Blocking of National Identity Card under Section 18

Blocking of National Identity Card under Section 18.

Blocking of National Identity Card under Section 18

اس کیس میں آرٹیکل 199 کا اطلاق کیا گیا ہے۔ پاکستان کے آئین کا یہ آرٹیکل ہائیکورٹ کو آئینی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے، خاص طور پر جب کسی فرد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جائے۔

مقدمے کا پس منظر

یہ آئینی درخواست اس بنیاد پر دائر کی گئی کہ درخواست گزار اور اس کے اہلِ خانہ کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس محض ایک نجی فرد کی شکایت پر بلاک کر دیے گئے، جس شخص کے ساتھ درخواست گزار کا ازدواجی تنازعہ اور ذاتی دشمنی موجود تھی۔ متعلقہ حکام نے اس شکایت کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت یا باضابطہ انکوائری کے درست تصور کرتے ہوئے سخت انتظامی اقدام کر لیا۔

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ شناختی دستاویزات کی بلاکنگ بدنیتی، ذاتی عناد اور محض شبہ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ سال 2016 سے طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو کسی انکوائری کا نتیجہ سامنے آیا اور نہ ہی درخواست گزار کو قانونی طور پر سنا گیا، جس سے اس اور اس کے خاندان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔

قانونی نکتۂ تنازع

عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا نادرا یا دیگر متعلقہ حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ محض ایک نجی شکایت، بغیر شفاف انکوائری اور بغیر حتمی نتائج کے، کسی شہری اور اس کے پورے خاندان کے قومی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس بلاک کر دیں۔

عدالت کا مشاہدہ

سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ محض شکایت یا شبہ کسی شہری کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے لیے کافی نہیں۔ عدالت کے مطابق کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ شہری کی شناخت، نقل و حرکت اور باعزت زندگی سے جڑی بنیادی دستاویزات ہیں، جنہیں قانون کے مطابق طریقۂ کار اختیار کیے بغیر معطل نہیں کیا جا سکتا۔

دفعہ 18 نادرا آرڈیننس کی تشریح

عدالت نے نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 18 کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس دفعہ کے تحت حاصل اختیارات من مانی یا غیر معینہ مدت کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ کسی ایک فرد کی شکایت کی بنیاد پر پورے خاندان کے شناختی کارڈ بلاک کرنا اجتماعی سزا کے مترادف ہے جو آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔

انصاف کے بنیادی اصول

عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ شبہ کو ثبوت کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی انتظامی سہولت کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق قربان کیے جا سکتے ہیں۔ بغیر مناسب انکوائری، بغیر سماعت اور بغیر حتمی فیصلے کے بلاکنگ انصاف کے بنیادی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔

حتمی فیصلہ

ان تمام وجوہات کی بنا پر سندھ ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار اور اس کے اہلِ خانہ کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس فوری طور پر بحال کریں۔ یوں آئینی درخواست منظور کر لی گئی اور بلاکنگ کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔
آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ یہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ کسی حکومتی ادارے یا محکمہ کی غیر قانونی کارروائی کے خلاف آئینی درخواست پر فیصلہ کرے، جیسے کہ اس کیس میں نادرا نے درخواست گزار سید حسام الدین اور ان کے اہل خانہ کے شناختی کارڈز بلاک کیے تھے، بغیر کسی ٹھوس تحقیق یا انکوائری کے۔ ہائیکورٹ نے اس معاملے میں نادرا کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کو فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا۔

اس کے علاوہ، آرٹیکل 4 بھی اس کیس کے حوالے سے اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ہر فرد کو قانون کے تحت تحفظ اور اس کی حیثیت کے مطابق انصاف فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔


دفعہ 18 – قومی شناختی کارڈ کی بلاکنگ---

درخواست گزار نے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز کی بلاکنگ کو چیلنج کیا۔

محض ایک فرد کی شکایت، جس سے درخواست گزار کے ازدواجی تنازعہ کی بنیاد پر دشمنی تھی، کی بنا پر متعلقہ حکام نے محض شبہ کی بنیاد پر درخواست گزار اور اس کے تمام اہل خانہ کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز بلاک کر دیے۔

مذکورہ اقدام کے بعد سال 2016 سے قابلِ ذکر مدت گزرنے کے باوجود، حکام کی جانب سے کسی بھی تحقیق یا انکوائری کا کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کو فوری طور پر بحال کریں۔

نتیجتاً، آئینی درخواست کو منظور کر لیا گیا۔


Must read judgement 

🔴 2018 M L D 1748 [Sindh]

Before Aqeel Ahmed Abbasi and Aziz-ur-Rehman, JJ

Syed HASAM UDDIN---Petitioner

Versus

FEDERATION OF PAKISTAN and 12 others---Respondents

Constitution Petition No.D-5617 of 2016, decided on 9th February, 2018.

🍀National Database and Registration Authority Ordinance (VIII of 2000)---🍀

----S.18---National Identity Card, blocking of---Petitioner was aggrieved of blocking of Computerized National Identity Cards of petitioner and his family---Validity---Mere complaint of an individual with whom petitioner claimed enmity on account of some matrimonial dispute, authorities had blocked Computerized National Identity Cards of petitioner and all of his family members, merely on the basis of suspicion---Despite lapse of considerable time since year 2016, no result of such investigation or inquiry was undertaken by the authorities---High Court directed the concerned authorities to de-block Computerized National Identity Cards and passports of petitioner and his family members---Constitutional Petition was allowed accordingly.

Qamar Ahmed Shaikh for Petitioner.

Umar Zad Gul, Deputy Attorney General for Pakistan for Respondent.

Chaudhary Muhammad Farooq for Respondents Nos. 3 and 4.

Date of hearing: 9th February, 2018.

🔴 ORDER

Through instant petition, the petitioner has impugned the blocking of CNICs and Passports of the petitioner and his family members by the respondents on the basis of complaint by a private individual, namely, Shakirullah, with whom the petitioner claims enmity on account of some matrimonial dispute, whereas, following relief(s) has been sought:--

(a) That looking to the facts this Honourable Court will be pleased to direct the Respondents to delete any sort of ban or stoppage or any hindrances over the above mentioned documents of the petitioner and his family and they may be released to go abroad to get the latest information about Ehshamuddin and to arrange for his return to Pakistan or any other relief which is necessary in the circumstances of the case may kindly be ordered.

(b) To save from further illegal actions against the petitioner who may be allowed to use CNICs, Passport and other relevant documents which are valid documents and legally issued under the law which is basic need. The respondents /competent authorities may be directed to save the petitioner and his family members from any other illegal acts, and to direct the officials of Respondents Nos.3, 5, 10 and 11 and other authorities to provide protection, safety and security to the petitioner and his other family members from the hands/clutches of the Respondents Nos.8, 9, 12 and 13 because they want to humiliate the entire family of the petitioner in a series of false criminal case(s).

(c) To direct all respondents, their mans, person, or persons, employee, agents and anybody else working under them a



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post