G-KZ4T1KYLW3 Takharuj in Islamic Inheritance Law: A Legal Perspective"

Takharuj in Islamic Inheritance Law: A Legal Perspective"

Takharuj in Islamic Inheritance Law: A Legal Perspective.

"Takharuj in Islamic Inheritance Law: A Legal Perspective"

پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ تخارج (Takharuj) کا تصور درحقیقت ایک تصالح (معاہدہ/مصالحہ) ہے، جس میں کوئی وارث اپنی وراثتی جائیداد کے کسی مخصوص حصے پر راضی ہو کر باقی حق سے دستبردار ہو جاتا ہے۔**

تعارف

پشاور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ تخارج (Takharuj) کے تصور کو اسلامی قانونِ وراثت کی روشنی میں واضح کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ تخارج کب اور کس طرح مؤثر ہو سکتا ہے۔ یہ ایک نہایت اہم اور Must Read Judgment ہے۔

تخارج کا مفہوم

عدالت کے مطابق تخارج کے لغوی معنی ہیں الگ ہونا یا دستبردار ہونا۔ چونکہ وراثت ایک لازمی حق ہے جس سے اصولاً انکار ممکن نہیں، اس لیے ورثاء باہمی رضامندی سے اپنے حصص میں رد و بدل کر سکتے ہیں۔

تخارج بطور صلح (تسالح)

اسلامی قانون کے تحت تخارج کو صلح (Sulh / Tasaluh) کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ اس میں کوئی وارث اپنی مکمل وراثتی حصے کا مطالبہ ترک کر کے کسی مخصوص حصے یا مال پر راضی ہو جاتا ہے، اور یوں دوسرے ورثاء کے حق میں خود کو الگ کر لیتا ہے۔

تخارج اور ھبہ کا تعلق

عدالت نے واضح کیا کہ تخارج دو حوالوں سے ھبہ (Gift) کی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ ایک یہ کہ جو وارث دستبردار ہوتا ہے، وہ اپنے باقی حصے کو دوسرے ورثاء کے حق میں ھبہ کرتا ہے، جو شرعی طور پر ھبہ کے اصولوں کے تابع ہوتا ہے۔

تخارج کا درست وقت

عدالت نے صراحت کی کہ تخارج تقسیمِ وراثت کے وقت ہونا چاہیے، تاکہ پہلے ہر وارث اپنے شرعی حصے کا قبضہ حاصل کرے۔ اس کے بعد اگر کوئی وارث مکمل یا جزوی دستبرداری اختیار کرے تو وہ قانونی و شرعی طور پر مؤثر ہو سکتی ہے۔

مشاع جائیداد میں تخارج

عدالت نے قرار دیا کہ مشاع (Undivided) جائیداد میں تخارج قابلِ عمل نہیں، کیونکہ ھبہ کے لیے قبضہ ایک بنیادی شرط ہے، اور مشاع جائیداد میں قبضہ متعین نہیں ہوتا۔

اسلامی قانون کی روشنی میں تشریح

فیصلے میں تخارج کو اسلامی قانونِ وراثت، صلح اور ھبہ کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار واضح کیا گیا، تاکہ عملی تنازعات میں اس کا درست اطلاق ممکن ہو سکے۔

نتیجہ

پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ تخارج نہ تو محض زبانی دستبرداری ہے اور نہ ہی تقسیم سے پہلے مؤثر ہو سکتا ہے۔ یہ تبھی معتبر ہوگا جب مکمل تقسیم کے بعد، قبضہ کے ساتھ، شرعی اصولوں کے مطابق عمل میں آئے۔
یہ فیصلہ وراثتی معاملات میں تخارج کے تصور کو سمجھنے کے لیے ایک اہم عدالتی نظیر ہے۔

عدالت نے مزید وضاحت کی کہ:


تخارج کا عمل تقسیم وراثت کے وقت ہونا چاہیے تاکہ ہر وارث اپنے حصے کا قبضہ حاصل کر سکے۔

اگر کوئی وارث اپنے حصے سے مکمل یا جزوی طور پر دستبردار ہو جائے، تو یہ دوسرے ورثاء کے حق میں ھبہ (Gift) شمار ہوگا۔

مشاع جائیداد (Undivided Property) میں تخارج کا اطلاق نہیں ہو سکتا جب تک کہ مکمل تقسیم عمل میں نہ آ جائے، کیونکہ ھبہ کے لیے قبضہ ضروری شرط ہے۔


عدالت نے اس فیصلے میں تخارج کو اسلامی وراثتی قوانین کی روشنی میں صلح اور ھبہ کے اصولوں سے جوڑ کر اس کا دائرہ کار واضح کیا۔

Must read judgement 


Citation Name : 2024 CLC 1705 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : ATTA-UR-REHMAN
Side Opponent : Mst. GHULAM BIBI
nheritance---Takharuj, concept of---Meanings---Literal meaning of takharuj is to exclude; to abort---Given the obligatory nature of the right of inheritance which carves out no room for refusal, inheritors may distribute their respective shares in an amicable manner---In the process, an inheritor may agree to take a specific portion or kind of the inherited property and give a part or other kind to other inheritors---Having stepped down, such an inheritor stands excluded---This is called takharuj---In this perspective, the exclusion amounts to compromise (sulh) and takharuj becomes tasaluh.---In Islamic Law of inheritance , takharuj could be understood as tasaluh (sulh or compromise on something)---Takharuj as tasaluh comes into play in a situation where one of the legal heirs of a propositus voluntarily agrees on something specific from the pool of the inherited property and does not press for his/her whole share---Takharuj assumes the status of a gift in two ways---Firstly, the property from which one inheritor will stand excluded will be that of a gift of his/her remaining property to other inheritors---Takhuruj has to take place at the time of distribution by means of partition of the entire legacy, so that each inheritor is able to get possession of his/her due share first---Gift of an undivided property (musha'a) is not valid as delivery of possession is one of its essential 

Elements.



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post