Ex-Parte Decree Set Aside Due to Defective Service – PLD 2025 Karachi 53
عنوان: سمری ٹرائل میں سمن کی خامی پر یکطرفہ ڈگری کالعدم – ممتاز حسین صدیقی بنام محمد طاہر (PLD 2025 Karachi 53)
تعارف:
سمری ٹرائل کے مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے فوری کارروائی کا مقصد انصاف کو تیز رفتار بنانا ہوتا ہے، لیکن یہ تیز رفتاری کبھی کبھار کسی فریق کے بنیادی حقوق کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ "ممتاز حسین صدیقی بنام محمد طاہر" کیس میں سامنے آیا، جسے سندھ ہائی کورٹ نے تفصیل سے جانچا اور اہم اصول وضع کیے۔
پس منظرِ مقدمہ:
محمد طاہر نے ممتاز حسین صدیقی کے خلاف آرڈر XXXVII رولز 2 اور 3 کے تحت رقم کی بازیابی کا دعویٰ دائر کیا۔ چونکہ یہ مقدمہ سمری ٹرائل کے زمرے میں آتا تھا، اس لیے مدعا علیہ کو دفاع کرنے کے لیے 10 دن میں Leave to Defend داخل کرنا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے سمن کو درست قرار دے کر، مدعا علیہ کی عدم حاضری پر یکطرفہ ڈگری جاری کر دی۔ بعد ازاں، ممتاز حسین صدیقی نے یہ مؤقف اپنایا کہ اسے مناسب طریقے سے سمن نہیں ہوا، اور اس نے آرڈر IX رول 13 اور سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت ٹرائل کورٹ میں درخواست دائر کی تاکہ ڈگری کو کالعدم قرار دیا جا سکے۔ تاہم، ٹرائل کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
ہائی کورٹ کا مشاہدہ:
سندھ ہائی کورٹ نے اس مقدمے کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور فیصلہ دیا کہ سمن کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے، کیونکہ جس دن سمن کو درست قرار دیا گیا، اسی دن عدالت نے مدعی کو کورئیر رسیدیں اور Acknowledgment Due پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔ اس تضاد نے یہ ثابت کیا کہ سمن کی تصدیق میں عدالت نے مکمل احتیاط نہیں برتی۔
فیصلہ:
ہائی کورٹ نے نہ صرف ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ یکطرفہ ڈگری کو کالعدم قرار دیا، بلکہ مدعا علیہ کو 10 دن کے اندر Leave to Defend داخل کرنے کی اجازت بھی دی۔ اس فیصلے سے یہ اصول سامنے آیا کہ سمن کی درستگی صرف کاغذی کارروائی پر نہیں، بلکہ واضح اور تصدیق شدہ ثبوت پر مبنی ہونی چاہیے۔
قانونی نکتہ:
یہ کیس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سمری ٹرائل میں بھی منصفانہ سماعت کا اصول قائم رہنا چاہیے۔ اگر مدعا علیہ کو سمن کی درست اور مکمل ترسیل نہ ہو تو اسے دفاع سے محروم کرنا انصاف کے بنیادی تقاضوں کے خلاف ہے۔
نتیجہ:
"ممتاز حسین صدیقی بنام محمد طاہر" کیس پاکستانی عدالتی نظیروں میں ایک اہم اضافہ ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ تیز رفتار انصاف کے ساتھ ساتھ فریقین کو سننے کا حق بھی مقدم ہے۔ اس فیصلہ سے خاص طور پر وکلا، عدالتی اہلکاروں اور سمن کی سروس کے طریقہ کار سے متعلق افراد کو سبق حاصل کرنا چاہیے
Must read Judgement
Citation Name : 2025 PLD 53 KARACHI-HIGH-COURT-SINDH
Side Appellant : MUMTAZ HUSSAIN SIDDIQUI
Side Opponent : MUHAMMAD TAHIR
O. XXXVII, Rr. 2 & 3---Suit for recovery---Summary trial---Application for leave to defend, filing of---Limitation---Specified time of 10 days---Scope---Service upon the defendant---Trial Court, responsibility of---On failure of the defendant to file leave to defend application, the Trial Court passed ex-parte judgment and decree ; later, Trial Court dismissed the defendant's application under O. IX, R. 13, C.P.C. read with S. 12(2), C.P.C. seeking setting aside of the original judgment and decree ---Validity---In the present case, according to the relevant diary (order) sheet, the service upon the appellant/defendant, based on the report of bailiff, was held good by the Trial Court---However, simultaneously and paradoxically, in the same order (date on which service was held good) as well as on the following date (which was also the date on which the appellant was barred from filing Leave to Defend application and his defence was struck off), the Trial Court directed the respondent/plaintiff to file courier receipts and acknowledgment of delivery ("AD")---Thus, it was apparent that the Trial Court considered the service as valid despite the absence of essential documents (like courier receipts and AD)---Said anomaly raised significant concerns and called into question the thoroughness and reliability of the Trial Court's evaluation of service validity---High Court set-aside the ex-parte impugned judgment and decree and the dismissal order of the appellant's application (seeking setting aside of the original impugned judgment and decree ) with the direction that the appellant shall file his leave to defend application in the suit within ten (10) days from today---Appeal, filed by defendant, was allowed accordingly.
Ex-Parte Decree Set Aside Due to Defective Service – PLD 2025 Karachi 53
