Pleadings Are Not Evidence Unless Proved Through Strong Oral and Documentary Evidence — 2025 SCMR 653.
دعویٰ یا تحریری بیان بذاتِ خود ثبوت نہیں — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
تعارف:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مقدمہ محمد عدنان بنام صلاح الدین (C.P.L.A.1618/2024) میں ایک بنیادی اصول واضح کیا ہے، جسے 2025 SCMR 653 میں رپورٹ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے وضاحت کی کہ محض دعویٰ یا تحریری بیان میں کی گئی باتیں بذاتِ خود شہادت (ثبوت) نہیں ہیں، بلکہ انہیں معتبر شہادت کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے۔
فیصلے کے اہم نکات:
1. دعویٰ اور تحریری بیان کا قانونی دائرہ:
عدالت نے قرار دیا کہ کوئی بھی فریق جب دعویٰ یا تحریری بیان میں کسی واقعہ یا حقائق کا ذکر کرتا ہے تو یہ محض ایک بیان ہوتا ہے، اس بیان کو ثبوت کا درجہ حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ اسے شہادت سے ثابت نہ کیا جائے۔
2. مضبوط اور ٹھوس شہادت کی ضرورت:
عدالت نے واضح کیا کہ ہر دعویٰ کو:
زبانی شہادت (گواہوں کے حلفیہ بیانات اور جرح)
اور مستند دستاویزی شہادت کے ذریعے
ثابت کرنا ناگزیر ہے۔
3. مبہم انکار کی قانونی حیثیت:
عدالت نے کہا کہ اگر کوئی فریق محض مبہم یا گول مول انداز میں انکار کرے تو یہ معتبر انکار نہیں ہوگا۔
ضابطہ دیوانی 1908 کے آرڈر VIII کے قواعد 3، 4 اور 5 کے مطابق ہر الزام کا مخصوص اور واضح انکار ضروری ہے۔
مبہم انکار کو عدالت قبول نہیں کرتی۔
4. عدالت کی ہدایت:
عدالت نے ہدایت دی کہ فریقین مقدمے کے آغاز سے ہی سنجیدگی کے ساتھ اپنے دعووں اور جوابات کو ٹھوس شہادت کے ساتھ ثابت کریں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
منفرد نکتہ:
یہ فیصلہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں عدالت نے محض تحریری بیانات کو کافی نہ سمجھتے ہوئے، انہیں باقاعدہ شہادت سے ثابت کرنے کو مقدمہ جیتنے کی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔
نتیجہ:
یہ فیصلہ تمام وکلاء، فریقین اور مقدمہ بازوں کے لیے ایک اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ عدالت میں کامیابی کا دارومدار صرف تحریری دعوؤں پر نہیں بلکہ معیاری اور مکمل شہادت پر ہے۔ جو فریق اپنی بات کو ٹھوس اور واضح شہادت سے ثابت کرے گا، کامیابی اسی کا مقدر بنے گی۔
Must read judgement
2025 SCMR 653
It is settled principle of law that contents of plaint or written statement do not equate evidence rather the same have to be proved by leading strong and cogent evidence in the shape of oral (witness(es) to depose on oath and also face the cross examination of the rival party) as well as documentary evidence. Moreover, evasive denial is no denial rather it has been disapproved, because Rules 3, 4 and 5 of Order VIII, Code of Civil Procedure, 1908 require specific denial of each allegation of fact.
C.P.L.A.1618/2024
Muhammad Adnan v. Salah-ud-Din
Mr. Justice Shahid Bilal Hassan
Pleadings Are Not Evidence Unless Proved Through Strong Oral and Documentary Evidence — 2025 SCMR 653
