Principal vs Attorney: Unauthorized Property Sale Declared Null by Sindh High Court – 2024 CLC 500.
Principal اور Attorney کے درمیان جائیداد کا تنازعہ: عدالت نے غیر مجاز فروخت کالعدم قرار دی — 2024 CLC 500
تعارف
2024 CLC 500 کا فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کراچی سے سامنے آیا، جس میں Principal (اصل مالک) اور Attorney (وکیل) کے درمیان جائیداد کی ملکیت پر اہم قانونی نکات کو واضح کیا گیا۔ یہ مقدمہ اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ عدالت نے اٹارنی کے ذریعے بغیر خاص اجازت کے کی گئی فروخت کو غیر قانونی قرار دیا۔
کیس کی مختصر کہانی
مدعی (گُلزار) نے عدالت سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس کی جائیداد پر مدعا علیہ (شکیل احمد) نے قبضہ کر رکھا ہے۔ دوسری جانب شکیل احمد نے دفاع میں کہا کہ اس نے یہ جائیداد گُلزار کے وکیل (اٹارنی) سے خریدی ہے۔
قانونی نکات اور دلائل
مدعی نے ثابت کیا کہ اٹارنی کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے جائیداد فروخت کرنے کے لیے مالک کی خصوصی اجازت حاصل نہیں تھی۔
مدعا علیہ نے سات سال بعد ایک اقرار نامہ پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ فروخت جائز تھی، مگر گواہوں کے بیانات سے یہ اقرار نامہ مشکوک قرار پایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اٹارنی کسی بھی حالت میں اپنے قریبی رشتہ دار (بھائی) کو جائیداد نہیں بیچ سکتا جب تک کہ اسے پرنسپل کی واضح اجازت نہ ہو۔
عدالتوں کا فیصلہ
ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ دونوں نے مدعی (گُلزار) کے حق میں فیصلہ دیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ بغیر خصوصی اجازت کے جائیداد کا تبادلہ قانوناً درست نہیں ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے دونوں ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے مدعا علیہ کی دوسری اپیل خارج کر دی۔
نتیجہ
یہ فیصلہ پاکستان کے پراپرٹی لا میں ایک اہم نظیر (precedent) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عدالت نے اٹارنی کے اختیارات کی حدود کو واضح کرتے ہوئے یہ طے کر دیا کہ وکیل (Attorney) کسی بھی صورت میں اپنے ذاتی مفاد کے لیے جائیداد فروخت نہیں کر سکتا جب تک کہ اسے اصل مالک (Principal) کی باقاعدہ اور واضح اجازت حاصل نہ ہو۔
Must read judgement
Citation Name : 2024 CLC 500 KARACHI-HIGH-COURT-SINDH
Side Appellant : SHAKEEL AHMED
Side Opponent : GULZAR
Ss.8, 39, 42 & 54---Suit for possession, cancellation of document, declaration and injunction---Concurrent findings of facts by two Courts below---Principal and attorney---Relationship---Transfer of property in the name of relative of attorney---Appellant / defendant resisted suit filed by respondent / plaintiff on the plea that suit property had already been sold to him by the attorney of previous owner---Both the Courts below concurrently decided the suit and appeal in favour of respondent / plaintiff---Validity---Property changed hand through attorney by previous owner for the benefit of appellant / defendant, who was his brother, therefore, transaction could not escape from requirement of special permission from principal---Sanctity of the Iqrarnama presented after seven years of filing of written statement was shrouded in doubt by the testimony of witnesses---Trial Court rightly concluded that such Iqrarnama was nullity in the eye of law---Both the Courts below rightly held that the attorney was incompetent in making sale of subject property to his own brother appellant / defendant---High Court declined to interfere in judgments and decree s passed by two Courts below who had dealt with the matter meticulously and rendered well-reasoned judgments---Second appeal was dismissed in circumstances.
Tags
دستاویز منسوخی
