Legal Consequences for Police Failing to Present an Accused in Court Within 24 Hours in Pakistan.
![]() |
ملزم کو 24 گھنٹے میں عدالت میں پیش نہ کرنا: پولیس کی قانونی ذمہ داری اور نتائج
تعارف
پاکستان کے قانونِ فوجداری (Criminal Procedure Code – CrPC) میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ انہی حقوق میں سے ایک اہم حق یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو گرفتار کیا جائے تو اسے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کیا جائے۔ اگر پولیس اس ذمہ داری کو نظر انداز کرے تو یہ نہ صرف ایک سنگین قانونی خلاف ورزی ہے بلکہ متعلقہ افسر کے خلاف فوجداری کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
قانونی بنیاد
دفعہ 61، ضابطہ فوجداری (CrPC)
یہ دفعہ واضح طور پر کہتی ہے کہ:
> “کوئی بھی گرفتار شدہ شخص پولیس کی تحویل میں 24 گھنٹے سے زیادہ نہیں رکھا جائے گا، جب تک کہ اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کیا جائے۔”
یہ دفعہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ پولیس غیر ضروری اور غیر قانونی حراست سے باز رہے۔
دفعہ 167، ضابطہ فوجداری (CrPC)
اگر تفتیش مکمل نہیں ہو سکی اور پولیس کو مزید وقت درکار ہو تو:
> پولیس افسر کو مجسٹریٹ کے سامنے تحریری طور پر درخواست دینی ہوگی اور صرف عدالت کی اجازت سے ہی ملزم کو مزید حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
قانونی سزا: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 342
اگر پولیس افسر دانستہ طور پر ملزم کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھتا ہے، تو یہ جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
دفعہ 342، تعزیراتِ پاکستان (PPC):
> “جو کوئی کسی شخص کو قانون کے دائرے کے بغیر قید کرے، وہ ایک سال تک قید، یا جرمانہ، یا دونوں کی سزا کا مستحق ہوگا۔”
اس دفعہ کا اطلاق پولیس افسر پر ہو سکتا ہے جو CrPC کی دفعہ 61 کی خلاف ورزی کرے۔
عدالتی نظیریں
پاکستان کی عدالتوں نے متعدد فیصلوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ حراست کے دوران بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسے معاملات میں عدالتیں پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی سفارش بھی کر چکی ہیں۔
نتیجہ
کسی بھی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنا ایک سنگین جرم ہے۔ پولیس کا فرض ہے کہ وہ ملزم کو 24 گھنٹے کے اندر اندر عدالت میں پیش کرے، ورنہ نہ صرف گرفتاری غیر قانونی ہوگی بلکہ متعلقہ پولیس افسر کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 342 کے تحت سزا بھی ہو سکتی ہے۔
شہریوں کو اپنے حقوق سے باخبر ہونا چاہیے اور اگر ایسی کوئی خلاف ورزی ہو تو فوراً عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ قانون کی بالادستی قائم رہے۔
