G-KZ4T1KYLW3 Disputed Land Possession & Ownership – 2025 CLC 47 Judgment | Rasheeda Begum vs Rauf Subhani

Disputed Land Possession & Ownership – 2025 CLC 47 Judgment | Rasheeda Begum vs Rauf Subhani

Disputed Land Possession & Ownership – 2025 CLC 47 Judgment | Rasheeda Begum vs Rauf Subhani.


یہ مقدمہ ملکیتی حق، دستاویزات کی منسوخی اور قبضہ کے تنازع سے متعلق تھا، جس میں فریقین کی جانب سے علیحدہ علیحدہ دعوے دائر کیے گئے۔

مختصر حقائق

اپیل کنندہ (رشیدہ بیگم) کے پیش رو نے دعویٰ دائر کیا کہ متنازعہ اراضی انہوں نے سن 1963 میں فریقِ مخالف کے والد سے خریدی تھی، لہٰذا مدعا علیہ کے حق میں ہونے والی انتقال، ھبہ اور بعد ازاں بیع نامہ جعلی اور قابلِ تنسیخ ہیں۔
اس کے برعکس، فریقِ مخالف (رؤف سبحانی) نے قبضہ کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ اراضی کا اصل مالک ہے جبکہ اپیل کنندہ کے پیش رو نے زبردستی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، اور جس رسید پر انحصار کیا جا رہا ہے وہ جعلی اور فراڈ پر مبنی ہے۔

ٹرائل کورٹ کا فیصلہ

ٹرائل کورٹ نے اپیل کنندہ کے پیش رو کا دعویٰ اس بنیاد پر خارج کر دیا کہ وہ اپنی پیش کردہ فروخت کی رسید (Sale Receipt) ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
اس کے برعکس، فریقِ مخالف کا قبضہ کا دعویٰ منظور کر لیا گیا۔

فرسٹ اپیلیٹ کورٹ کا مؤقف

ضلع عدالت (فرسٹ اپیلیٹ کورٹ) نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے اس کی توثیق کر دی اور اپیل خارج کر دی۔

ہائی کورٹ آزاد کشمیر میں فیصلہ

ہائی کورٹ آزاد کشمیر نے قرار دیا کہ:
اپیل کنندہ کے پیش رو چونکہ فروخت کی رسید ثابت کرنے میں ناکام رہے، اس لیے فریقِ مخالف کی ملکیت ثابت ہو گئی۔
ریونیو ریکارڈ میں اپیل کنندہ کے پیش رو کا اندراج بطور غیر موروث (Ghair Moroos Possessor) تھا، جسے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جب ریونیو ریکارڈ، انتقال، ھبہ اور بیع نامہ فریقِ مخالف کے حق میں موجود ہوں اور مدعی اپنی بنیادی دستاویز ثابت نہ کر سکے، تو قبضہ کا دعویٰ درست طور پر منظور کیا جا سکتا ہے۔

قانونی نکتہ

صرف دعویٰ یا غیر ثابت شدہ رسید کی بنیاد پر ملکیت کا حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
اگر مدعی اپنی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہے تو ریونیو ریکارڈ اور رجسٹرڈ دستاویزات کو فوقیت حاصل ہوگی۔

نتیجہ

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی سقم یا خامی موجود نہیں۔
چنانچہ ریگولر سیکنڈ اپیل خارج کر دی گئی۔

 2025 CLC 47 کے مقدمے کی مکمل کہانی

 (Case Story) سادہ اور قانونی انداز میں پیش کی گئی ہے:


یہ تنازعہ ایک زمین کے مالکانہ حق اور قبضے کے متعلق تھا۔ راشدہ بیگم (اپیلنٹ) کے والد یا قریبی رشتہ دار (پیش رو) نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سال 1963 میں وہ زمین مدعا علیہ رؤف سبحانی کے والد سے خریدی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ زمین کی خریداری کے بعد نہ صرف بیع نامہ (Sale Receipt) بنایا گیا بلکہ انتقال، ھبہ اور فروخت نامہ بھی مکمل کیے گئے۔ اسی بنیاد پر راشدہ بیگم نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ مذکورہ انتقال اور فروخت نامے کو منسوخ کیا جائے اور انہیں زمین پر قبضہ دیا جائے۔

دوسری طرف، رؤف سبحانی (مدعا علیہ) نے دعویٰ کیا کہ وہ زمین کے اصل مالک ہیں، اور راشدہ بیگم کے پیش رو نے زبردستی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے راشدہ بیگم کے پیش رو کے پیش کردہ بیع نامے کو جعلی اور جھوٹا قرار دیا۔ اس بنیاد پر رؤف سبحانی نے خود عدالت میں قبضے کے لیے علیحدہ دعویٰ دائر کر دیا۔

عدالتی کارروائی اور فیصلے:

1. ٹرائل کورٹ نے:


راشدہ بیگم کے پیش رو کی جانب سے پیش کردہ بیع نامے کو ناقابلِ اعتماد قرار دیا۔

چونکہ وہ اپنی ملکیت ثابت نہ کر سکے، اس لیے ان کا دعویٰ مسترد کر دیا۔

اس کے برعکس، رؤف سبحانی کا دعویٰ درست تسلیم کرتے ہوئے ان کے حق میں ڈگری جاری کر دی۔



2. فرسٹ اپیلیٹ کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔


3. جب معاملہ ہائی کورٹ پہنچا، تو عدالت نے دیکھا کہ:

راشدہ بیگم کا پیش رو کوئی مستند ثبوت پیش نہ کر سکا۔

ریونیو ریکارڈ میں بھی وہ صرف غیر موروثی قابض کے طور پر درج تھا۔

اور اس نے کبھی ریونیو ریکارڈ میں موجود اندراجات کو چیلنج بھی نہیں کیا۔
:

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں نے کوئی قانونی غلطی نہیں کی، اس لیے راشدہ بیگم کی ریگولر سیکنڈ اپیل مسترد کر دی گئی۔

Must read judgement 

 

Citation Name : 2025 CLC 47 HIGH-COURT-AZAD-KASHMIR
Side Appellant : RASHEEDA BEGUM
Side Opponent : RAUF SUBHANI
Ss. 12, 42, 39 & 54---Suit for possession and suit for declaration, cancellation of documents and perpetual injunction filed separately---Possession, claim of---Claim of the predecessor of appellants (plaintiff) was that the mutation/gift deed and subsequent sale deed in favour of defendants were liable to be cancelled as suit-land was purchased by him in the year 1963 from their(defendants') father while respondent also filed a suit for possession against predecessor of appellants (herein) pleading that he was the owner of the land and defendant (predecessor of appellants) had forcibly occupied the same, thus, the sale-receipt relied upon by him(predecessor of appellants) was fake and fraudulent---Trial Court dismissed the suit filed by predecessor of appellants for want of proof whereas it decree d the counter suit filed by the respondent, and the District (First Appellate) Court concurred with the findings of the Trial Court---Validity---As far as the suit filed by respondent for possession of the land was concerned since the [predecessor of appellant (being plaintiff) [failed to prove the Exhibited Receipt, thus, the ownership of respondent was established and relevant mutation, gift deed and sale deed were maintained---In the revenue record, predecessor-in-interest of appellants was entered as possessor as Ghair Moroos who had not challenged the entries in the revenue record, so the Courts below were justified to decree the suit filed by respondent---No illegality or infirmity having been noticed in the impugned judgments and decree s, Regular Second Appeal was dismissed, in circumstances


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post