Voice Recognition Without Forensic Proof Is Unreliable: Supreme Court Acquits Two in 2025 SCMR 744.
آواز کی شناخت بطور ثبوت: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ تعارف
انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر ملزم کو شک کا فائدہ دیا جائے اور کوئی بھی سزا صرف ناقابلِ تردید ثبوت کی بنیاد پر دی جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2025 SCMR 744 (جیل پٹیشن نمبر 438/2018: امتیاز اور نعیم بنام ریاست) میں اسی اصول کی شاندار توثیق کی ہے۔
کیس کا پس منظر
امتیاز اور نعیم پر ایک شخص کے قتل کا الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے استغاثہ کے پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔
استغاثہ کا پورا مقدمہ محض ایک گواہ کی اس گواہی پر مبنی تھا جس نے دعویٰ کیا کہ اس نے فون کال پر ملزمان کی آوازیں پہچانی تھیں۔
اہم نکات:
کوئی چشم دید گواہ موجود نہ تھا۔
نہ کوئی کال ریکارڈنگ عدالت میں پیش کی گئی۔
نہ ہی فرانزک لیبارٹری سے آواز کی تصدیق کروائی گئی۔
اقبالِ جرم اگرچہ موجود تھا، لیکن بعد میں ملزمان نے اسے واپس لے لیا۔
سپریم کورٹ کا مشاہدہ
عدالت نے اپنے فیصلے میں درج ذیل اہم نکات بیان کیے:
آواز کی شناخت، فنگر پرنٹ یا ڈی این اے کے برعکس، معیاری سائنسی تصدیق سے محروم ہے۔
ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو میں اکثر پسِ منظر کا شور، آواز کا خراب معیار اور دباؤ جیسے عوامل شناخت کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔
اگر آواز کی شناخت کے ساتھ کوئی معاون شواہد مثلاً کال ریکارڈ، فرانزک رپورٹ یا چشم دید گواہ نہ ہو، تو محض آواز کی بنیاد پر سزا دینا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
سزائے موت یا عمر قید جیسے سنگین معاملات میں عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ ہر قسم کے شک کو ملحوظ خاطر رکھیں اور صرف ناقابلِ تردید شواہد پر سزا سنائیں۔
ایک ایسا اقبالِ جرم جو بعد میں واپس لے لیا جائے، خاص طور پر جب وہ واحد ثبوت ہو، اپنی قانونی حیثیت کھو دیتا ہے۔
عدالتی نتیجہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ شک کا فائدہ دیتے ہوئے دونوں ملزمان کو بری کر دیا گیا۔
نتیجہ
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ انصاف کی بنیاد ناقابلِ تردید شواہد پر ہونی چاہیے۔ آواز کی شناخت جیسے غیر یقینی ذرائع پر مکمل انحصار کرکے کسی کو سزا دینا آئین و قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
Must read part of judgement
2025 SCMR 744
Unlike fingerprints or DNA evidence, voice recognition lacks a standardized scientific framework for verification.
Telephone calls, especially those made under duress, may suffer from poor audio quality, background noise or distortions, making it difficult to accurately identify the speaker.
In the absence of additional corroborative evidence (e.g., call records, witness testimony, or forensic analysis), relying solely on voice recognition is inherently unreliable. The irreversible nature of the death penalty or life imprisonment necessitates that evidence be unequivocal and incontrovertible. Any doubt, no matter how small, must weigh in favour of the accused because convicting an individual based on unreliable evidence violates the principle of due process and fair trial, which are fundamental to justice. In such cases courts have frequently required expert testimony or forensic analysis to validate the identification and without such validation the evidence is deemed insufficient. A retracted confession, especially when it stands as the sole basis for conviction, raises significant legal, ethical and practical concerns.
Jail Petition No. 438/2018
1. Imtiaz 2. Naeem vs The State
