلط فہمی ہے جس کا قانونی اور شرعی طور پر کوئی جواز نہیں ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم پاکستانی قانون اور اسلامی شریعت کی روشنی میں یہ واضح کریں گے کہ کیا عاق شدہ بیٹا وراثت کا حق رکھتا ہے یا نہیں۔

عاق کرنے کا مفہوم:


"عاق کرنا" ایک سماجی اور غیر رسمی عمل ہے جس کا مطلب ہے کہ والد کسی بیٹے سے تعلق توڑ لیتا ہے یا اُسے اپنی زندگی یا جائیداد سے دور کر دیتا ہے۔ بعض اوقات یہ عمل تحریری طور پر بھی کیا جاتا ہے اور بعض اوقات زبانی اعلان کے ذریعے۔

کیا عاق کرنے کا قانون میں کوئی تصور موجود ہے؟


پاکستان کے وراثتی قوانین، جو کہ بنیادی طور پر اسلامی شریعت پر مبنی ہیں، میں "عاق" کرنے کا کوئی قانونی تصور موجود نہیں۔ پاکستان میں وراثت کی تقسیم مسلمانوں کے لیے اسلامی قانون وراثت (Law of Inheritance) کے مطابق کی جاتی ہے، جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے۔

بنیادی اصول:


1. وراثت کا حق موت کے بعد پیدا ہوتا ہے، زندگی میں نہیں۔


2. کوئی شخص اپنی زندگی میں کسی وارث کو جائیداد سے محروم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

3. "عاق کرنا" 

صرف ایک سماجی اعلان ہوتا ہے، جس کا قانون یا شریعت میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔

متعلقہ قوانین:


1. مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961


یہ آرڈیننس وراثت کے معاملات کو اسلامی اصولوں کے مطابق نافذ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس میں کسی بھی فرد کو وراثت سے محروم کرنے کی گنجائش نہیں دی گئی۔

2. شریعت ایکٹ 1991


اس ایکٹ کے تحت یہ واضح کیا گیا کہ تمام معاملات، بشمول وراثت، شریعت کے مطابق طے کیے جائیں گے۔ اور شریعت میں وراثت کے اصول قرآن و سنت سے متعین ہوتے ہیں۔

عدالتوں کا مؤقف:


پاکستانی عدالتوں نے متعدد فیصلوں میں اس اصول کو برقرار رکھا ہے کہ:

"کوئی شخص اپنے قانونی وارث کو محض ناراضگی یا عاق کرنے کی بنیاد پر وراثت سے محروم نہیں کر سکتا۔"


مثلاً، لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بیٹا والد کی زندگی میں عاق کر دیا جائے تو بھی وہ والد کی وفات کے بعد شرعی و قانونی وارث ہو گا۔

شرعی حوالہ:


قرآن مجید (سورۃ النساء: آیت 11) میں وراثت کے حصے متعین کیے گئے ہیں۔ ان میں کسی بھی وارث کو عاق کرنے یا وراثت سے محروم کرنے کا کوئی تصور موجود نہیں۔

حدیثِ نبوی ﷺ:

"لا وصیة لوارث"
ترجمہ: "وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی۔"
اس سے مراد ہے کہ وارث کو وصیت کے ذریعے محروم کرنا بھی جائز نہیں۔

نتیجہ:


اگر باپ اپنی زندگی میں بیٹے کو "عاق" کر دے، تب بھی وہ بیٹا باپ کی وفات کے بعد اس کے ترکہ میں شرعی اور قانونی طور پر وارث ہو گا۔

کسی بیٹے کو صرف ناراضگی، بدسلوکی یا کسی تحریری بیان کی بنیاد پر وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

وراثت کا فیصلہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب مورث (مرنے والا) دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اور یہ فیصلہ قانون اور شریعت کی روشنی میں کیا جاتا ہے، نہ کہ ذاتی جذبات یا اعلانات کی بنیاد پر۔

تجویز:


عوام الناس اور قانونی ماہرین کو چاہیے کہ وہ "عاق" جیسے غیر قانونی اور غیر مؤثر عمل کے بجائے قانونی طریقے اختیار کریں اور وراثت کے معاملات میں شریعت اور ملکی قانون سے رہنمائی لیں۔



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post