Khula Without Ambiguity: Supreme Court’s Powerful Clarification (PLD 2024 SC 645)
خُلع عورت کا مطلق اور بنیادی حق ہے: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ – PLD 2024 SC 645
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے حالیہ فیصلے PLD 2024 SC 645 میں اس اہم اصول کو واضح کیا ہے کہ خُلع عورت کا بنیادی، مطلق اور انفرادی حق ہے، اور یہ حق صرف عورت ہی استعمال کر سکتی ہے۔ اس فیصلے نے خلع کے قانونی دائرہ کار، عدالت کے کردار، اور عورت کی مرضی کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔
کیس کا پس منظر:
ایک شادی شدہ خاتون نے فیملی کورٹ میں علیحدگی کی درخواست دائر کی۔ اس درخواست میں اس نے شوہر سے اختلافات کا ذکر کیا، مگر خلع کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی اور نہ ہی مہر چھوڑنے کی پیشکش کی گئی۔
فیملی کورٹ نے ازخود خلع کی ڈگری جاری کر دی، جسے شوہر نے ہائیکورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
سپریم کورٹ کا مشاہدہ:
عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمے میں مندرجہ ذیل نکات بیان کیے:
1. خلع عورت کا مطلق حق ہے، جو صرف عورت ہی عدالت کے سامنے استعمال کر سکتی ہے۔
2. عورت کو واضح اور غیر مبہم الفاظ میں خلع کی درخواست دینی ہوگی۔ صرف شادی سے ناپسندیدگی یا ناچاقی کافی نہیں۔
3. خلع کے لیے عورت کو مہر چھوڑنے یا واپس کرنے کی آمادگی ظاہر کرنی ہوتی ہے۔
4. عدالت ازخود خلع کی ڈگری جاری نہیں کر سکتی اگر عورت نے واضح طور پر خلع کا مطالبہ نہ کیا ہو۔
5. اس لیے عورت کی رضامندی اور نیت اس معاملے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
Must read Judgement's summary.
PLD 2024 SC 645
Khula is a basic right of a woman under Muslim family law---Right to seek Khula is the exclusive and absolute right of the woman---She must in unambiguous and unequivocal terms express her intention to exercise such right before the court, that is to say, she must put her offer before the court that she seeks release from the marriage by waiving her dower and only then the court can grant her Khula ---Fundamentally, the principle is that Khula cannot be granted, if it has not been explicitly sought for by the woman because she has to give up her right to dower---Hence, a court cannot on its own pass the decree of Khula if it has not been sought for by the woman---Therefore, her consent is vital.
Popular articles
