شاملات زمین کی خرید و فروخت: ایک قانونی تجزیہ
تعارف
پاکستان کے دیہی علاقوں میں زمین کی خرید و فروخت ایک عام معاملہ ہے۔ تاہم، جب بات شاملات دیہہ یعنی گاؤں کی مشترکہ زمین کی آتی ہے، تو اس کی خرید و فروخت ایک خاص قانونی حیثیت رکھتی ہے۔ شاملات میں ہر زمیندار کا حصہ مخصوص اصولوں کے تحت طے ہوتا ہے اور اس کی منتقلی عام زمین کی طرح نہیں ہوتی۔
شاملات زمین کیا ہے؟
شاملات دیہہ ایسی زمین ہوتی ہے جو پورے گاؤں کے باشندوں کے مشترکہ استعمال کے لیے مخصوص ہو۔ اس میں راستے، چراگاہیں، تالاب، یا وہ زمین شامل ہو سکتی ہے جو کھیتی باڑی یا عوامی ضروریات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ بعض اوقات ان زمینوں میں ہر زمیندار کا ایک تخمینی حصہ موجود ہوتا ہے، مگر یہ فرداً فرداً علیحدہ ملکیت نہیں ہوتی۔
شاملات زمین کی خرید و فروخت کا اصول
قانون کے مطابق، اگر کوئی فرد اپنی ذاتی ملکیتی زمین فروخت کرے تو اس کے ساتھ شاملات میں اس کا حصہ خودبخود فروخت نہیں ہوتا۔
جب تک تصرف (Sale Deed یا Mutation) کی دستاویز میں واضح طور پر شاملات دیہہ کے حصے کی فروخت کا ذکر نہ ہو، خریدار شاملات کے حصے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
اہم عدالتی فیصلہ:
اللہ بخش بمقابلہ محمد حنیف (2025 CLC 572)
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے بارہا قرار دیا ہے کہ:
شاملات کا حصہ ایک الگ قانونی حق ہے۔
فروخت کی دستاویز میں اگر شاملات کا ذکر نہ ہو تو خریدار اس حصے پر قبضہ یا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
ریونیو ریکارڈ میں اگر غلطی سے کوئی اندراج ہو جائے تو اصل مالک کو بار بار دعویٰ کرنے کا حق حاصل رہتا ہے۔
قانونی حوالہ:
ویسٹ پاکستان ڈسپوزیشن (سیونگ اینڈ شاملات) آرڈیننس، 1959 کا سیکشن 3
لینڈ ریکارڈ مینول کے پیرا 7-19
عملی اثرات
خریدار کو زمین خریدتے وقت تصرف کے دستاویزات کو بغور دیکھنا چاہیے کہ آیا شاملات کا حصہ بھی منتقل ہو رہا ہے یا نہیں۔
فروخت کنندہ (بیچنے والا) کو اپنی نیت واضح کرنی چاہیے تاکہ بعد میں تنازع نہ ہو۔
ریونیو ریکارڈ میں غیر مستند اندراجات کے خلاف فوری کارروائی کرنا ضروری ہے۔
نتیجہ
شاملات زمین کی خرید و فروخت ایک نازک اور حساس معاملہ ہے۔ قانون واضح کرتا ہے کہ بغیر واضح تصریح کے شاملات کا حصہ منتقل نہیں ہوتا۔ لہٰذا زمین کی خرید و فروخت میں مکمل احتیاط اور درست قانونی رہنمائی لینا انتہائی ضروری ہے تاکہ بعد میں قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
2025 CLC 572
Section 3 of the West Pakistan Disposition (Saving & Shamlat) Ordinance, 1959 read with Para 7-19 of the Land Record Manual".
Sale of owned land in a village---
Share in the Shalmat land cannot be presumed as transferred unless specifically mentioned in the instrument of disposition.---
In the matters of unauthorized entries, every new entry in the revenue record creates afresh cause of action and aggrieved person of such entries has recurring cause of action.
Civil Revision 377-D-03
Allah Bakhsh VS
Muhammad Hanif
2025 CLC 572 ویسٹ پاکستان ڈسپوزیشن (سیونگ اینڈ شاملات) آرڈیننس 1959 کا سیکشن 3 لینڈ ریکارڈ مینول کے پیرا 7-19 کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ گاؤں میں ملکیتی زمین کی فروخت--- شاملات اراضی میں حصہ کو منتقلی تصور نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ تصرف کے دستاویز میں خاص طور پر ذکر نہ کیا جائے۔ غیر مستند اندراجات کے معاملے میں، ریونیو ریکارڈ میں ہر نئی اندراج ایک نئی وجہ پیدا کرتی ہے اور اس طرح کے اندراجات سے متاثرہ شخص کے پاس بار بار کارروائی کی وجہ ہوتی ہے۔ سول نظرثانی 377-D-03 اللہ بخش بمقابلہ محمد حنیف
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.