G-KZ4T1KYLW3 Wife Not Entitled to Maintenance Due to Disobedience After Receiving Dower – 2013 CLC 897 (Lahore High Court)

Wife Not Entitled to Maintenance Due to Disobedience After Receiving Dower – 2013 CLC 897 (Lahore High Court)

Wife Not Entitled to Maintenance Due to Disobedience After Receiving Dower – 2013 CLC 897 (Lahore High Court).


فیصلہ 2013 CLC 897 ایک ازدواجی تنازعے کی کہانی بیان کرتا ہے، جو عام مگر قانونی طور پر اہم ہے۔ نیچے اس فیصلے کی ایک سادہ اور کہانی کی شکل میں تفصیل دی گئی ہے:

کہانی: نافرمانی کا انجام


سیف اللہ اور مائمونہ الماس شادی شدہ جوڑا تھا۔ شادی کے بعد ان کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے اور بیوی، مائمونہ، شوہر کا گھر چھوڑ کر الگ ہو گئی۔

بیوی کو واپس لانے کے لیے عدالت میں بحالی حقوق زوجیت (Restitution of Conjugal Rights) کا دعویٰ دائر کیا۔

شوہر سیف اللہ نے بیوی کو واپس لانے کے لیے عدالت میں بحالی حقوق زوجیت (Restitution of Conjugal Rights) کا دعویٰ دائر کیا۔ عدالت میں دونوں فریقین کے درمیان صلح ہو گئی، جس کے نتیجے میں مائمونہ نے شوہر سے حق مہر وصول کر لیا اور اس بات پر آمادہ ہوئی کہ وہ دوبارہ شوہر کے ساتھ رہے گی۔

لیکن جیسے ہی وہ حق مہر لے کر عدالت سے باہر گئی، اس نے پھر سے شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا۔


کچھ وقت بعد، بیوی نے شوہر کے خلاف عدالت میں نفقہ (maintenance) کا دعویٰ دائر کر دیا، کہ مجھے شوہر خرچہ دے۔

عدالت نے شواہد اور حالات کا جائزہ لیا اور یہ فیصلہ دیا کہ:

جب بیوی نے صلح کے باوجود شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کیا،

جب وہ نافرمانی کی حالت میں تھی،

تو وہ اس عرصے کی نفقہ کی حقدار نہیں ہے۔


نتیجہ: عدالت نے بیوی کا نفقہ کا دعویٰ خارج کر 
دیا۔

پس منظرِ مقدمہ

اس مقدمہ میں بیوی نے شوہر کے خلاف نان و نفقہ (مینٹیننس الاؤنس) کی وصولی کے لیے دعویٰ دائر کیا۔ اس سے قبل شوہر کی جانب سے حقِ زوجیت کی بحالی کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جس میں فریقین کے مابین باہمی سمجھوتہ طے پایا اور بیوی کو اس کا مہر ادا کر دیا گیا۔

اہم حقائق

سمجھوتہ کے باوجود بیوی نے شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا اور ازدواجی گھر واپس نہ گئی۔ بعد ازاں بیوی نے نان و نفقہ کے حصول کے لیے دعویٰ دائر کیا، جس کی بنیاد یہ مؤقف تھا کہ وہ قانونی طور پر شوہر کی بیوی ہے اور اس کا نان و نفقہ شوہر پر لازم ہے۔

قانونی نکتہ

اصل قانونی سوال یہ تھا کہ آیا ایسی بیوی، جو مہر وصول کرنے کے بعد بلا جواز شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کرے اور ازدواجی فرائض ادا نہ کرے، نان و نفقہ کی حقدار ہو سکتی ہے یا نہیں۔

عدالتی فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جب بیوی بلا عذرِ شرعی اور بلا جواز شوہر کی اطاعت سے انکار کرے اور ازدواجی گھر چھوڑ دے تو وہ نافرمان تصور ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں بیوی اپنے اس دورانیۂ علیحدگی کے دوران نان و نفقہ کی حقدار نہیں رہتی۔

قانونی اصول

عدالت نے یہ اصول واضح کیا کہ نان و نفقہ کا حق ازدواجی فرائض کی ادائیگی سے مشروط ہے۔ اگر بیوی خود ازدواجی تعلقات منقطع کرے اور شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کرے، تو وہ قانوناً نان و نفقہ کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔

حتمی نتیجہ

ان حالات میں بیوی کا نان و نفقہ کا دعویٰ ناقابلِ قبول قرار دیا گیا اور مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ نافرمان بیوی دورانِ ترکِ ازدواج نان و نفقہ کی مستحق نہیں ہوتی۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ اس اصول کی توثیق کرتا ہے کہ نان و نفقہ یک طرفہ حق نہیں بلکہ ازدواجی ذمہ داریوں سے منسلک حق ہے، اور بلا جواز علیحدگی کی صورت میں یہ حق معطل ہو جاتا ہے۔

Must read part of  judgement 


2013 CLC 897 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : SAIF ULLAH
Side Opponent : MAIMOONA ALMAS
S. 5, Sched.---Constitution of Pakistan, Art.199---Constitutional petition---Suit for recovery of maintenance allowance by wife---Refusal of wife to live with her husband despite having received dower amount on basis of compromise effected between spouses in suit for restitution of conjugal rights filed by husband---Validity---Wife for being Disobedient was not entitled to maintenance during period of desertion---Suit was dismissed in circumstances.



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post