Protection of Minor's Property: Supreme Court Ruling in 2024 SCMR 1271.
![]() |
Citation Name : 2024 SCMR 1271 SUPREME-COURT |
نابالغ کی جائیداد کا تحفظ: سپریم کورٹ کا فیصلہ 2024 SCMR 1271
تعارف:
پاکستانی قانون، خاص طور پر مسلم پرسنل لا، نابالغوں کے حقوق کے تحفظ پر خاص زور دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے 2024 SCMR 1271 میں اسی اصول کو واضح کیا گیا کہ کسی نابالغ کی غیر منقولہ جائیداد غیر سرکاری ولی (De Facto Guardian) فروخت یا منتقل نہیں کر سکتا، اور اصولِ استثنا (Estoppel) بھی اس پر لاگو نہیں ہوتا۔
کیس کی تفصیلات:
- فریقین:
- اپیل کنندہ: مسز نظیراں (Mst. Nazeeran)
- مخالف فریق: علی بخش (Ali Bux)
- قانونی نکتہ:
- غیر سرکاری ولی کے ذریعے نابالغ کی جائیداد کی فروخت یا منتقلی غیر قانونی ہے۔
- نابالغ اس معاہدے کا پابند نہیں ہوگا، چاہے دوسرا فریق دعویٰ کرے کہ ولی نے جائیداد اپنی مرضی سے دی تھی۔
عدالت کا فیصلہ:
عدالت نے اس بات کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ:
- مسلم قانون کے تحت غیر سرکاری ولی نابالغ کی جائیداد نہیں بیچ سکتا۔
- اصول استثنا (Estoppel) لاگو نہیں ہوتا، یعنی نابالغ پر اس معاہدے کی کوئی قانونی پابندی نہیں ہوگی۔
قانونی اثرات:
یہ فیصلہ نابالغوں کے جائیداد کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور جائیداد ہتھیانے والے افراد کے خلاف ایک مضبوط قانونی نظیر قائم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نابالغ کی جائیداد غیر سرکاری ولی کے ذریعے بیچی گئی ہو، تو نابالغ یا اس کا قانونی سرپرست اسے کسی بھی وقت چیلنج کر سکتا ہے۔
نتیجہ:
یہ کیس مسلم پرسنل لا کے ایک بنیادی اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ نابالغ کے حقوق کو کسی بھی غیر قانونی معاہدے یا عمل سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے تمام معاملات میں ایک نظیر کے طور پر کام کرے گا، جہاں نابالغوں کی جائیدادوں کو غیر قانونی طور پر منتقل کیا جا رہا ہو۔
