Superiority of Documentary Evidence and Legal Presumption.
تحریری شہادت کی برتری اور قانونی مفروضہ
تعارف:
پاکستانی قانون شہادت آرڈر 1984 کے تحت تحریری شہادت کو زبانی شہادت پر فوقیت دی جاتی ہے۔ یہ اصول عدالتی نظائر اور قانونی پالیسی کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ 2025 CLC 228 میں عدالت نے تحریری شہادت کی برتری کو واضح کرتے ہوئے قانونی اصول "Acta probant Sese ipsa" (دستاویز خود اپنے حق میں بولتی ہے) کو تسلیم کیا ہے۔قانونی بنیاد:
قانون شہادت آرڈر 1984 کے تحت مندرجہ ذیل دفعات اس اصول کی وضاحت کرتی ہیں:- آرٹیکل 49: دستاویزات کے معائنہ اور صداقت کے بارے میں۔
- آرٹیکل 70: زبانی شہادت کی حدود اور قیود۔
- آرٹیکل 72: ثبوت کے معیار کا تعین۔
- آرٹیکل 91 اور 92: دستاویز کے مواد کی صداقت اور اس کے خلاف زبانی شہادت کی ممانعت۔
- آرٹیکل 129: مفروضات اور ان کے اطلاق کے اصول۔
اصولی نکتہ:
جب کوئی تحریری دستاویز قانون کے مطابق ثابت کر دی جائے تو اس کی صداقت کو مفروضے کے طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی دستاویز کو خود بخود قابل قبول سمجھا جاتا ہے اور زبانی شہادت کے ذریعے اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔عدالتی نظریہ:
2025 CLC 228 کے فیصلے میں عدالت نے یہ واضح کیا کہ:- تحریری شہادت کی برتری: تحریری شہادت اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانی شہادت کے مقابلے میں زیادہ معتبر ہوتی ہے۔
- غیر یقینی صورتحال سے بچاؤ: اگر تحریری دستاویز کو زبانی شہادت کے ذریعے رد کیا جائے تو قانونی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی، جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
- قانونی مفروضہ: دستاویزات کے ساتھ صداقت کا مفروضہ وابستہ ہوتا ہے تاکہ قیمتی حقوق کو غیر ضروری طور پر زبانی شہادت کے ذریعے منسوخ نہ کیا جائے۔
عملی اثرات:
یہ اصول ٹھوس اور محفوظ قانونی ماحول فراہم کرتا ہے جہاں تحریری دستاویزات کو زبانی شہادت کے مقابلے میں زیادہ وقعت دی جاتی ہے۔یہ پالیسی انصاف اور یقینیت کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔
نتیجہ:
تحریری شہادت کو زبانی شہادت پر فوقیت دینے کا اصول قانون کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ 2025 CLC 228 میں عدالت نے واضح کیا کہ تحریری دستاویز کو قانون کے مطابق ثابت ہونے کے بعد خود بخود اپنی صداقت بیان کرنے کے حق کا حامل سمجھا جائے گا۔یہ اصول انصاف کی فراہمی اور قانونی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ حقوق کی حفاظت اور قانونی استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
Must read judgement
2025 CLC 228
Qanun-e-shahadat Order 1984.
Articles. 49,70,72,91,92,129.
Mutation....Onus to proof
Oral and documentary evidence
Preference..... Scope.... Presumption of genuineness attached to the documentary evidence .... Scope...Once a document has been proved in accordance with the law , the genuineness of its contents could be presumed and the rule that" the document speaks for itself " (acta probant Sese ipsa" could be deployed..... Rationale behind the Presumptions attached to the written documents stem out of both principles as well as policy.....Presumptions are a matter of principle because written documents are ,by their very nature , to be accorded a higher degree of credibility as opposed to oral evidence ; otherwise ,it would bring uncertainty and chaos if written document ( and valuable rights ,if any attached to them ) are allowed to be set aside on the basis of oral evidence.
2025 CLC 228

Plaintiff in his plaint has given statement contending that the executed registered Deed by respondent is based on malafide and fraud. However plaintiff has completely failed to submit documentary evidences in support of his contentions given in the plaint. Respondent has requested the Honorable Court that the plaint is not maintainable by filing application under Order 7 Rule 11
ReplyDelete