G-KZ4T1KYLW3 Unregistered Hiba accepted by Supreme Court

Unregistered Hiba accepted by Supreme Court

Unregistered Hiba accepted by Supreme Court.  

Unregistered Hiba accepted by Supreme Court  

سپریم کورٹ کا فیصلہ: اسلامی قانون کے تحت ھبہ اور اس کی قانونی حیثیت


سپریم کورٹ آف پاکستان نے حالیہ فیصلے (2024 SCMR 916) میں ایک اہم اصول وضع کیا ہے کہ اسلامی قانون کے تحت ھبہ (Gift) کی قانونی حیثیت پر ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ، 1882 کے سیکشن 123 اور 129 کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کیس میں Mst. Farzana Zia نے Mst. Saadia Andaleeb کے خلاف دعویٰ دائر کیا تھا، جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ متنازعہ جائیداد کا ھبہ درست طور پر مکمل نہیں ہوا اور اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

ھبہ پر اعتراضات اور عدالت کا مؤقف


مدعیہ (Mst. Farzana Zia) نے ھبہ کو چیلنج کرتے ہوئے درج ذیل اعتراضات اٹھائے:

1. ھبہ دباؤ یا ناحق اثر و رسوخ کے تحت لیا گیا تھا۔


2. ھبہ میں اسلامی قانون کی بنیادی شرائط (ایجاب، قبولیت اور قبضہ) پوری نہیں ہوئیں۔


3. چونکہ ھبہ رجسٹر نہیں تھا، اس لیے وہ قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔



تاہم، سپریم کورٹ نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اسلامی قانون میں ھبہ کی تکمیل کے لیے رجسٹریشن ضروری نہیں، بلکہ صرف تین شرائط ایجاب، قبولیت اور قبضہ کا مکمل ہونا کافی ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ


عدالت نے درج ذیل نکات کی وضاحت کی:

1. ھبہ ایک اسلامی قانونی تصور ہے، جو ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ، 1882 کے تابع نہیں۔


2. ھبہ کے لیے تین بنیادی شرائط (ایجاب، قبولیت اور قبضہ) پوری ہوں، تو وہ معتبر ہوگا۔


3. اگر کوئی شخص اپنی جائیداد کسی کو ھبہ کر چکا ہو اور وہ شرعی اصولوں کے مطابق مکمل ہو، تو اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ دھوکہ، جبر یا ناحق اثر و رسوخ ثابت نہ ہو۔


4. ھبہ رجسٹر ہو یا نہ ہو، اس کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ اسلامی قانون میں اس کی ضرورت نہیں۔



نتیجہ


یہ فیصلہ اسلامی قانون کے تحت ھبہ کی حیثیت کو مزید مضبوط کرتا ہے اور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ھبہ کو چیلنج کرنے کے لیے مضبوط شواہد درکار ہوتے ہیں، محض رجسٹریشن نہ ہونا اسے کالعدم قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ اس فیصلے سے مستقبل میں ھبہ سے متعلق قانونی تنازعات میں رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے، اور یہ جائیداد کی منتقلی کے شرعی اصولوں کو مستحکم کرنے میں معاون ہوگا۔

Must read judgement 

Citation Name : 2024 SCMR 916 SUPREME-COURT Side Appellant : Mst. FARZANA ZIA Side Opponent : Mst. SAADIA ANDALEEB Ss. 123 & 129---Islamic law---Gift---Scope and principles---Transfer of Property Act, 1882, has no application to the gift envisioned and encapsulated under the Muslim Law and for this reason, Sections 123 and 129 of the Transfer of Property Act can neither surpass nor outweigh or preponderate the matters of gifts contemplated under the Muslim Law---However, the donor should be of sound mind and understand the legal implications of making the gift, free from any coercion, duress, or undue influence---Under the Muslim Law, the constituents of a valid gift are tender, acceptance, and possession of property---Muslim can devolve his property under Muslim Law by means of inter vivos (gift) or through testamentary dispositions (will)---Islamic law does not make any distinction between movable or immovable property regarding the conception of gift, rather any property may be gifted by any person having ownership and dominion over the property intended to be gifted on fulfilling requisite formalities


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post