Importance of Attesting Witnesses Under Article 79 of Qanun-e-Shahadat Order, 1984.
قانون شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 79 کے تحت حاشیہ گواہوں کی اہمیت
قانونی نظام میں دستاویزی شہادتوں کی بنیاد پر فیصلے کرنا ایک اہم اصول ہے۔ مگر ہر دستاویز خودبخود معتبر نہیں مانی جاتی، خاص طور پر جب قانون اس کی تصدیق کو ضروری قرار دے۔ قانون شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 79 میں ایسے ہی معاملات کا تعین کیا گیا ہے، جہاں کسی دستاویز کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے کے لیے حاشیہ گواہوں (attesting witnesses) کی موجودگی اور شہادت لازمی قرار دی گئی ہے۔
آرٹیکل 79 کا خلاصہ
آرٹیکل 79 کے مطابق اگر کوئی دستاویز قانونی طور پر تصدیق شدہ (attested) ہونا ضروری ہو تو ایسی دستاویز کو اس وقت تک بطور شہادت قبول نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ کم از کم دو تصدیق کنندہ گواہوں کو عدالت میں طلب کر کے ان کی گواہی کے ذریعے اس کی تنفیذ (execution) کو ثابت نہ کیا جائے، بشرطیکہ وہ گواہ زندہ ہوں، عدالت کی عملداری میں ہوں، اور گواہی دینے کے اہل ہوں۔
حاشیہ گواہوں کی اہمیت
حاشیہ گواہ وہ افراد ہوتے ہیں جو کسی دستاویز پر دستخط کر کے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ متعلقہ فریق نے ان کے سامنے یہ دستاویز مکمل کی ہے۔ ان کی شہادت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دستاویز فریقین کی مرضی اور ہوش و حواس میں مکمل کی گئی ہے، اور کوئی جبر یا فریب شامل نہیں تھا۔ اس لیے حاشیہ گواہوں کی موجودگی دستاویز کی صحت اور سچائی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
عملی اثرات
عدالتیں اکثر ان معاملات میں آرٹیکل 79 پر عملدرآمد کو انتہائی سختی سے دیکھتی ہیں۔ اگر حاشیہ گواہ موجود نہ ہوں یا ان کی گواہی پیش نہ کی جائے، تو چاہے دستاویز کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو، اسے قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اسی اصول کا اعادہ حالیہ مقدمے اختر گل وغیرہ بمقابلہ محمد اشیق وغیرہ (2025 CLC 670) میں بھی کیا گیا، جہاں دستاویز کی تصدیق میں ناکامی کے باعث دعویٰ خارج کر دیا گیا۔
نتیجہ
قانون شہادت آرڈر 1984 کا آرٹیکل 79 حاشیہ گواہوں کی شہادت کو لازم قرار دے کر دستاویزی شہادت کے معیار کو محفوظ بناتا ہے۔ اس سے نہ صرف معاہدات کی سچائی ثابت ہوتی ہے بلکہ جھوٹی اور جعل شدہ دستاویزات کے خلاف ایک مضبوط قانونی رکاوٹ بھی قائم ہوتی ہے۔ وکلاء اور فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ تصدیق شدہ دستاویزات کے معاملات میں ہمیشہ حاشیہ گواہوں کی شہادت کا اہتمام کریں تاکہ ان کی دستاویزی شہادت قانونی طور پر قابل قبول بن سکے۔
Must read judgement
2025 CLC 670
In terms of Article 79 of the Qanun-e-Shahadat Order, 1984 if a document is required by law to be attested, it shall not be used as evidence until two attesting witnesses at least have been called for the purpose of proving its execution, if there be two attesting witnesses alive and subject to the process of the Court and capable of giving evidence.
Civil Revision-663-12
AKHTAR GUL ETC VS MUHAMMAD ASHIQ ETC
