G-KZ4T1KYLW3 Land Mutation Dispute: When the Executant Himself Files a Challenge – 2025 CLC 228 Explained

Land Mutation Dispute: When the Executant Himself Files a Challenge – 2025 CLC 228 Explained

Land Mutation Dispute: When the Executant Himself Files a Challenge – 2025 CLC 228 Explained.

انتقال (ریکارڈ )میں تبدیلی اگر مدعی انکار نہ کرے تو گواہان کی پیشی کی ضرورت نہیں رھتی۔ 

مقدمہ کا پس منظر

مدعی نے ریکارڈ میں تبدیلی کے اجرا کے سلسلے میں درخواست دائر کی۔ مدعی خود تبدیلی کی تصدیق سے انکار نہیں کر رہا تھا، اور سوال یہ تھا کہ آیا گواہان کی پیشی لازمی ہے یا نہیں۔

عدالتی تشریح

عدالت نے کہا کہ چونکہ انتقال  تبدیلی کی تصدیق خود مدعی نے مسترد نہیں کی، اس لیے گواہان کی پیشی لازمی نہیں تھی۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی دستاویز کے مواد کے حوالے سے سب سے مضبوط ثبوت وہ خود دستاویز ہے۔ گواہان صرف اس وقت ضروری ہیں جب دستاویز کی تصدیق یا اصل ہونے پر شک ہو۔

عدالتی فیصلہ

درخواست ریویژن مسترد کی گئی۔ گواہان کی غیر موجودگی معاملے میں مسئلہ نہیں تھی کیونکہ مدعی نے خود تصدیق سے انکار نہیں کیا تھا۔

قانونی سبق

اگر کسی تبدیلی یا دستاویز کی تصدیق کرنے والا خود مسترد نہ کرے تو گواہان کی پیشی ضروری نہیں۔
دستاویز کے مواد کے بارے میں سب سے مضبوط ثبوت خود دستاویز ہے۔
پس منظر مقدمہ
یقیناً! یہاں ایک مختصر اور مؤثر آرٹیکل تیار کیا گیا ہے جو آپ اپنے بلاگ پر لگا سکتے ہیں:


کیا کوئی شخص خود ہی انتقال کرے اور پھر اسے چیلنج کر دے؟ – ایک دلچسپ قانونی فیصلہ


کیس: محمد خان بنام محمد اکرم
حوالہ: 2025 CLC 228

پاکستانی عدالتوں میں اکثر ایسے مقدمات سامنے آتے ہیں جہاں زمین کی ملکیت اور انتقال (mutation) پر تنازعات جنم لیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک منفرد کیس "محمد خان بنام محمد اکرم" میں سامنے آیا، جس میں محمد خان نے زمین محمد اکرم کے نام پر منتقل کی، اور پھر خود ہی عدالت میں اس انتقال کو چیلنج کر دیا۔

مدعی (محمد خان) نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ انتقال کے گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، اس لیے یہ دستاویز قابل قبول نہیں۔

لیکن عدالت نے واضح طور پر کہا:


جب خود انتقال کرنے والا (محمد خان) اس بات سے انکار نہیں کر رہا کہ اُس نے یہ انتقال کیا تھا؛

تو گواہوں کو پیش نہ کرنا کوئی قانونی کمی نہیں بناتا۔

اور یاد رکھیں: کسی دستاویز کا سب سے مضبوط ثبوت، وہ دستاویز خود ہوتی ہے۔


لہٰذا عدالت نے یہ اعتراض مسترد کر دیا اور محمد خان کا کیس خارج کر دیا۔

قانونی نکتہ:

اگر کوئی شخص خود کسی انتقال یا معاہدے کا حصہ ہو، اور بعد میں بغیر کسی انکار یا ثبوت کے اسے صرف تکنیکی بنیاد پر چیلنج کرے، تو عدالت ایسے دعوے کو وقت کا ضیاع سمجھتی ہے۔


اگر آپ چاہیں تو میں اس آرٹیکل کا ایک خوبصورت ورژن تصویری اقتباس یا پی ڈی ایف میں بھی دے سکتا ہوں، جو سوشل میڈیا پر بھی لگایا جا سکے۔

Must read judgement 

Execution of mutation not denied by its executant-Requirement of production of attesting witnesses of mutation---Scope-Execution of the mutation was not denied by the plaintiff/executant himself, thus, examination of attesting witness was not fatal-Best evidence about the contents of a document is the document itself.

Civil Revision 1750-15
MUHAMMAD KHAN VS MUHAMMAD AKRAM
2025 CLC 228


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post