Understanding the Illegal Dispossession Act Through PLD 2025 SC 53 Judgment.
عنوان: غیر قانونی بیدخلی اور سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ – PLD 2025 SC 53
غیر قانونی بے دخلی ایکٹ 2005 کا مقصد
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ Illegal Dispossession Act, 2005 کا بنیادی مقصد جائز مالکان اور قانونی قابضین کو جائیداد پر زبردستی، دھونس، یا غیر قانونی طریقے سے قابو پانے والے پراپرٹی گریبرز سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ قانون طاقت کے بل بوتے پر جائیداد چھیننے کے رجحان کے خاتمے کے لیے نافذ کیا گیا۔
دفعہ 3: غیر قانونی قبضہ کی ممانعت
عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 3 کے تحت کوئی بھی شخص بغیر قانونی اختیار کے کسی جائیداد میں داخل ہو کر یا اس پر قبضہ، کنٹرول یا تصرف نہیں کر سکتا۔ اگر کسی شخص کا مقصد جائیداد کے مالک یا قابض کو بے دخل کرنا ہو تو ایسا فعل واضح طور پر جرم ہے، جس پر قانون کے تحت سزا مقرر ہے۔
نیت (Intention) کی اہمیت
سپریم کورٹ نے اس امر پر زور دیا کہ دفعہ 3 کے اطلاق کے لیے جرمانہ نیت (Mens Rea) کا پایا جانا ضروری ہے، یعنی یہ ثابت ہونا چاہیے کہ ملزم نے دانستہ طور پر جائیداد پر غیر قانونی قبضہ یا بے دخلی کی کوشش کی۔
دفعہ 5: شکایت، تفتیش اور ٹرائل کا طریقہ
عدالت نے وضاحت کی کہ دفعہ 5 کے تحت شکایت موصول ہونے پر عدالت پولیس کو پندرہ دن کے اندر تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چلایا جائے گا اور اصولاً ساٹھ دن کے اندر فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
تاخیر کی صورت میں عدالتی ذمہ داری
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ساٹھ دن میں مقدمہ فیصلہ نہ ہو سکے تو عدالت پر لازم ہے کہ تاخیر کی معقول وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرے، بصورتِ دیگر یہ قانون کی روح کے منافی ہو گا۔
جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی شکایت کا انجام
عدالت نے دفعہ 5 کے اس پہلو کو نمایاں کیا کہ اگر شکایت جھوٹی، بدنیتی پر مبنی یا ہراسانی کے لیے دائر کی گئی ہو تو عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ ملزم کے حق میں پانچ لاکھ روپے تک ہرجانہ (Compensatory Costs) عائد کرے۔
قانون کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی
سپریم کورٹ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ Illegal Dispossession Act کو سول تنازعات، ملکیتی جھگڑوں یا خاندانی اختلافات میں دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا، کیونکہ اس سے قانون کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
فوجداری اور سول فورم کا فرق
عدالت نے واضح کیا کہ جہاں معاملہ خالصتاً ملکیت یا حقِ ملکیت کا ہو، وہاں مناسب فورم سول کورٹ ہے، جبکہ غیر قانونی طاقت کے ذریعے بے دخلی کی صورت میں ہی اس ایکٹ کا اطلاق ہو گا۔
مقدمہ Aurangzaib Alamgir v. Muhammad Sajid
اس کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محض ملکیتی تنازع یا قبضے کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ شکایت کنندہ کو یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ ملزم نے بغیر قانونی اختیار کے زبردستی قبضہ کیا یا بے دخل کرنے کی کوشش کی۔
حتمی قانونی اصول (Ratio Decidendi)
سپریم کورٹ نے حتمی طور پر قرار دیا کہ:
Illegal Dispossession Act, 2005 ایک خصوصی فوجداری قانون ہے، جس کا اطلاق صرف واضح، زبردستی اور غیر قانونی بے دخلی کے معاملات تک محدود ہے، اور اسے سول تنازعات کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ
PLD 2025 SC 53
Crl.P.L.A. No. 58-K of 2023
Aurangzaib Alamgir v. Muhammad Sajid & another
پاکستان میں جائیداد پر قبضے کے معاملات عام ہیں، جہاں اکثر لوگ طاقت، تعلقات یا دھوکہ دہی سے دوسروں کی جائیداد پر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے غیر قانونی قبضہ ایکٹ 2005 (Illegal Dispossession Act) نافذ کیا گیا، تاکہ قانونی مالکان اور قابضین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلے PLD 2025 SC 53 (Aurangzaib Alamgir v. Muhammad Sajid & others) نے اس قانون کی اہمیت اور اس کے نفاذ کو مزید واضح کیا ہے۔
فیصلے کے اہم نکات:
1. کوئی بھی شخص بغیر قانونی اختیار کے کسی جائیداد میں داخل ہو کر قبضہ نہیں کر سکتا۔
2. ایسا عمل سیکشن 3 کے تحت جرم تصور ہوتا ہے اور قابل سزا ہے۔
3. عدالت شکایت پر پولیس کو 15 دن میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
4. مقدمے کی روزانہ سماعت ہوگی اور 60 دن میں فیصلہ لازمی ہے۔
5. اگر شکایت جھوٹی ثابت ہو تو شکایت کنندہ کو 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
6. سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ قانون صرف مالکان ہی نہیں بلکہ جائیداد کے قانونی قابضین کو بھی تحفظ دیتا ہے۔
نتیجہ:
یہ فیصلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں جائیداد کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی جائیداد سے غیر قانونی طور پر بے دخل کیا جائے یا اسے قبضہ مافیا سے خطرہ ہو، تو وہ اس قانون کے تحت مؤثر کارروائی کر سکتا ہے۔ تاہم، شکایت جھوٹی ثابت ہونے پر سخت نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Must read judgement
PLD 2025 SC 53
(1) Sections 3 and 5 of the Illegal Dispossession Act.
The Illegal Dispossession Act, 2005, is meant to protect the lawful owners and occupiers of immovable properties from their illegal or forcible dispossession therefrom by the property grabbers. According to Section 3 of this Act, no one shall enter into or upon any property to dispossess, grab, control or occupy it without having any lawful authority to do so with the intention to dispossess, grab, control or occupy the property from owners or occupier of such property and in case of contravention, the punishment is provided under subsections 2 and 3, as the case may be. Whereas, under Section 5 of the Act, it is provided that upon a complaint, the Court may direct the officer-in-charge of a police station to investigate and complete the investigation and forward the same within fifteen days to the Court, and on taking cognizance of a case, the Court shall proceed with the trial from day to day and shall decide the case within sixty days and for any delay, sufficient reasons shall be recorded, with a further rider that on conclusion of the trial, if the complaint is found to be false, frivolous or vexatious, the Court may award compensatory cost to the person complained against which may extend to five hundred thousand rupees.
Crl.P.L.A.58-K/2023
Aurangzaib Alamgir v. Muhammad Sajid &
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.