High Court Upholds Concurrent Findings: No Interference Under Section 115 C.P.C. – 2025 MLD 189

High Court Upholds Concurrent Findings: No Interference Under Section 115 C.P.C. – 2025 MLD 189.





مدعیان (وقار حسین شاہ و دیگر) نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ وہ متنازع زمین کے وارث اور قابض ہیں۔ دوسری جانب عبدالحمید نے دعویٰ کیا کہ زمین انہوں نے بیع ناموں کے ذریعے خریدی ہے۔


1. مقدمے کا تعارف

یہ مقدمہ ہائی کورٹ کراچی کے روبرو پیش ہوا، جس میں عبدالحمید درخواست گزار/اپیلنٹ اور وقار حسین شاہ مدعی/مقابل فریق تھے۔ مقدمہ سیکشن 42 و 54 اور سیکشن 115، سول پروسیجر کوڈ 1908 کے تحت دائر کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے ریویژن کی درخواست دائر کی تاکہ نچلی عدالتوں کے فیصلے کو چیلنج کیا جا سکے۔

2. فریقین اور پس منظر

مدعی/مقابل فریق نے دعویٰ کیا کہ وہ وراثت کی بنیاد پر متنازعہ زمین کے مالک اور قبضہ دار ہیں۔ دوسری جانب درخواست گزار نے اپنے حق میں بیچنے کے دستاویزات کی قانونی حیثیت اور درستگی کو ثابت کرنے کی کوشش کی، مگر نچلی عدالتوں نے ان کی دلیل کو قابل قبول نہیں سمجھا۔

3. مقدمے کی نوعیت

یہ مقدمہ اعلان اور روک تھام (declaration & injunction) سے متعلق تھا۔ مدعی نے یہ دعویٰ کیا کہ زمین ان کی وراثت میں شامل ہے اور وہ اس پر قانونی مالک ہیں، جبکہ درخواست گزار نے اس زمین پر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ریویژن کی درخواست دائر کی۔

4. ٹرائل کورٹ کا فیصلہ

ٹرائل کورٹ نے مقدمہ مدعی کے حق میں فیصلہ کیا اور درخواست گزار کے بیچنے کے دستاویزات کو مسترد کرتے ہوئے مدعی کو زمین پر مکمل حقوق دیے۔

5. اپیل کورٹ کا فیصلہ

درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، مگر لوئر اپیل کورٹ نے اپیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار مدعی کے حق میں زمین کی ملکیت یا بیچنے کے دستاویزات کی قانونی حیثیت کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

6. درخواست گزاروں کے دلائل برائے ریویژن

درخواست گزار نے ہائی کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ نچلی عدالتوں نے ثبوت کو غلط یا غیرمکمل انداز میں پڑھا یا حقائق کو مسخ کیا۔ ان کا استدلال تھا کہ عدالتیں سیکشن 115، C.P.C کے تحت ریویژن کی گنجائش استعمال کر سکتی ہیں۔

7. ہائی کورٹ کا تجزیہ

ہائی کورٹ نے تمام شواہد اور عدالتوں کے فیصلوں کا جائزہ لیا اور پایا کہ نچلی عدالتوں نے جو متوازی حقائق کے فیصلے دیے، وہ ثبوت کے مطابق معقول اور قابل قبول ہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کی دلیل کو مسترد کیا کہ نچلی عدالت نے ثبوت کو غلط پڑھا یا غیر مؤثر انداز میں لیا۔

8. قانونی اصولوں کا اطلاق

ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ سیکشن 115، C.P.C کے تحت ریویژن صرف اس صورت میں ممکن ہے جب نچلی عدالت کا فیصلہ واضح طور پر قانون کے بر خلاف یا انتہائی غلط ہو، جو اس کیس میں ثابت نہیں ہوا۔

9. نچلی عدالتوں کے متوازی حقائق کے فیصلے

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرائل اور اپیل کورٹ کے فیصلے متوازی حقائق پر مبنی ہیں اور دونوں عدالتوں نے جو نظر ثانی کی وہ ثبوت کی بنیاد پر درست اور معقول تھی۔

10. ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ

ہائی کورٹ نے ریویژن کو مسترد کرتے ہوئے نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے۔ اس طرح مدعی کے حق میں زمین کی ملکیت اور قبضہ کو قانونی تحفظ حاصل ہوا اور درخواست گزار کے دعوے کو مسترد کر دیا گیا۔

11. اہم قانونی نکات / سبق

نچلی عدالتوں کے متوازی حقائق کے فیصلے ہائی کورٹ میں نظر ثانی کے لیے کافی معقولیت رکھتے ہیں۔
ریویژن صرف اس صورت میں منظور ہوتی ہے جب نچلی عدالت کا فیصلہ صاف طور پر قانون کی خلاف ورزی ہو۔
وراثتی زمین کے مقدمات میں اثباتی ثبوت کا کردار اہم ہوتا ہے۔
بیچنے کے دستاویزات کی قانونی حیثیت ثابت کرنے میں ناکامی درخواست گزار کے حق میں فیصلہ کرتی ہے۔


Must read judgement 





Citation Name : 2025 MLD 189 KARACHI-HIGH-COURT-SINDH
Side Appellant : Abdul Hameed
Side Opponent : Waqar Hussain Shah
Ss. 42 & 54--- Civil Procedure Code (V of 1908), S. 115--- Suit for declaration and injunction--- Revisional jurisdiction--- Concurrent findings of facts by two Courts below--- Effect--- Respondents / plaintiffs claimed to be owners in possession of suit land on the basis of inheritance--- Trial Court decree d the suit in favour of respondents / plaintiffs and appeal filed by petitioners / defendants was dismissed by Lower Appellate Court, as they could not establish authenticity and legality of sale deeds in their favour---Validity---Petitioners / defendants were unable to demonstrate any misreading/non-reading of evidence or perversity in findings of fora below falling within the scope of S.115, C.P.C.--- High Court declined to interfere in judgments passed by two Courts below as view taken through concurrent findings was reasonable and sustainable on the basis of evidence on record--- Revision was dismissed, in circumstances



عنوان:

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: متفقہ شواہد پر دیے گئے فیصلوں میں نظرثانی کا اختیار محدود – 2025 MLD 189


---

تعارف:

سندھ ہائی کورٹ کراچی کے ایک اہم فیصلے 2025 MLD 189 میں عدالت نے یہ واضح کیا کہ اگر ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ دونوں نے شواہد کی بنیاد پر ایک جیسے اور معقول فیصلے دیے ہوں، تو ہائی کورٹ سیکشن 115 سی پی سی کے تحت صرف اس صورت میں مداخلت کرے گی جب کوئی واضح قانونی غلطی، شہادت کی غلط خوانی یا دائرہ اختیار کی خلاف ورزی سامنے آئے۔




حقائق کا خلاصہ:

مدعیان (وقار حسین شاہ و دیگر) نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ وہ متنازع زمین کے وارث اور قابض ہیں۔ دوسری جانب عبدالحمید نے دعویٰ کیا کہ زمین انہوں نے بیع ناموں کے ذریعے خریدی ہے۔


---

زیریں عدالتوں کے فیصلے:

ٹرائل کورٹ نے مدعیان کے حق میں فیصلہ سنایا، جبکہ عبدالحمید کی اپیل بھی خارج کر دی گئی کیونکہ وہ اپنے بیع نامے مستند اور قانونی طور پر ثابت نہ کر سکے۔


---

ہائی کورٹ میں نظرثانی:

عبدالحمید نے ہائی کورٹ میں دفعہ 115 سی پی سی کے تحت نظرثانی کی درخواست دائر کی، مگر وہ یہ ظاہر نہ کر سکے کہ زیریں عدالتوں نے شواہد کو غلط پڑھا یا کوئی قانونی خامی کی گئی ہو۔ چنانچہ ہائی کورٹ نے کہا کہ جب فیصلے معقول اور شواہد کی بنیاد پر ہوں تو مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یوں نظرثانی کی درخواست خارج کر دی گئی۔


---

منفرد قانونی نکتہ:

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ ہائی کورٹ صرف اس وقت مداخلت کرے گی جب کوئی بڑی قانونی خامی یا انصاف کی واضح خلاف ورزی ہو۔ صرف فیصلے سے اختلاف کافی نہیں۔


---

نتیجہ:

2025 MLD 189 ایک اہم نظیر (precedent) ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ دفعہ 115 سی پی سی کے تحت نظرثانی کا دائرہ کار محدود ہے، اور زیریں عدالتوں کے فیصلے اگر معقول ہوں تو اُن میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post