Challenging Court Decrees for Fraud or Misrepresentation: Lahore High Court Ruling on Section 12(2) CPC.
چیلنج کرنا عدالت کے فیصلوں کو دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر: لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ دفعہ 12(2) سی پی سی کے حوالے سے
عدالتوں کے فیصلے ہمارے قانونی نظام کی بنیاد ہیں اور یہ فیصلہ ہمارے حقوق، فرادیوں، اور ذاتی مفادات کی حفاظت کے لیے کیے جاتے ہیں۔ تاہم، بعض اوقات ایسے فیصلے دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں، جس سے متاثرہ افراد کو اپنے حقوق کا تحفظ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایسے معاملات میں اہم فیصلہ دیا ہے کہ کس طرح متاثرہ افراد سی پی سی کی دفعہ 12(2) کے تحت عدالت کے فیصلوں کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
دفعہ 12(2) سی پی سی کی تشریح
سی پی سی کی دفعہ 12(2) ایک اہم قانونی پہلو ہے جو کسی بھی شخص کو عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اختیار دیتا ہے، بشرطیکہ وہ فیصلہ دھوکہ دہی، غلط بیانی یا دائرہ اختیار کی کمی کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہو۔ اس دفعہ کا مقصد متاثرہ افراد کو یہ حق دینا ہے کہ وہ کسی بھی غلط یا بے بنیاد فیصلے کو چیلنج کریں۔
"شخص" کی تعریف
لاہور ہائیکورٹ نے اس دفعہ میں "شخص" کی تعریف کو وسیع کیا۔ عدالت نے کہا کہ اس اصطلاح کا مفہوم صرف فریق مقدمہ یا اس کے جانشین تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے جسے اس فیصلے سے نقصان پہنچا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ افراد بھی اس درخواست کو دائر کر سکتے ہیں جو مقدمے کا براہ راست حصہ نہ ہوں، بشرطیکہ وہ اس فیصلے سے کسی نہ کسی طریقے سے متاثر ہوں۔
دھوکہ دہی یا غلط بیانی
لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ دفعہ 12(2) صرف ان معاملات تک محدود نہیں ہے جہاں عدالت کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہو، بلکہ یہ ان معاملات میں بھی لاگو ہوتی ہے جہاں فریقین نے آپس میں جھوٹ بول کر یا چھپے ہوئے حقائق کو چھپایا ہو تاکہ ایک غیر منصفانہ فیصلہ حاصل کیا جا سکے۔
فیملی کورٹ میں درخواست کی اجازت
عدالت نے اس اہم نکتہ کو بھی تسلیم کیا کہ فیملی کورٹ میں دفعہ 12(2) کے تحت درخواست دائر کی جا سکتی ہے، حالانکہ دفعہ 17 فیملی کورٹ کی حدود میں کچھ پابندیاں عائد کرتی ہے۔ ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ قانونی سقم نہیں ہے اور متاثرہ شخص فیملی کورٹ میں بھی درخواست دائر کر سکتا ہے۔
آئینی درخواست کی منظوری
ہائیکورٹ نے آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ اگر کسی بھی فیصلے میں دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر نقصانات ہوئے ہیں، تو وہ شخص عدالت سے انصاف حاصل کرنے کے لیے دفعہ 12(2) کے تحت درخواست دائر کر سکتا ہے۔
نتیجہ
یہ فیصلہ متاثرہ افراد کے لیے ایک اہم قانونی نکتہ ہے جو دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر دیے گئے فیصلوں کو چیلنج کرنے کے خواہش مند ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے اس کیس کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ ہمارے قانونی نظام میں صاف گوئی اور انصاف کا تحفظ ضروری ہے اور ایسے فیصلے جو کسی بھی شخص کے حقوق کو متاثر کرتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کرنے کا قانونی حق ہر فرد کو حاصل ہے۔
Must read judgement
Citation Name : 2025 PLD 249 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : Mst. MISBAH IFTIKHAR
Side Opponent : Mst. ALEESA
S. 17---Civil Procedure Code (V of 1908), S.12(2)---decree passed by the appellate court challenged through application under S.12(2), C.P.C.---Maintainability---"Person" competent to file application under S.12(2)---Scope---By virtue of S.12(2), C.P.C., any person can challenge the validity of judgment, decree or order on the plea of fraud, misrepresentation or want of jurisdiction by filing an application to the court which passed the final judgment, decree or order---Term "person" used in S. 12(2) has wider import and cannot be narrowly interpreted, so as to restrict it to refer to only a judgment debtor or his successors but it should be read to include any person adversely effected even though not a party to the proceedings wherein such decree , judgment or order is passed---Scope of S.12(2), C.P.C., is not narrow but wide enough and it is not restricted to the judgment, decree or order obtained while playing fraud with the court but it also extends to the cases where a judgment, decree or order has been obtained by the parties through fraud inter se by concealment of true facts---Despite an embargo in terms of S.17 of the Act there is no legal impediment in the way of an aggrieved person moving an application under S.12(2), C.P.C., before the Family Court---Constitutional petition was allowed, in circumstances.
